اسرائیل سے یکجہتی، جواد ظریف کا دورہ آسٹریا منسوخ
ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے ویانا میں اسرائیل سے اظہار یک جہتی کے لیے پرچم لہرانے پر احتجاجاً اپنا دورہ منسوخ کرلیا۔خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ آسٹریا کی چانسلر سیباسٹین کرز کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ویانا میں اسرائیلی پرچم لہرانے پر ایرانی وزیر خارجہ نے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آسٹریائی ہم منصب سے ملاقات کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کردیا۔
آسٹریا کے وزیرخارجہ کے ترجمان نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف آسٹریا کی دورے میں الیگزینڈر شیلنبرگ سے ملاقات ملاقات متوقع تھی لیکن انہوں نے دورہ منسوخ کردیا۔ترجمان نے کہا کہ ‘ہم اس پر معذرت خواہ ہیں اور اس کو نوٹ کرلیا ہے لیکن ہمارے لیے واضح ہے کہ جب حماس 2 ہزار راکٹ اسرائیل میں شہری آبادی پر فائر کرے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے’۔
ایرانی وزیر خارجہ کو اس دورے میں 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے ویانا میں مذاکرات کرنے تھے جس کے تحت ایران پر پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی جبکہ ایران نے جوہری پروگرم روکنے پر اتفاق کیا تھا۔آسٹریا کی چانسلر سیباسٹین کرز کو اسرائیل کی زبردست حامی ہیں اور انہوں نے چانسلر کے دفاتر پر اسرائیل کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اسرائیلی پرچم لہرانے کا حکم دیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ ‘ویانا عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور اقوام متحدہ کا رکن ہے اور اب تک مذاکرا کا بہترین میزبان رہا ہے’۔عباس عراقچی نے کہا کہ ‘ویانا میں سرکاری دفاتر پر قابض حکومت کے پرچم لہرائے جانے پر حیرانی ہوئی اور دکھ پہنچا ہے کیونکہ انہوں نے چند دنوں میں ہی بچوں سمیت معصوم شہریوں کو قتل کردیا ہے’۔


