وقت اپنا سفر ہمیشہ جاری رکھتاہے

تسلیم کر لینا چاہیئے کہ پاکستان نے جدید علوم اورٹیکنالوجی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں خاطر خواہ نہ سہی،قابل ذکر حد تک ترقی کرلی ہے ماسوائے شعبہئ سیاست کے۔ہمارے سیاست دانوں نے شایدقسم کھارکھی ہے کہ انہوں نے 90کی دہائی میں اپنائی گئی سوچ اور حکمت عملی سے کسی صورت باہر نہیں نکلناحالانکہ اس دوران ہمارے اڑوس پڑوس سمیت ساری دنیا میں منظر کافی حد تک تبدیل ہو چکاہے اس عرصے میں امریکہ خلیجی ریاستوں کو روندتا ہوا افغانستان پر حملہ آورہوا، فون پرپاکستان سے پوچھا:”دوست ہو یا دشمن؟“،پاکستان کاشریفانہ جواب تھا: ”دوست!“۔اور تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے ”دوستی“ نہ صرف پورے خلوص سے نبھائی بلکہ اس کی قیمت بھی ادا کی، اور آج بھی ادا کر رہا ہے۔دو دہائیوں کے بعد امریکہ نے محسوس کیا نیٹو افواج کی مدد کے باوجود افغانستان کو فتح کرنا ممکن نہیں،زمینی حقائق تسلیم کئے اور اپنی انا کو خاطر میں لائے بغیرواپسی کی راہیں تلاش کرنا شروع کر دیں،جن افغان طالبان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی قسم کھا کر اپنے حماتیوں سمیت بمباری شروع کی تھی انہی کے ساتھ طویل مذاکرات کئے، ایک معاہدہ پر دستخط،اور پھر واپسی کا عمل شروع کر دیا۔صرف اور صرف اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا، اشرف غنی حکومت جانے اور افغان طالبان جانیں، جیسا نظام حکومت قائم کرنا چاہیں کرلیں۔۔۔۔دوسری بڑی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ امریکہ کے اسٹریٹجک پارٹنر بھارت نے چین کو اعتماد میں لئے بغیر ایک آئینی ترمیم کی اور لداخ کے متنازعہ علاقے کو دہلی کے کنٹرول میں دے دیا۔نتیجہ توقع کے برعکس نکلا، کوئی گولی نہیں چلی اورلداخ خاموشی سے چین کی تحویل میں چلاگیا۔ابھی باضابطہ اعلان نہیں ہوا، مناسب وقت پر فریقین خود ہی کر دیں گے۔واضح رہے کہ بڑی طاقتیں ایسے اعلانات کی محتاج نہیں ہوتیں۔اس قسم کے تکلفات کمزور ملکوں کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔بھارت ایک طاقت ور ملک ہے مگر نیپال، بھوٹان، اور متنازعہ (مقبوضہ) کشمیرسے آگے اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔لیکن چینی مسلح افواج نے جب سے سرحد عبور کی ہے نیپال اور بھوٹان بھی بھارتی برتری تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ادھرپاکستان نے چینی سرمایہ کاروں کے لئے ویزہ کی مدت دوسال تک بڑھا دی ہے۔ سی پیک منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی مقتدر اعلیٰ نے عالمی تقاضوں اورمعروضی حالات کے پیش نظر اپنی سوچ اور حکمت عملی حسب ضرورت تبدیل کر لی ہے۔فلسطین پر اسرائیلی حملے کے نتائج بھی اسرائیلی خواہشات کے مطابق برآمد نہیں ہوئے،غزہ میں جنگی جرائم میں مرتکب ہونے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کاسامنا ہے۔امریکہ اسرائیل کے خلاف انکوائری نہیں رکوا سکا۔ عین ممکن ہے آنے والے دنوں میں اسرائیل اپنادارالحکومت تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی ضد بھی ترک کردے۔ امریکہ نے دانشمندی سے کام لیا،ایران سے معاہدے کی بحالی کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سرزد ہونے والی غلطی کی اصلاح میں بھی سنجیدگی سے مصروف ہے۔ عالمی تقاضے تبدیل ہوئے تو روس نے چین کے ساتھ دوریاں ختم کر دیں،اب شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی نئی راہ نکال لی ہے۔پاکستان اور بھارت بھی اوس تنظیم کے رکن ہیں۔ایران اور افغانستان کو مبصرین کی حیثیت حاصل ہے۔ مستقبل میں یہ دونوں ملک بھی اس تنظیم کے رکن بن جائیں گے۔سیاسی سوچ اور دوستیاں بہتے پانی کی طرح اگر اپنی سمت اور رفتار میں کمی بیشی کے ساتھ سفر جاری رکھیں تو مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اور جو قومیں اور افراد کسی وجہ سے اپنی سوچ میں تبدیلی کے لئے راضی نہ ہوں وہ ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح جوہڑ بن جاتے ہیں۔پاکستانی سیاست دانوں کو سوچنا چاہیئے کہ 90کی دہائی والی سوچ چپک کر رہنا مفید ہے یاتبدیل ہوتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق مناسب فکری تبدیلی قبول کرنافائدہ مند ہے؟اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پی ڈی ایم چند ماہ کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی،اس شکست و ریخت کے دیگراسبا ب تلاش کرتے وقت یہ پہلو بھی سامنے رکھا جائے کہ اس کی ایک وجہ90کی دہائی والی سوچ سے حد درجہ جڑے رہنا تو نہیں؟ اس حوالے سے پی ڈی ایم کی قیادت کو کھل کر بحث کی ضرورت ہے۔اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کئے بغیر پی ڈی ایم اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکے گی۔جی ایچ کیومیں بیٹھنے والے افسران کی وہ کھیپ وہاں نظر نہیں آتی جن سے ان کی دوستی تھی، ان کے بعد آنے والے ان کے جانشین بھی اگر زندہ ہیں توریٹائرہوکر اپنے پوتے پوتیوں کے ہمراہ نئی زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے۔ امریکہ میں ان کے دوست بھی کورونا کے مسلط کردہ آداب کی پابند زندگی گزاررہے ہوں گے۔زیادہ باریکی سے دیکھیں توانہیں محسوس ہوگا آج جی ایچ کیو کو ان کی ضرورت بھی نہیں رہی۔وہ دن نہیں رہے جب اقوام متحدہ کسی سابق فوجی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔خلیجی ریاستوں اور افغانستان کے تجربات کے بعد اب امریکی نفسیات بھی تبدیل ہو چکی ہے۔بہت سارے معاملات وہ یونیفارم والوں سے براہ راست طے کر رہے ہیں بلکہ زیادہ
مطمئن ہیں۔دنیا بھر کے سفیر، وزرائے خارجہ اوردیگر اہم شخصیات بلا تکلف وہیں ملاقات کرتے ہیں۔امریکی صدور پینٹا گون میں غیر ملکی سربراہان کے ساتھ مشترکہ اعلامیوں کا اعلان پینٹا گون میں کرنے کے عادی ہیں۔اس تبدیل شدہ دنیا میں وہ پرانے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں آئیں گے تو پی ڈی ایم والے نتیجے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے۔عام آدمی بھی جانتا ہے آپ گوجرانوالہ جلسے میں جو کہتے تھے اس کی تلافی کے جنرل عمر کے صاحبزادے محمد زبیر کو بھیجتے رہے ہیں۔اتنی صاف گوئی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ سیاست دان اگر کسی الجھن کا شکار ہیں تو خوابوں اور خواہشات سے باہر نکلیں، نہ اپنا وقت برباد کریں اور نہیں میڈیا کے روبرو نت نئی کہانیاں سنائیں۔ جھوٹ کا مستقبل مشکوک ہے۔فائیو جی کا دور ہے، جھوٹ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا۔کہیں نہ کہیں سے پردہ سرک جاتا ہے،پس پردہ رونما ہونے والے واقعات بے نقاب ہو جاتے ہیں۔2021میں زندہ ہیں، اسی دہائی کا فیشن اپنائیں۔انگریز عرصہ پہلے کہہ چکے ہیں؛ روم میں رہنا ہے تو وہی کچھ کرو جو روم والے کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں