بارڈر ٹریڈ یونین کی جانب سے سی پیک شاہراہ بلاک
تربت(نمائندہ انتخاب) بارڈر ٹریڈ یونین کی جانب سے ڈیزل وپٹرول ڈپو بند کرکے غیرمعینہ مدت کیلئے سی پیک شاہراہ بلاک کردیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مسافروں وعوام کو شدیدمشکلات کاسامنا کرنا پڑرہاہے، بارڈر ٹریڈ یونین نے ایرانی سرحد سے تیل کے کاروبارپر رکاوٹوں اور پرچی سسٹم کے خلاف پیرکے روز تربت شہر ومضافات میں ڈیزل وپٹرول ڈپو بند کرکے سی پیک شاہراہ بلاک کردیا، ڈی بلوچ کے مقام پر ٹریڈ یونین کی جانب سے شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے شاہراہ بلاک کردی گئی اور یونین کے رہنماؤں، ڈرائیوروں وگاڑی مالکان سڑک پر خیمہ لگاکر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں، شاہراہ بلاک ہونے سے تربت سے کراچی، گوادر،دشت ودیگر علاقوں میں آمدورفت معطل ہوکر رہ گئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، جس سے لوگوں کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے، ڈیزل وپٹرول ڈپو اوردوکانیں بند ہونے سے پٹرول وڈیزل کی قلت پیداہوگئی ہے،بارڈر ٹریڈ یونین بلوچستان کے جنرل سیکرٹری گلزار دوست نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کی بندش کا مرحلہ وار پلان بناکر کاروبار کو عام لوگوں کی دسترس سے نکال کر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اپنے ہاتھ لینا چاہتی ہے جس کا آغاز باڑ لگا کر کیا گیا ہے اور بعد ازاں ٹوکن سسٹم کا آغاز کیا گیا جس سے روزانہ ضلع کیچ کے لیے 400 اور ضلع پنجگور کے لیے 600 گاڑیوں کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دی گئی لیکن اس میں بھی 60فیصد گاڑیاں مقامی سورسز اور منظور نظر لوگوں کی جبکہ 30سے 40فیصد گاڑیاں عام لوگوں کی ہیں، ضلع کیچ میں صرف 13500 تیل بردار گاڑیاں ہیں اگر روزانہ صرف 4سو گاڑیوں کو اجازت دی جائے تو ایک گاڑی کی باری ایک مہینے کے بعد مشکل سے آئے گی لیکن سورسز اور منظور نظر لوگوں کو ٹوکن دینے کی صورت میں عام ڈرائیور کو 2 مہینے تک انتظار کرنا پڑے گا تب جاکر ان کی باری آسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے ہم نے ڈی بلوچ پوائنٹ کو بلاک کرکے دھرنا دیا تھا تو ایف سی اور ڈی سی نے آکر آئی جی ایف سی سے مذاکرات کرانے کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کرایا مگر ہم جب ایف سی ہیڈکوارٹر گئے تو صبح سے شام تک کوئی ہمارے پاس بات چیت اور مذاکرات کے لیے نہیں آیا جس سے مجبور ہوکر ہم نے دوبارہ سی پیک شاہراہ بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہمارا دھرنا غیر معینہ مدت کے لیے ہوگا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے سی پیک بند رہے گا، انہوں نے حکومت سے بارڈر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مکران سمیت بلوچستان کی معیشت کا سب سے اہم ذریعہ ایرانی بارڈر سے منسلک تیل اور خوردنی اشیاء کی ترسیل ہے جس پر کافی عرصے سے پابندی لگاکر لوگوں کو ایک جانب بے روزگار تو دوسری طرف بھوکا رکھا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ مکران بارڈر ٹریڈ سے اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی دشوار اور مشکل ترین حالات میں چلایا جارہا ہے کے علاوہ روزگار کا کوئی اور ذریعہ نہیں،نہ ہی حکومت کی طرف سے مناسب ذرائع مہیا کیے گئے ہیں، مکمل بے روزگاری اور صنعت و کارخانے سمیت حکومت کی جانب سے روزگار کے دیگر ذرائع نہ ہونے کے سبب صرف بارڈر مکران میں لوگوں کی گزر بسر کا واحد سہارا ہے اسے کسی صورت بند ہونے نہیں دیا جائے گا، یاد رہے کہ بارڈر کی بندش کے خلاف ہڑتال کی حمایت آل پارٹیز کیچ، تربت سول سوسائٹی اور دیگر سیاسی و سماجی جماعتوں نے کررکھی تھی۔


