کوہلو میں تیل اور گیس کا تلاش تکمیل کے آخری مراحلے میں داخل ہوچکا ہے ،

کوہلو:کوہلو میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ضلع میں تیل اور گیس کی دریافت کے حوالے سے گرنیڈ جرگہ سائیں مسجد کے قریب پنڈال میں منعقد ہوا جرگے کا مقصد تیل اور گیس کے حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینے اور وفاقی و صوبائی حکومت کو اپنے تحفازات کے بارے میں آگاہ کرنا تھا جس میں نیشنل پارٹی،بلوچستان نیشنل پارٹی،مری قومی اتحاد سمیت چھوٹے بڑے سیاسی پارٹیوں سمیت سیاسی،قبائلی،سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ہے جرگے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء محراب بلوچ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ملک گامن مری،میر لیاقت مری،میر باز محمد مری،مری قومی اتحاد کے رہنماء میر قیوم بجارانی مری،میر غازی خان،،سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہلو میں تیل اور گیس کا تلاش تکمیل کے آخری مراحلے میں داخل ہوچکا ہے جبکہ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق کوہلو کے علاقے جاندارن اور ماڑتل میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں مگر کوہلو کے علاقے جانداران کو بارکھان کا علاقہ شمار کرکے یہاں کے عوام کو تمام فوائد سے نظر انداز کرنے کا خدشہ ہے مگر سرکاری ریکارڈ اور تاریخ میں یہ علاقہ مری کا رہا ہے اس کے علاوہ یہاں تیل اور گیس کے حوالے سے سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندگان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں اورعوام معدنیات کے فوائد اور معاہدوں سے بے خبر ہیں عوام میں شدید تشویش کی لہر کے ساتھ مایوسی ہر آئے روز بڑھتی جارہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں معدنیات کا مالک چندشخصیات نہیں ہیں بلکہ ضلع کا ہر شہری اپنے حقوق کا اختیار خود رکھتا ہے یہ وہ دور نہیں جہاں بندوں کمروں اور چند لوگوں سے خفیہ معاہدے کرکے عوام کو بے خبر رکھا جائے اگر او جی ڈی سی ایل یا حکومت نے مری قوم کے کسی شخص سے معاہدہ کیا ہے تو ان شخصیات کے نام سامنے آنی چائیے تاکہ لوگ اپنے حقوق ان سے حاصل کرسکیں نہ کہ عوام اور حکومت کے درمیان غلط فہمیاں جنم لیں کیونکہ کوہلو میں معدنیات مختلف اقوام کے زمینوں پر ہیں جن کے اختیار کا حق وہ لوگ اور ان کے بڑے رکھتے ہیں نہ کہ دوسرے شخص کو ان کے حقوق پر معاہدہ کرنے اورمراعات ہضم کرنے کا اختیار حاصل ہیں حکومت کو چائیے کہ او جی ڈی سی ایل کے مد میں ضلع میں کالج،یونیورسٹیاں،سڑکیں،صاف پینے کے پانی کے منصوبے،بجلی،تعلیم، صحت کے حوالے سے پروجیکٹس کے بارے میں تفصیلی لائحہ عمل کے بارے میں عوام کو آگاہ کرئے عوام میں بڑھتی بے چینی کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے ماضی قریب میں بھی جہاں عوام کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا وہاں ترقی کے ثمرات سے حکومت اور عوام دونوں محروم ہوئے ہیں اور معدنیات کے ذخائر سے فائدہ حاصل نہیں کیاجاسکا ہے ہر شہری اور سیاسی پارٹی کو حق حاصل ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کراپنے حقوق کا دفاع کریں اس لئے آج کا جرگہ اس مقصد کیلئے منعقد کیا گیا ہے کہ تاکہ حکومت کواپنے تحفظات سے آگاہ کرسکیں جبکہ گیس کے لئے پلانٹ سخی سرورپنجاب میں لگانے کی تیاریاں کی جارہی جو کہ لمحہ فکریہ ہے ماضی میں بھی سوئی سے گیس دریافت ہوئی مگر یہ گیس لاہور اور مری تک تو پہنچ گئی مگر ڈیرہ بگٹی اور ملحقہ علاقوں کے مکین آج 70سال بعد بھی لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں بلوچستان بھر میں معدنیات کے حوالے سے عوام میں شدید مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے ریکوڈک،کرومائیٹ،کوئلہ،سیندک کے حوالے سے معاہدے آج تک پبلک نہیں کئے گئیں ہیں جن کو دیکھ کر کوہلو کے عوام میں بھی شدید تشویش کی لہر موجود ہے کہ گیس اور تیل یہاں سے تو دریافت ہوگی مگر یہاں کے مقامی لوگوں کو کہی اس نعمت سے محروم تو نہیں رہے گے تمام سیاسی پارٹیاں اور یہاں موجود ہر شہری قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے وفاقی وزیر معدنیات،چیرمین او جی ڈی سی ایل وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کوہلو میں تیل اور گیس کے حوالے سے مراعات اور معاہدوں کو پبلک کیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ان معدنیات کے دریافت سے یہاں کے عوام کو یہاں کیا سہولیات ملنے والے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں