ہار جیت اور نشیب وفراز سمجھتا ہوں، مجھ سے زیادہ کسی نے ہار جیت نہیں دیکھی، عمران خان
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جمہوریت اور اظہاررائے کا حامی ہوں، جس رکن کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ ابھی کھل کر اظہارکرے، آپ ضمیر کی آواز ووٹ دیں اگر میں غلط ہوں تو میرا ساتھ بیشک چھوڑ دیں، ہار جیت اور نشیب وفراز سمجھتا ہوں اور مجھ سے زیادہ کسی نے ہار جیت نہیں دیکھی ہر مشکل سے سرخرو ہو کر نکلا ہوں،جن لوگوں نے ووٹ بیچے ہیں ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے،وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلہ پر ارکان کو اعتماد میں لیا،پی ٹی آئی ارکان نے اجلاس میں وزیراعظم کے حق میں نعرے لگائے اجلاس کے دوران خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ارکان جذباتی ہوگئے اور کہا کہ وزیر اعظم صاحب حلقہ ہم سنبھالیں گے آپ اپنے مقصد پرڈٹے رہیں۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ لینے کے حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی اور اراکین کو ہر صورت میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران حکومتی و اتحادی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کا شکر گزارہوں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، زندگی میں مجھ سے زیادہ ہار جیت کسی نے نہیں دیکھی اور مجھ پر کوئی نہ کوئی مشکل آتی رہی ہے لیکن ہر مشکل سے سرخرو ہو کر نکلا ہوں۔انہوں نے کہاکہ جس رکن کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ ابھی کھل کر اظہارکرے، میں اس کی بھی قدر کروں گا کیونکہ اظہار رائے ہر ایک کا حق ہوتا ہے اور جمہوریت اور اظہاررائے کا حامی ہوں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے 16ارکان نے پیسے لے کرسینیٹ میں ہمارے ساتھ دھوکہ کیا کیونکہ پیسے لے کر ووٹ دینا بدنیتی ہے۔وزیراعظم نے اراکین سے کہا کہ آپ ضمیر کی آواز ووٹ دیں اگر میں غلط ہوں تو میرا ساتھ بیشک چھوڑ دیں۔وزیراعظم نے کہاکہ عوام نے ووٹ کی امانت دے کر ہم سب کو ایوان میں بھیجا اور ہمیں عوام کی امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے اور عوام کی امانت کا سودا نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہار جیت اور نشیب وفراز سمجھتا ہوں اور مجھ سے زیادہ کسی نے ہار جیت نہیں دیکھی مگر ہر مشکل کا ڈٹ کا مقابلہ کیا اور ہر مشکل میں سرخرو ہوا ہوں۔انہوں نے کہاکہ ملک کو لوٹنے والے سارے چور میرے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں تاہم میں بھی ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پیسے لیکر ضمیر بیچے گئے جس کے باعث حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو سینٹ الیکشن میں شکست ہوئی اور جن لوگوں نے ووٹ بیچے ہیں ان کیخلاف کارروائی ہوگی۔اجلاس کے دوران تحریک انصاف نے اپنے اراکین کو صبح ناشتے پر مدعو بھی کیا اورپارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں ناشتہ کل پارلیمنٹ ہاوس میں دیا جائے گا،تمام ارکان دس بجے ناشتے پر پارلیمنٹ ہاوس پہنچیں گے۔ارکان کو 12 بجے تک ایوان میں پہنچنے کی ہدایت کر دی۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ اجلاس میں وزیراعظم اور پرویز خٹک نے بڑی کھل کر بات کی اور کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں لیکن اس وقت جس حالت میں ملک کھڑا ہے جہاں اخلاقی اقدار کو پامال کیا جارہا ہے اور سینیٹ میں جو بھی آتا ہے وہ پیسے کے زور پر آتا ہے ہم نے اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے جو بھی عملی اقدامات لئے وہ سب کے سامنے ہیں، اگر ہمارا موقف مان لیا جاتا تو سینیٹ الیکشن کے بعد آج جو باتیں ہورہی ہیں وہ نہ ہوتیں،اگر اپوزیشن منافقت نہ دکھاتی تو الیکشن شفاف ہوتے،اپوزیشن نے ماضی میں میثاق جمہوریت میں صاف و شفاف الیکشن کرانے کا وعدہ کیا تھا مگر جب سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کا ہم نے کہا تو وہ الٹے ہو گئے اور منافقت کی سیاست شروع کردی کیونکہ ان کی سیاست ذاتی مفادات اور پیسے کے گرد گھومتی ہے اوراسی کلچر نے پھر پورے نظام کو خراب کرنے کی طوالت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو پیسے کے ذریعے ایوان میں آتے ہیں وہ اپنے ذاتی مفادات کا خیال رکھتے ہیں ان کو عوام کی فکر نہیں ہوتی، وہ لوگ جو پیسہ لگاتے ہیں اسے سود سمیت وصول کرتے ہیں اور یہ پیسہ عوام کی جیبوں سے نکلتا ہے۔اگر اس ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت نے جڑیں پکڑنی ہیں تو ہمیں ایسا طریقہ کار اختیارکرنا ہوگا اور ایسی اصلاحات کرنی ہوں گے تاکہ الیکشن پر کوئی سوالات نہ اٹھیں۔انہوں نے کہاکہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان نے صاف و شفاف الیکشن کیلئے جو جدوجہد شروع کی تھی اس کی مخالف وہ لوگ مخالفت کررہے ہیں جنہوں نے چھانگا مانگا کی سیاست کی اور چھانگا مانگا کی سیاست میں لوگوں کو خریدا اور بیچا اور پھر 1985 کی سیاسی پیداوار جس میں نوازشریف سرفہرست ہیں انہوں نے لوگوں کو پلاٹ دینے، پیسے دینے کی سیاست اور مختلف قسم کے خرید وفروخت کے ہربے استعمال کیے جس کی وجہ سے ہماری جمہوریت کونقصان پہنچا اور ملک کو نقصان پہنچا ہے جو آج تک جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے دوران جو شرکت نہیں کرے گا اس کی قانون کے مطابق رکنیت معطل کردیں گے اور یہی ملک کا آئین بھی کہتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اعتماد کے ووٹ کے دوران تمام اراکین حاضر ہوں گے اور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے، وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا اخلاقی اور جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے تاہم باقی پارٹیوں نے ہمارے اخلاقیات کو بگاڑا اور معاشرے کو تباہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی پارٹی کا نشان شیر ہو اور اس کے عمل گیڈروں والے ہوں تو ان جیسے لوگ اخلاقی طورپر اعتماد کا ووٹ لینے کی جرات نہیں ہوتی بلکہ لندن اور سعودی عرب بھاگ جاتے ہیں، ہمارا لیڈر اپنی جگہ پر غیرمتزلزل ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ اصولوں پرکھڑے ہیں اور اگر عمران خان اپوزیشن میں بیٹھے ہوں یا حکومت میں ہوں ان لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ملک کو لوٹا اور نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ اجلاس میں نے اراکین میں بہت ایک نیا جذبہ دیکھا اور اراکین نے وزیراعظم کے نعرے بھی لگائے اور اراکین بڑے پرجوش تھے اور وہ اپنی ذمہ داری پوری طرح سے نبھائیں گے۔ہمیں ق لیگ اور ایم کیوایم سمیت کسی سے کوئی پریشانی نہیں ہے، ان سب کے تحفظات ہم دور کریں گے، اتحادیوں نے ہر جگہ پر ہمیں سپورٹ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 175سے زائد ممبران اجلاس میں موجود تھے اور آج ہفتے کو آپ نتائج دیکھ لیں گے۔


