کورونا وباء کی وجہ سے محصولات میں کمی آئی ہے، ظہور بلیدی

کوئٹہ، صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کو رواں سال قابل تقسیم محاصل سے 51ارب روپے ملنے ہیں این ایف سی میں ہمارا حصہ 9.09فیصد ہے کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے محصولات اور وفاقی سطح پر ٹیکس وصولیاں کم ہوئیں جس کی وجہ سے صوبوں کو کم حصہ مل رہا ہے بلوچستان نے اس سال اپنی ٹیکس وصولی کا ہدف 27ارب روپے رکھا ہے جس میں سے اب تک18ارب حاصل کر لئے گئے ہیں اور باقی ہدف مالی سال کے اختتام تک حاصل کرلیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں 69ارب روپے ریلیز ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 74ارب رہی اگر ماضی کی تاریخ دیکھی جائے تو اوسطاً صرف40ارب روپے تک ریلیز کئے جاتے تھے انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ترقیاتی مد سے 30ارب روپے بچت کرکے ترقیاتی مد میں خرچ کررہی ہے صوبے میں اس سال مالی انتظامی امور کو درست کرنے کے لئے 9جبکہ گزشتہ سال 12قانون سازیاں کی گئیں جن میں فنانشنل مینجمنٹ ایکٹ بھی شامل ہے جس سے صوبے کے تمام مالی انتظامی امور میں شفافیت آئی ہے اب سکیم کی منظوری اور تمام لوازمات پورے ہونے سات دن کے اندر ریلیز کردی جاتی ہے اگر ایسا نہ ہوتو باقاعدہ جواب طلبی کی جاتی ہے کسی کو بھی اب سکیم ریلیز کے لئے محکمہ خزانہ کے چکر نہیں لگانے پڑتے پہلے تو پی ایس ڈی پی ٹھیکیداروں کو دے دی جاتی تھی صوبے کے مالی معاملات بہتر انداز میں چل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار لینڈلیز پالیسی بنائی ہے صوبے میں آٹھ ٹیچنگ ہسپتال، یونیورسٹیز فنانس کمیشن، کالجز کو براہ راست رقم کی ادائیگی، کھیلوں کے مقابلے کروائے جارہے ہیں حکومت ریفارمز لا کر نظام کو درست سمت میں گامزن کررہی ہے تمام محکموں کو مستحکم کیا گیا ہے لوکل گورنمنٹ گرانٹ کمیٹی جو کہ کرپشن کا گڑھ تھی اسے شفاف بنادیاگیا ہے۔۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ جب منطق اور دلیل نہ ہو تو شور شرابہ ہی رہ جاتا ہے بعدازاں توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادیاگیا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر خزانہ کی وضاحت میں کوئی صداقت نہیں صوبے میں عملی طو رپر ترقیاتی کام نہیں ہورہے وفاق کے دیئے گئے فنڈز خرچ کرنے کی بجائے محکمہ خزانہ کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ یہ فنڈز حکومت خرچ نہیں کرسکتی جامعہ بلوچستان میں تنخواہیں اور پنشن کے پیسے نہیں اساتذہ ہڑتال پر ہیں جامعہ بلوچستان کا1996ء کا ایکٹ جسے ایوان نے منظور کیا کو تبدیل کرکے جنرل مشرف کا ماڈل ایکٹ لایا جارہا ہے دراصل صوبے میں زمین پر صرف مہنگائی افراتفری مسلح گروہ، قبضہ گیری دھماکے ہورہے ہیں حکومت اگر عوام کے پاس جائے تو اسے معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں