بلوچستان کی تعمیر و ترقی وفاق کا ایجندا رہا ہی نہیں، نیشنل پارٹی
نیشنل پارٹی نے صوبائی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کی تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی وفاق کا ایجنڈا ہی نہیں رہا۔بلوچستان میں غربت کی شرح باقی پاکستان سے بہت زیادہ نیچے ہیں۔ایک کراچی کوئٹہ شاہراہ نے بلوچستان کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو لقمہ اجل بنادیا ہے۔گذشتہ روز ماہر تعلیم پروفیسر غلام نبی بلوچ بھی اس شاہراہ میں حادثے میں ہم سے بچھڑ گئے۔پروفیسر غلام نبی جیسے شخصیت کا بلوچستان سے جدا ہونا کسی المیے سے کم نہیں۔لیکن افسوس ہے کہ اعلئ حکمرانوں کو کوئ احساس ہی نہیں کہ وہ بلوچستان کےلیے کس قدر قیمتی تھے۔بیان میں کہا گیا کہ این ایچ اے کو بلوچستان میں حادثات نظر نہیں آتے آئے روز بلوچستان کے مختلف شاہراہوں میں خونی حادثات ہوتے رہتے ہیں۔بلوچستان کے عوام اپنے پیاروں کو کھو دیتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ سی پیک کو گیم چینجر کہا جاتا ہے اور اس گیم چینجر کا ذریعہ گودار اور بلوچستان ہے۔لیکن گودار و بلوچستان کے عوام خط غربت سے نیچے ترین سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔بلوچستان کے عوام زندہ زندگی سے دور ہوگئے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ سی پیک کے بدولت ملک میں شاہراؤں کی توسیع و خوبصورتی کو بڑھایا گیا لیکن بلوچستان کی سنگل شاہراہیں ہر روز خون سے لت پت رہتی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ متعصبانہ ومنفی پالیسیوں کے روک تھام کرنا ضروری ہے۔ریاست عوام کی جان ومال کی تحفظ کے زمہدار ہے۔اور بلوچستان کے عوام بھی اس ملک کے شہری ہے۔ان کو بھی زندہ زندگی جینے کا حق دے۔


