جعلی ڈومیسائل کے خلاف آواز اٹھانے پر کارکنان کو دھمکی دینے کی مذمت کرتے ہیں، بلوچ راج

بلوچ راج کے مرکزی ترجمان نے راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے کیے ہوئے گناہوں کو چھپانے کے لیے ان کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے جس کی ہم شدید تر الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ بلوچ علاقے پچھلی کئی دھائیوں سے مسائل کا شکار ہیں۔ جہاں لوگ بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں۔ اس مسائل کے حل کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کی جانب سے کوٹہ دیا گیا۔ جس پر اب غیر مقامی افراد ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے غیر مقامی لوگوں کو یہاں کا مقامی ظاہر کر کے ان کو لوکل اور ڈومیسائل بنا دیں جاتے ہیں جو کہ مقامی لوگوں حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ جس میں راجن پور کا پوری انتظامیہ براہ راست ملوث ہے۔ جس سے وہ غیر مقامی کو مقامی ظاہر کر اپنے جیب گرم کر رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ راجن پور سیمت ڈیرہ غازی کے علاقوں میں جعلی ڈومیسائل اور لوکل میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جاتی لیکن بدقسمتی سے بلوچ راج کے جن دوستوں نے ان جعلی ڈومیسائل کے خلاف آواز بلند کی تو انتظامیہ کی طرف سے ان کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہے جو بلکل ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی اور قابل مذمت عمل ہے۔

ترجمان نے آخر کہا کہ ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈی سی راجن پور احمر نائک اور پی اے عمران خان کو جلد سے جلد ان عہدوں سے ہٹایا جائے کیونکہ وہ اب اپنے دفاتر میں بیٹھنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور جعلی ڈومیسائل منسوخ کیے جائیں۔ بصورت دیگر بلوچ راج آئینی استحقاق کو استعمال کرتے ہوئے عوامی حمایت کے ساتھ راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھر پور مہم چلانے کے ساتھ راجن پور سمیت دیگر شہروں میں پر زور احتجاج کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں