لوگ زندہ ہونگے تو کاروبار بھی چلے گا اور خریداری بھی ہوگی، جام کمال
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ عوام 15سے 20 دن گھروں میں رہ کر احتیاط کریں اور عید سادگی سے منائیں اگر لوگ زندہ ہونگے تو کاروبار بھی چلیں گے اور خریداری بھی ہوگی کورونا وائرس کی تیسری لہر تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اگر وباء پر قابو نہ کیا گیا تو ہسپتالوں میں مریضوں رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی،ہڑتالیں اور احتجاج مسئلے کا حل نہیں عوام سمیت تمام طبقات ہمارا ساتھ دیں ہم اپنے آپ کو نقصان کی طرف لیکر جارہے ہیں اگر کچھ دن محتاط انداز میں گزار لیں توبہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں،یہ بات انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر میں جس طرح دوسرے ممالک متاثر ہوئے حکومت اور عوام کے تعاون سے پاکستان اور بلوچستان میں یہ وباء پھیل نہیں سکی اور اس وباء میں کمی آئی دوسری اور تیسری لہر میں بہت سے ممالک جو ہم سے کئی گناہ آگے ہیں ان ممالک میں لاک ڈاؤن کرنا پڑااور ہر قسم کا سفر اور بارڈر بند کردئیے ہیں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء بہت سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے دکانوں کی بندش سے حکومت کا بھی نقصان ہوتا ہے گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک واقعہ بھی پیش آیا انہوں نے کہا کہ اگر 10فیصد وباء کا پھیلاؤ 30یا 40فیصد تک پہنچ گیا تو تاجر بتائیں کیا وہ اور انکے رشتے دار اور انکے دکاندار پچ سکیں گے وہ کہاں جائیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتے بڑے ہسپتال، انتی مقدار میں آکسیجن نہیں ہیں کہ انتے مریض رکھے جاسکیں اور نہ ہی دنیا میں انتی سہولیات ہیں عوام مہربانی کرکے سنجیدیگی کا مظاہرہ کریں اگر 15سے 20دن گھر میں بیٹھ کر سادگی سے رمضان اور عید کو منائیں تو اسکا ثواب کے ساتھ ساتھ صوبے اور شہر کی خدمت ہوگی انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدآمد سیکورٹی فورسز سمیت ہم سب کی ذمہ داری ہے اگر عملدآمد نہیں ہوگا تو کیا ہم دیکھتے رہے کہ وباء پھیلتی رہے اور لاکھوں لوگ اس میں مبتلا ہونگے انہوں نے کہا کہ تیاری کچھ ہزار لوگوں کی ہو سکتی ہے مگر لاکھوں لوگوں کو رکھنا ناممکن ہے کوئٹہ میں پانچ ہزارلوگوں کو تو علاج دے سکتے ہیں مگر لاکھوں لوگوں کے لئے سہولیات نہیں انہوں نے کہا کہ ہڑتالیں اور احتجاج مسئلے کا حل نہیں عوام سمیت تمام طبقات ہمارا ساتھ دیں ہم اپنے آپ کو نقصان کی طرف لیکر جارہے ہیں اگر کچھ دن محتاط انداز میں گزار لیں توبہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔


