وفاقی دارالحکومت میں جعلی ڈومیسائل پر درجنوں سرکاری ملازمین اہم پوسٹوں پر بیٹھنے کا انکشاف

اسلام آباد:وزارت صنعت وتجارت سمیت وفاقی دارلحکومت میں جعلی ڈومیسائل پر درجنوں سرکاری ملازمین اہم پوسٹوں پر بیٹھنے کا انکشاف ہوا ہے،اے جی پی آر،ایف بی آر،واپڈا،اوجی ڈی سی ایل،نادرا سمیت دیگر اداروں میں جعلی ڈومیسائل والوں نے پنجے گاڑھ لیے ہیں،بلوچستان ضلع لورالائی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 31ایسے افرادموجودہیں جن کی تاحال تصدیق نہ ہو سکی ہے اور وہ لوگ جعلی ڈومیسائل بنواکر مختلف اداروں میں نوکری کر رہے ہیں،جعلی ڈومیسائل رکھنے والوں کی انکوائری کرنے والی 6رکنی کمیٹی کے مطابق وزارت انڈسٹریز میں ایک ہی خاندان کے تین لوگ جعلی ڈومیسائل پر نوکری کر رہے ہیں جن میں ڈائریکٹر کا عہدہ انجوائے کرنے والے عرفان جرال،اے ڈی کاشف حسین اور اے ڈی محمد عمران جرال نہ صرف حقداروں کا حق مار کر نوکری کر رہے ہیں بلکہ قومی وسائل کو لوٹ کر وزارت سمیت دیگر افراد کو خوش بھی کر رہے ہیں اور کرپشن کی انتہاکی ہوئی ہے،شکایت کرنے والے متعدد درجہ چہارم کے ملازمین کو نوکریوں سے بھی برطرف کر دیا گیا ہے،دوسر ی جانب خلیل احمد پاکستان بہرو آف سٹیٹ پاکستان،سلیم اللہ،محمد ابراہیم سیال،واپڈا،لیاقت علی ہیلتھ سروسز،محمد طاہر دفتر خارجہ،سید ریاض شاہ،تحصیر جمشید،فیڈرل ایجوکیشن سمیت دیگر درجنوں اداروں میں جعلی ڈومیسائل پر جعلی ملازم موجود ہیں،جرال فیملیز سے متعلق معلوم ہواہے کہ مذکورہ افراد کشمیر کے رہائشی ہیں اور اب جبکہ وہ لاہور میں مستقل قیام پذیر ہیں اور انہوں نے جعلی ڈومیسائل بنوا کر قومی خزانہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں،احتساب کے نعرہ پر معرض وجود میں آنے والی حکومت کے لیے اداروں میں کرپشن،جعل ساز ی بہت بڑا چیلنج ہے۔#/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں