بساک کوئٹہ زون کا اسٹڈی سرکل ، سینکڑوں کی تعداد میں طالب علموں کی شرکت

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ زون کا جدلیاتی اور تاریخی مادیدیت اور قومی تناظرکے عنوان پہ اسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا ، جس کے مقرر ثنا بلوچ تھے اپنے لیکچر کا آغاز فلاسفی کی بنیادی تاریخ سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلاسفی بنیادی طور پر کسی بھی چیز کو سمجھنے پرکھنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نام ہے یعنی اس کا دارومدار انسانی دانشمندی سے منسلک ہے کہ وہ چیزوں کو کس طرح دیکھتا ہے اور کس طرح ان کا تجزیہ کرتا ہے انہوں نے فلاسفی کے دو بنیادی پہلوؤں پر بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دو نظریات جو فلاسفی کے بنیاد ہیں ان میں ایک میٹافزکس اور دوسرے جدلیات پسند ہیں میٹافزکس کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ تبدیلی ساکن ہے دنیا میں کوئی بھی چیز تبدیل نہیں ہوتا بلکہ وہ یونیورسل ہے جبکہ جدلیات پسندوں کا ماننا ہے کہ چیزیں اپنے اردگرد ہونے والے تمام عوامل کے اثرات کو قبول کرتے ہوئے تبدیلی کی جانب گامزن ہوتے ہیں جو میٹافزیکل اپروچ کے ماننے والے ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ آئیڈیا ہی سب کچھ ہے۔ پہلے پہل آئیڈیا جنم لیتا ہے پھر اس سے مادے کا وجود ہوتا ہے جبکہ ڈائکلکٹیکل اپروچ ماننے والوں کا خیال ہے کہ مادہ پہلے وجود میں آتا ہے آئیڈیا بعد میں جنم لیتا ہے اس خیال کے ماننے والوں میں بڑے پیداوری ذرائع ہی سب کچھ ہے اور انہی پیداوری ذرائع سے سماجی رشتے وجود میں آتے ہیں جو بھی ان یعنی قدیم کمیون، غلام داری جاگیرداری صنعتی اور اشتراکی میں تقسیم کرتے ہوئے دنیا کے تمام تر جدوجہد کو طبقاتی جدوجہد کا نام دیتے ہیں لیکن قومی سوال پہ مارکسز پہ بہت تنقید کی جاتی ہے فرینکفرٹ اسکول آف ٹھاٹ سے منسلک تمام تر فلاسفوں کو خیال یہی ہے کہ مارکسز نیشنلزم پہ خاکوش کیوں رہا ہے مارکسز قومی سوال کو ڈائلکٹیکل میٹریلزم کا حصہ سمجھتا ہے لیکن اس کا حل صرف اور صرف کلاس اسٹریگل میں رکھ اور میٹافزیکل اپروچ کی جانب کیوں کر جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں