بلوچستان میں ایک نیا ایئر بیس بنانے پر غور ہوررہاہے،ترجمان پاک فضائیہ
اسلام آباد: پاک فضائیہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ صوبہ بلوچستان میں ایک نیا فضائی اڈہ (ایئر بیس) بنانے پر غور ہوررہاہے تاہم ان خبروں کی تردی کردی ہے کہ یہ ایئر بیس امریکہ کے لیے بنایا جا رہا ہے یا ان کے حوالے کیا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلو چستان میں نیا فضائی اڈہ بنانے کی تجویز ایک معمول کی چیز ہے، اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ فی الحال نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا ابھی اس فضائی اڈے کے لیے چار سائٹس (جگہیں) زیر غور ہیں مگر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ میڈیا پر چلنے والی یہ خبریں بے بنیاد اور محض افواہ ہیں کہ یہ ایئر بیس امریکہ کے لیے بنایا جا رہا ہے یا ان کے حوالے کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق اگر فضائی اڈے پر کام شروع ہوا تو یہ راتوں رات تعمیر نہیں ہو جائے گا بلکہ حتمی فیصلے اور منظوری کے بعد اس کو مکمل ہونے میں آٹھ سے دس سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ دریں اثناء ضلع نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایئرفورس نے اس سلسلے میں اراضی کے حصول کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد انھیں نصیر آباد کے علاقے نوتال میں اراضی کا معائنہ کرایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ یہ تجویزایک نئے ایئر بیس کے لیے نہیں بلکہ ایک آپریشنل سائٹ کے لیے سامنے آئی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق ‘ابھی اس زمین پر پاکستان کی فضائیہ نے کوئی کالونی بنانی ہے، کوئی آپریشنل سائٹ بنانا ہے یا کوئی کنسٹرکشن کرنی ہے لیکن یہ کوئی بڑا ایئر بیس نہیں ہوگا۔’انھوں نے کہا کہ ‘ہم نے پاکستان فضائیہ کو خوش آمدید کہا ہے کہ وہ آئیں کیونکہ اس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔’یادرہے یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کیمطابق پینٹاگون کے ایک عہدیدار ڈیوڈ ایف ہیلوے نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود اپنی افواج کی سپورٹ کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔خبررساں ادارے کے مطابق امریکہ کے انڈو پیسیفک افیئرز کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈیوڈ ایف ہیلوی نے گذشتہ ہفتے امریکہ کی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کو مزید بتایا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا کیونکہ پاکستان کا افغانستان میں امن بحالی میں بڑا اہم کردار ہے۔ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع نصیر آباد میں تعمیر کیا جانے والا ایئر بیس درحقیقت امریکن فورسز کی درخواست پر بنایا جا رہا ہے اور یہ کہ یہ ایئر بیس امریکہ کے زیر استعمال ہو گا۔ تاہم ترجمان پاکستان فضائیہ اور وزارت خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں نہ تو امریکن افواج ہیں اور نہ ہی کوئی ایئر بیس اور نہ ہی کوئی ایسی تجویز زیر غور ہے۔ ‘اس حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں جن سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (امریکہ کے ساتھ پاکستان کا) فضائی اور زمینی تعاون 2001 سے جاری ہے #/s#


