بلوچستان میں کورونا ختم ہونے والی تھی، اپوزیشن کے جلسے سے کورونا کے کیسز میں 3فیصد اضافہ ہوا،لیاقت شاہوان

کوئٹہ:حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہرزیادہ خطرناک ہے،اپوزیشن عوام کی صحت پر سیاست کررہی ہے،بلوچستان میں کورونا ختم ہونے والی تھی لیکن اپوزیشن کے جلسے سے کورونا کے کیسز میں 3فیصد اضافہ ہوا،صوبے بھر میں 16ہزار ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگایاجائیگا،اپوزیشن سیاسی میدان و پارلیمان میں بدترین شکست کے بعد نفسیاتی مریض بن گئے ہیں نفسیاتی مریض نظریاتی کارکنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت شاہوانی نے کہاکہ پورے دنیا کو اب کورونا کی تیسری لہر کا سامنا ہے گزشتہ سال مارچ میں ہی بلوچستان میں کورونا کا پہلا کیسز سامنے آیاکورونا میں لاک ڈاؤن سے بہت سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہم نے لاک ڈاون میں غریب مستحق افراد کی بھر پور مدد کی آج کی تاریخ میں بلوچستان کے شہری ایس او پیز سے واقف ہے بتایا جارہا ہے کہ لندن سے کورونا کی تیسری لہر پہنچ گئی ہیں گزشتہ روز ملک میں 28 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے سب سے پہلے کورنٹائن سینٹر بلوچستان حکومت نے قائم کیاکورونا جب پھیلنا شروع ہوجاتا یے تو اس کو قابو کرنا مشکل ہوتا ہے پنجاب کے بہت سیعلاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون لگادیاگیا ہے لیاقت شاہوانی نے کہاکہ سندھ میں بھی کوروناکے سخت ایس اس پیز جاری کیے گئے افسوس کی بات ہے کہ عوام کی صحت پر سیاست ہورہی ہیں مریم نواز نے لاہور میں میڈیا سے جو باتیں کی اس پر افسوس ہوامریم نواز نے یہ تاثر دیا کہ پی ڈی ایم جلسوں کیخلاف کورونا کو استعمال کیا جارہا ہے مریم نواز کو بتانا چاہتا ہوں کہ پی ڈی ایم جلسوں کی ناکام کو کورونا سے نہ جوڑے پھیلتا ہوا کورونا کی تیسری لہر میں اپوزیشن کو سوچنا چاہیے بلوچستان میں اکتوبر میں کسیز ختم ہونے کے قریب تھے اپوزیشن کے جلسے کے بعد کسیز میں تین گناہ اضافہ ہوابلوچستان حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دیگر صوبوں سے آنے والوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے گادیگر صوبوں سے آنے والے تمام افراد کے ٹیسٹ پازیٹوں آنے پر کورنٹائن کیا جائے گاکورونا تیسری لہر کا بتایا جارہا ہے کہ زیادہ خطرناک ہے بلوچستان میں اب تک 16000 ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگایا گیا ہے۔لیاقت شاہوانی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل پر سیاہی پھینکنے اور حملہ آور ہونے کی بدنما حرکت کا شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مخالفین کے ہاتھ پاوں پول گئے ہیں سیاسی میدان و پارلیمان میں بدترین شکست کے بعد نفسیاتی مریض بن گئے ہیں نفسیاتی مریض نظریاتی کارکنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں