کیاہونا چاہئے؟
جوہو رہا ہے؟تکلیف دہ اور ناقابل رشک ہے۔اگلے روز نون لیگ کے قائدین اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان جس قسم کی نعرے بازی اور دھکم پیل ہوئی،نہیں ہونی چاہیئے تھی۔جو مناظر ٹی وی پر دکھائے گئے انہیں دیکھ کرعام آدمی کو کوئی خوشی نہیں ہوئی۔عام آدمی اس ہلڑ بازی سے تنگ آ گیا ہے۔ وہ ملک میں شائستہ اور مہذب سیاست دیکھنا چاہتا ہے۔ مخالفین کی جانب جوتے اچھالنا غیر مہذب رویہ ہے۔مخالفین کو ایمبولینس میں بھیجنے کے دعوے بھی تہذیب اور شرافت کے زمرے میں نہیں آتے۔ یہ دعویٰ کرنے والی شخصیت اگر سابق وزیر اعظم ہو تو عام آدمی کی تشویش دو چند ہوجاتی ہے۔سینیٹ کی سیٹ خریدی گئی،یہ کوئی راز نہیں۔ ایم این ایز بکے، دکھ کی بات ہے۔دونوں کام قانون کی زبان میں corrupt practicesکہلاتے ہیں۔قانون کو حرکت میں آنا چاہیئے تھا، نہیں آیا، برا ہوا۔ قانون اپنی آنکھیں بندکرلے تو مجرم سینہ تان کر کہتا ہے کسی میں مجال نہیں کہ میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔یہ سلسلہ اب رکنا چاہیئے۔بہت پہلے رکنا چاہیئے تھا مگر نہیں روکا گیا۔اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کا نقصان عوم آدمی کو پہنچتا ہے۔سارے ٹیکس عام آدمی ادا کرتاہے۔سیاست کی آخری منزل پارلیمنٹ تک رسائی ہے۔جمہوریت کی تعریف ہر گزرتے روز اپنی کشش کھو رہی ہے۔ سیاست دان مانیں یا نہ مانیں انہیں سوچنا ہوگا کہ جب سیاست اپنی کشش سے محروم ہو جائے گی تو وہ کہاں جائیں گے؟ ایوان کے اندر اور باہر گالم گلوچ کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔اس ایوان کا خرچ بھی پاکستان کے مسائل زدہ شہری ادا کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 8 ماہ میں قومی اسمبلی کے اراکین پر 81کروڑ43لاکھ77ہزار56روپے خرچ ہوئے۔سادہ لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر مہینے قومی اسمبلی کے اراکین کا خرچ 10 کروڑ 17 لاکھ 97 ہزارایک سو 32روپے رہا۔ کیاسیاستدان جانتے ہیں کہ یہ بھاری اخراجات عام آدمی کی جیب سے ادا کیا جاتا ہے؟سیاست صرف ایک زہریلی مخالفت اور مخاصمت کانام نہیں،کہ اپنے مخالف کو 24گھنٹے صرف اور صرف برے القاب سے نوازاجائے۔سیاست میں دو ہی خانے ہیں،حکومت کرنایا اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھنا۔تیسرا کوئی خانہ نہیں۔لیکن ہردو جگہ ہوتے ہوئے سیاست کامحور عوام کی فلاح ہواکرتی ہے۔پاکستان ان بد نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں عوام کی خوشحالی کو نظر انداز کیاجاتا ہے۔آدھی آبادی بلکہ اس بھی کچھ زائد خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ 11 کروڑ سے زائد پاکستانی غربت، بیماری، جہالت،اوربیروزگاری میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ بہت بڑا عذاب ہے۔وزیراعظم عمران خان کواپنے ہی ایم این ایز اورایم پی ایز کی کھلی ناراضگی جو بغاوت کو چھورہی ہے، اہمیت دینی چاہیئے۔سوچنا چاہیئے کہ اعتماد کا ووٹ لینے کی مجبوری کیوں پیش آئی؟انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اپوزیشن کوعوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر کسی باز پرس کاسامنا نہیں کرنا پڑتا۔ان سے عوام نہیں پوچھتے کہ گلی گلی کچرے کے ڈھیر کیوں لگے ہیں؟ جگہ جگہ گٹرکیوں ابل رہے ہیں؟سڑکوں پر گندے پانی کے دریا کیوں بہہ رہے ہیں؟پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے بچوں اورعورتوں کو میلوں دور کیوں جاناپڑتا ہے؟ان کودہلیز پرفراہم کیوں نہیں کیا جاتا؟اسکول کیوں ویران پڑے ہیں؟اساتذہ کی کمی کیوں ہے؟ ان سوالوں کا جواب برسراقتدارایم این ایز اور ایم پی ایز کودیناپڑتا ہے۔وہ عوام میں رہتے ہیں۔عوام کے مسائل حکومت حل کرتی ہے۔ اپوزیشن ان مسائل کی نشان دہی کرتی ہے۔ بجلی مہنگی ہونے پر عوام کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔پیٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو عام آدمی کے لئے مہینہ گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔بچوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی فراہم کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔مگر یہاں لاکھوں ٹن گندم اور چینی درآمد کی جاتی ہے،اس غلط روش کی روک تھام کیوں نہیں کی جاتی؟ پی ٹیآئی کیدور حکومت میں آٹا چوروں، چینی چوروں کے خلاف انکوائری ہوئی، رپورٹ آگئی،مگر کسی آٹا چور،چینی چور کوسزانہیں دی گئی۔ اپوزیشن ان مسائل کواجاگر کرتی ہے،کرتی رہے گی۔حل کرنے کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی حکومت کے کندھوں پر ہے۔پنجاب کے سینیٹ انتخابات میں جس اعلیٰ پائے کے نظم و ضبط کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، اس کا کریڈٹ جس کو جاتاہے وہ عثمان بزدار نہیں،کوئی اور ہے۔نون لیگ نے تابعداری کی عمدہ ترین مثال قائم کی اس پر بات کرتے ہوئے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ایسی قابل داد فرماں برداری کے بعد پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کے دعوے بے جان دکھائی دیتے ہیں۔عام آدمی ابھی خاموش ہے، لیکن صبر و تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔انسان کی قوت برداشت بھی محدود ہوتی ہے۔ یہ حد ختم ہوتے ہی انسانی دماغ ماؤف ہو جاتاہے۔میڈیکل سائنس اسے برین ہیمرج کہتی ہے۔معاشی پریشانی سے تنگ آکر لوگ اپنے بیوی بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر رہے ہیں۔ یہ رویہ ان کی قوت برداشت ختم ہونے کی علامت ہے۔یہ پہلا مرحلہ ہے۔اگلے مرحلے میں ان کی توجہ مسائل حل نہ کرنے والوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔بھوک کے ستائے ہوئے عوام بڑے بڑے سپر اسٹورز کا رخ کرتے ہیں۔حکومت اسے انارکی کہتی ہے،وزراء اس رویئے کو ملک میں انتشار پھیلاناقرار دیتے ہیں۔اس کی ذمہ دار اپوزیشن کو ٹھہراتے ہیں۔لیکن عوام اپنی بھوک کا فوری علاج یہی سمجھتے ہیں کہ جہاں آٹا،چینی دال اور گھی موجود ہے، تالاتوڑیں اورگھر لے جائیں۔ پولیس تھانوں میں محبوس ہو کر رہ جاتی ہے۔انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ایسے مناظر پاکستان میں متعدد بار دیکھے گئے ہیں۔مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا،آٹاچوروں، چینی چوروں کوسزا نہ دی گئی تو فلسفیانہ گفتگو کام نہیں آئے گی۔فلسفہ پیٹ بھرے لوگوں کی ذہنی عیاشی ہے۔بھوکے شخص کو چاند بھی روٹی لگتا ہے۔بھوک کا خاتمہ حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔


