پانی کی تقسیم کے معاملے پر منصفانہ و مساوت پر مبنی نئے معاہدے کی ضرورت ہے،بلاول بھٹو زرداری

ماتلی / بدین /حیدرآباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پانی کی تقسیم کے معاملے پر منصفانہ و مساوت پر مبنی نئے معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے، پانی کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہونا چاہئیے جبکہ سندھ کے مسائل حل کرنے میں وفاقی حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تعلقہ ماتلی کے گاوں بشیر احمد ہالیپوتہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پانی کا مسئلہ ہم سب کا مسئلہ ہے، ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت ہو یا اس سے پچھلی حکومت، زیریں علاقوں کے مکینوں کے ساتھ ناانصافیاں کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1991ع کا واٹر اکارڈ ایک سلیکٹڈ و ناجائز حکومت کا کیا دھرا ہے، جس کی پاکستان پیپلز پارٹی نے اس وقت بھی دو ٹوک مخالفت کی تھی، لیکن اب اس معاہدے پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے ساتھ دہری ناانصافی ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ارسا میں اگر سندھ کا نمائندہ بات بھی کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ہم جب سندھ اور بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو وفاق کی جانب سے ہمارے خلاف مہم شروع کردی جاتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ نے پانی کی فراہمی کو آبپاشی کئنالوں کے آخر تک یقینی بنانے کے لیے کئنالز اور کھالوں کو پکا کرنے کے منصوبے مکمل کیئے ہیں اور رواں مالی سال کے دوران فقط ضلع بدین کے لیئے 7 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، جس سے کئنالز کی لائیننگ اور ایل بی او ڈی کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سندھ میں پانی کی چوری برداشت نہیں کریں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر مقابلہ کیا جائے گا، اور جب تک پاکستان کی معاشی پالیسی عوام دوست نہیں بن جاتی، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسی معاشی پالیسی ہو، جو آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر نہ بنائی گئی ہو۔ ایک صحافی کی جانب سے پی ڈی ایم کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ میں نے شوکاز نوٹس کو پھاڑ دیا تھا اور تاحال میں نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی مریم نواز کو جوابدہ ہے نہ میاں صاحب کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف قائدِ حزبِ اختلاف اور پی ایم ایل-این کے صدر ہیں، لہذا، ان کے موقف کو ہم مسلم لیگ (ن) کا موقف سمجھیں گے اور اس کے مطابق سیاست کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ مولانا فضل رحمان کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اصول کی سیاست کرتی ہے اور اپنا موقف تبدیل نہیں کرتی، جو ملک میں حقیقی جمہوریت اور سول بالادستی چاہتے ہیں اور موجودہ نااہل حکومت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے کے بجائے حکومت کی مخالفت کرنا چاہیئے۔ معروف صحافی و ویڈیو بلاگر اسد طور پر حملے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے بھی صحافی محفوظ نہیں ہیں تو یہ پورے ملک کے صحافیوں کے لیئے کیا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ صوبوں کو لیکچر دینے کے لیئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں، لیکن وہ اسلام آباد میں ایک صحافی کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ اس معاملے پر انکوائری کرائی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے بار بار یہ کہا ہے کہ سندھ ہمارا نہیں ہے۔ شیخ رشید نے بھی کچھ عرصہ قبل جس طرح سندھ کی عوام کے متعلق بات کی تھی وہ سب کے سامنے ہے، جس پر عوام کا ردعمل بھی آیا تھا۔ سندھ میں جو امن امان آیا ہے، وہ سندھ حکومت، اس کی پولیس کی وجہ سے ہے۔ تمام اداروں کو مِل کر امن امان کو یقینی بنانا چاہیئے۔ دریں اثنا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ماتلی تحصیل کے گاں بشیر ہالیپوتہ میں نومنتخب رکن سندھ اسمبلی ڈاڈا محمد ہالیپوتو اور شہزاد ہالیپوتو سے پارٹی کے سابق ایم پی اے مرحوم بشیر احمد ہالیپوتہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورے کے دوران وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ اور سہیل انور سیال، ایم این اے میرغلام علی تالپور، اور ارکان سندھ اسمبلی تاج محمد ملاح، اعجاز شاہ بخاری، میراللہ بخش تالپو، ارباب لطف اللہ اور تنزیلہ قمبرانی، وزیراعلی کے معاونین خصوصی جاوید نایاب لغاری اور پیر نورالحق قریشی، پارٹی رہنما میر سہراب مری، حاجی رمضان چانڈیو، اصغرہالیپوتو، سائیں بخش جمالی، حاجی رسول بخش چانڈیو، خرم کریم سومرو اور طارق علی شاہ جاموٹ بھی ہمراہ تھے۔ بدین میں پریس کانفرنس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹنڈو محمد خان میں 30 میل کراس ریگولیٹر پر پھلیلی کنال کی بحالی کے منصوبے کا افتتاح کیا، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ٹنڈومحمدخان اور بدین کی 15 لاکھ ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرنے والے پھلیلی کنال بحالی منصوبے پر وزیرآبپاشی سندھ سہیل سیال نے سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے ایم ڈی پریتم داس اور چیئرمین لیفٹ بینک کینالز ایریا واٹر بورڈ قبول محمد کھٹیان کے ہمراہ بریفنگ دی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدین اور ٹنڈومحمد خان کے زیریں علاقوں میں پانی کی ترسیل کو یقینی بنانے والے پھلیلی کنال بحالی کے منصوبے کا دورہ بھی کیا جبکہ ساڑھے تین ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے عوامی منصوبے کی تکمیل پر محکمہ آبپاشی سندھ کو شاباش بھی دی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ وزیربلدیات ناصر شاہ نے پھلیلی کنال بحالی منصوبے کا دورہ کیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں