سعودی عرب کی گوادر میں آئیل ریفائنری لگانے سے معذرت

گوادر (انتخاب نیوز) 10 ارب ڈالرز آئل ریفائنری منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، سعودی عرب نے ساحلی شہر گوادر میں آئل ریفائنری منصوبہ شروع کرنے سے معذرت کر لی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی تاریخ کے سب سے بڑی منصوبے کے آغاز کے حوالے سے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہسعودی کمپنی آرامکو نے گوادر میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے سے معذرت کر لی۔ آرامکو نے گوادر کی بجائے کراچی یا حب میں آئل ریفائنری کی تعمیر کی تجویز دی ہے، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر نے بتایا ہے کہ سعودی آرامکو کی جانب سے تیار کردہ فیزیبلٹی رپورٹ میں رائے دی گئی ہے کہ گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر مشکل ہے، لہذا اس منصوبے کو بلوچستان کے شہر حب یا پھر کراچی منتقل کر دیا جائے، تاہم اس حوالے سے مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے 2019 میں پاکستان کے دورے کے دوران 20 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ان معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے گزشتہ برس سعودی عرب کے خصوصی وفد نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا اور اس دوران اعلان کیا گیا تھا کہ جلد گوادر آئل ریفائنری کی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا۔ گوادر آئل ریفائنری کا منصوبہ ملک کی تاریخ میں توانائی کے شعبہ کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے معاملے میں بہت حد تک خود کفیل ہو جائے گا۔ منصوبے سے پاکستان پیٹرولیم مصنوعات زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کر سکے گا۔ زیادہ ذخائر ہونے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، جو ملک کی معیشت کیلئے مثبت نتائج کا باعث بھی بنے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں