بارڈر بندش، فضل سبزل کو گھر آنے کی اجازت نہیں دی گئی جس سے وہ بھوک سے انتقال کر گئے، زمباد آنرز اینڈ ورکرز ایسوسی ایشن کیچ
تربت:اپنے اور اپنے بچوں کی پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے گھر سے مزدوری کیلئے نکلا تھا مگر ظالم بھوک نے اس کی لاش واپس گھر پر بھیج دی. ان خیالات کااظہار دوہزار اینڈ زمباد گاڑی آنرز اینڈ ورکرز ایسوسی ایشن کیچ نے اپنے جاری کردہ مزمتی بیان میں سخت افسوس اور دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاہیکہ گزشتہ روز آبسرتربت کے رہائشی فضل سبزل بارڈر پر بھوک کی وجہ سے انتقال کر گئے وہ بیس دن سے بارڈر بند ہونے کی وجہ سیوہاں پھسے ہوئے تھے اور انہیں واپس اپنے گھرجانے کی بھی اجازت نہیں دیا گیا تھا، اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ بارڈر پر پھسے ہوئے ہیں ان لوگوں کے لئے پینے کیلئے نہ پانی ہے نا کھانے کیلئے خوراک کچھ بھی نہیں ہے لوگ ذلیل اور خوار ہیں مگر وفاقی وصوبائی حکومت اور عوامی نمائندے خواب خرگوش کی نیند میں سوئیہوئے ہیں, کیچ کے شہری بھوک وپیاس سے نڈھال ہوکریکے بعد دیگر تڑپ تڑپ کر دنیا سے رخصت ہورہے ہیں, لاشیں گھر پہنچاہی جارہی ہیں انہوں نے اپنے مزمتی بیان میں مزید کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کوئی بلوچ مزدور بارڈر پر بھوک وپیاس سے تڑپ کرمرگیا ہے اسی مہینے میں اپنے گھروں کی کفالت کرنے والے5مزدوروں کی لاشیں پاک ایران بارڈر سے گھر پہنچی ہیں اب ان لوگوں کے گھروں کو کون چلائیگاہے انکے مرحومین کے گھروں کا چولہاکیسے چلیگا، مکران کے 80% گھروں کا ذریعہ معاش پاک ایران بارڈر کی کاروبار سے وابسطہ ہے۔ اور انہوں نے وقاقی حکومت, وزیراعلی و گورنربلوچستان اور آئی جی ایف سی سے پرزور مطالبہ کیا کہ بارڈر کو کھلوایا جائے اور پھنسے لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے لوگ بھوک کی وجہ سے مررہے ہیں حکومت اس با برکت مہینے رمضان المبارک کے واسطہ پھسے ہوئے لوگوں کو چھوڑا جائے۔


