حکومت،اپوزیشن ڈائیلاگ

ایک جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئی ہے، ہم بھی بلا وجہ نہیں چھیڑیں گے۔ اس جملے سے یہی اشارا ملتا ہے کہ حکومت نے آ بیل مجھے مار والی پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن سے ڈائیلاگ کئے جائیں گے اور کوشش ہوگی کہ کشیدگی میں کمی آئے۔ لیکن دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے یونیورسٹی آف مالاکنڈکے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت پر کڑی تنقید کی اور انہیں پاکستان کے برلا اور ٹاٹا قرار دیامگر ماضی جیسے سخت لب و لہجے سے امکان بھر گریز کیا۔انہوں نے حاضرین کو یاد دلایاکہ ڈھائی سال قبل جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، دوست ممالک مدد نہ کرتے تو پاکستان بڑی مشکل میں پھنس جاتا، ڈالر اونچا اور روپے کی قدر میں کمی آتی، تاہم اب مشکلات سے نکل آئے ہیں،ڈالر کی قیمت گر کر 155تک آگئی ہے۔زرعی شعبے کی ترقی کے لئے زرعی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں سست روی کی ایک وجہ یہ بتائی کہ سندھ حکومت جزیرہ منصوبے کی اجازت نہیں دے رہی۔سرمایہ کار منتظر ہیں۔وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں اصلاح کی مزید گنجائش ابھی موجود ہے۔انہیں مالی مشکلات سے نکلنے کے حوالے سے اپنے اقدامات کا ذکر کرنا چاہیئے تھا،بتاتے کہ بھاری شرح سود والے قرضوں کی ادائیگی سے پاکستان کو کتنا ریلیف ملا ہے،سامعین اتنے بھولے نہیں کہ معاملے کی تہہ تک نہ پہنچتے۔صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ مسلم لیگ کے ڈھائی برسوں میں قرضوں کی ادائیگی 20 ہزار اور پی ٹی آئی کے دور میں 35ہزار روپے تھی۔یہ اضافہ روپے کی قدر میں یکدم کمی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔اپنی کارکردگی کے نمایاں نکات پیش کرنا مفید طریقہ ہے۔لیکن یہ حقیقت فراموش نہ کی جائے کہ عام آدمی کا بنیادی مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس میں تاحال کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔ جب تک مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے عام آدمی،جس کا بیشتر حصہ تنخوادار (سرکاری اور نجی) ملازمین پر مشتمل ہے، کی تنخواہوں میں معقول اضافہ نہیں کیا جاتا، پریشانی کم نہیں ہوگی۔اس کے ساتھ ہی کوئی ایسا میکنزم بھی تشکیل دینا ہوگاجو ناجائز منافع خوری کی روک تھام کر سکے۔اپریل سے گندم کی خریداری کا اغاز ہو جائے گا۔سرکار ی ہدف مکمل نہ ہونے کا نوٹس لیا جائے۔اس کے علاوہ گندم اور چینی کی اسمگلنگ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک بے قابو منظر پیش کرتا ہے۔عام آدمی کی اہم غذا گندم ہے،وافر مقدار میں اسمگل کر دی جائے تو وہی کچھ ہوگا جو اب تک ہوتاآیا ہے۔کسٹم اور دیگر ذمہ دار اداروں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔غذائی اجناس کی نقل وحمل کی نگرانی کا مربوط الیکٹرونک سسٹم رائج کیا جائے۔آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، پیٹرول پمپس پر فروخت ہونے والے پیٹرول کی اطلاع اگر ہیڈ آفس سے منسلک کی جا سکتی ہے تو یہی کام غذائی اجناس کی نقل و حمل میں کیوں استعمال نہیں ہوسکتا؟اس حوالے سے وفاق کو زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے، اسمگلنگ کے ذریعے حرام کمائی کا چسکہ برسوں سے جن افراد کولگا ہوا ہے، وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے ہاتھ سے ناجائز ذیعہئ آمدنی چھن جائے۔اس میں شک نہیں کہ یہ کام راتوں رات نہیں ہو سکتا،لیکن اس کے خاتمہ کی طرف قدم بہ قدم بڑھا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی یہ کام راتوں رات نہیں ہوا،پاکستان میں بھی وقت لگے گا۔ سرحدوں پرباڑ اس مقصد کے حصول میں اپناکردارادا کرے گی۔جرائم پیشہ ذہنیت نے ممکنہ حد تک رکاوٹ بننے کی کوشش کی، مگر اپنے عزائم میں ناکام رہے۔عام آدمی کو یقین ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اچھے دن آئیں گے۔ اسی لئے اپوزیشن لوگوں کو گھروں سے نکالنے میں ناکام رہی۔ لیکن حکومت یہ نہ بھولے کہ اپوزیشن سے بلاوجہ کی مخاصمت ملکی معیشت کو جام کر دیتی ہے۔اس کا خمیازہ حکومت کو نااہلی کے طعنوں کی صرت میں بھگتنا پڑتا ہے۔اب کہ حکومت نے مخاصمت میں کمی لانے کافیصلہ کیاہے تو اس کا اظہار ہر سطح پر نظر آنا چاہیے۔سندھ حکومت کے خدشات دور کئے جائیں،تو کوئی وجہ نہیں کہ جزیرے تعمیراتی شعبے کے فوائد سے محروم رہیں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ وفاقی حکومت اس ضمن میں دیکھے کہ رکاوٹ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ بھی ایک قدم آگے بڑھیں۔صوبائی آمدنی میں معقول اضافے کی راہ نکل سکتی ہے،تو تاخیر مناسب نہیں۔ممکن ہے ڈرگ مافیا حیلے بہانے سے بے بنیاد خدشات کی آڑ میں جزیروں پر شہر آباد ہونا روک رہی ہو۔حالانکہ آبادی بڑھنے سے کاروبار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔ دبئی کاروبارکا عالمی مرکز بن گیا، یہی منظر کراچی کے جزائر بھی پیش کر سکتے ہیں۔وفاق کو یہ تأثر دور کرناہوگا کہ پی ٹی آئی کی قیادت مغرور ہے۔ غلط فہمیاں دور کرنا ہوں گی۔ پرانی مورچہ بنی مسمار کرکے ہاتھوں زیتون کی شاخ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔یہ ڈھائی سال گزارنے والی بات پی پی پی کویاد رہنی چاہیے۔ جس تیز رفتاری سے آن لائن سہولت ہماری مکاروباری ضرورت بن رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے بہ آسانی کہاجا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ماضی میں جاری رہنے والی دھاندلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ الیکٹرانک ووٹنگ کااستعمال مستقبل میں یقینی دکھائی دیتا ہے۔کارکردگی صرف پی ٹی آئی کا مسئلہ نہ سمجھی جائے ووٹر پی پی پی سے بھی کارکردگی کے بارے میں سوال پوچھیں گے۔ کتا کاٹنے پر ایم پی اے کی معطلی کا عدالتی فیصلہ آچکا ہے، آج انوکھا لگ رہا ہوگا لیکن آئندہ کے لئے نظیر کی حیثیت حاصل کر لے گا۔تاریخ اپنا سفر دھیرے دھیرے طے کرتی ہے۔ صوبائی حکومت کوبھی اپنالہجہ نرم کرنا ہوگا۔4اپریل کو سی ای سی کا فیصلہ سامنے آ جائے گا مبصرین کا خیال ہے پی پی پی اور نون لیگ ایک ساتھ نہیں چل سکتیں، مولانا فضل الرحمٰ کے لہجے کی تلخی بھی یہی اشارادے رہی ہے۔ راہیں جداہونا ہی واحد حل دکھائی دے رہا ہے۔قمرالزمان کائرہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہہ چکے ہیں کہ آج نون لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں کل پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں،سیاست اسی کا نام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں