بلوچستان اسمبلی ہنگامہ آرائی میں سب سے آگے
بلوچستان اسمبلی نے ہنگامہ آرائی کی نئی مثال قائم کردی۔اپوزیشن نے اسمبلی گیٹ کی تالابندی کر دی اور گیٹ کے باہر دھرنا دیا۔گیٹ تو پولیس بکتربند کی ٹکر سے کھل گیالیکن اس کے بعد اراکین اسمبلی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ ایک خاتون رکن اسمبلی کو گملہ دے مارا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کمال خان پر جوتاپھینکا گیا۔الغرض بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے وہ سب کر دکھایا جو ابھی تک کوئی صوبائی یا قومی اسمبلی نہیں کر سکی تھی۔اپوزیشن کو شکایت تھی کہ حکومت نے ان اضلاع(یاحلقوں) میں ترقیاتی اسکیمیں بجٹ میں شامل نہیں کیں جہاں سے اپوزیشن منتخب ہوئی ہے۔ تمام ہنگامہ آرائی بجٹ کو پڑھے یا سنے بغیر کی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا:”اراکین پہلے بجٹ تو پڑھ لیتے۔انہوں نے اپوزیشن کویہ مشورہ بھی دیا کہ اب پڑھ لیں اور بتائیں ایسے کون سے حلقے ہیں جو ترقیاتی سکیموں سے محروم رہے؟ہم شامل کر لیں گے۔ہمارا ویژن(سیاسی و معاشی سوچ)کہ پورا بلوچستان ترقی کرے لیکن ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ ماضی کی طرح فنڈزلوگوں کی جیبوں نہ جائیں،ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے جائیں،ان میں کوئی خورد بردنہ کی جاسکے،اپوزیشن میں شامل اراکین چاہتے ہیں کہ فنڈز انہیں دیئے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہے اسمبلی میں توڑ پھوڑ ہوئی ہے،تحقیقات کرائیں گے،انکے خلاف کیسز بن سکتے ہیں۔ماضی میں جو لوگ ایسے رویئے برداشت نہیں کرتے تھے آج خود ایسا کر رہے ہیں۔اپوزیشن عدالت گئی اور ترقیاتی کاموں کے خلاف اسٹے لیا، عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں“۔۔۔۔وزیر خزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے واضح طور پر کہاہے: ”بجٹ حکومت نے پیش کرنا ہوتا ہے، اپوزیشن نے نہیں۔پھر مذاکرات کیوں کریں؟اپوزیشن کے اضلاع کو اربوں روپے کے فنڈز دیئے ہیں،ترقیاتی کاموں کا مقصد شخصیات کو نوازنا نہیں“۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جام حکومت نے طاقت کا استعمال کرکے تمام حدیں عبور کر لی ہیں، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کے ساتھ جو کچھ ہوا ایسا آمریت میں بھی نہیں ہوا،اراکین کو تشدد کرکے زخمی کیاگیا،بجٹ زور زبردستی کے بل پر پیش کیا گیا،حکومت کے خلاف کارروائی کریں گے، میں بلوچستان اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔۔۔۔۔ اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں کہ بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا،نہیں ہونا چاہیئے تھا۔لیکن صرف اتنا کہہ دینے سے بات ختم نہیں ہوگی۔یہ ایک سنجیدہ اور بحث طلب معاملہ ہے، تمام سیاسی پارٹیوں کوا سمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر پہلے الگ الگ اور پھر مل بیٹھ کر اس کا کوئی قابل عمل حل نکالنا ہوگا۔اسمبلی کااجلاس چلانے کے آداب پہلے سے موجود ہیں اور اراکین کے علم میں ہیں۔ان میں اگر کہیں کوئی کمی یا خامی ہے تو اسے باہمی مشاورت سے با آسانی دور کیاجا سکتا ہے۔اراکین اسمبلی نے خود کرنا ہے، اوپر سے منظوری نہیں لینی، بیٹھیں اور مناسب اضافہ کرلیں۔بجٹ سازی میں اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ حکومت کو لازماً مشاورت کرنی چاہیئے تو یہ کام اسمبلی کے گیٹ پر تالے لگانے اور دھرنا دینے سے نہیں ہوگا،اس کے لئے قانونی ترمیم کی ضرورت ہے،اور یہ بات اپوزیشن کے علم میں ہے کہ مطلوبہ ترمیم اسی اسمبلی کو کرنی ہوگی جس کے دروازوں پر تالا لگا کر اپوزیشن دھرنا دیئے بیٹھی تھی۔درکار قانونی ترمیم کئے بغیر صرف دھرنوں کے ذریعے بجٹ سازی میں مشاورت جیسی شرط منوانا موجودہ حالات میں آسان دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کے پاس دوسال ہیں اگراس مدت میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے تو 2023میں ووٹرز سے ووٹ مانگنا مشکل ہو جائے گا۔اپوزیشن چوبیس گھنٹے ڈھول پیٹ کر عوام کے سامنے کہتی رہے کہ یہ حکومت سلیکٹڈ ہے،نااہل ہے، نکمی ہے،اس کاحکومت کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔اس کی مثال گزشتہ سے پیوستہ روز دیکھا جانے والا پولیس ایکشن ہے، جس خلاف اپوزیشن مقدمہ درج کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ایک سیاست دان اور عام آدمی میں یہ باریک سا فرق ہے؛عام آدمی صرف سامنے کا منظر دیکھنے اوراور ا س کا فوری رد عمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،اگلے لمحے اسے کن نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،یہ سوجھ بوجھ اس میں نہیں ہوتی۔جبکہ اس کے برعکس سیاست دان لمحہئ موجود سے کہیں آگے تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے عرف عام میں ”دیوار کے پار دیکھنا“کہتے ہیں۔دکھ اورافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے: بلوچستان اسمبلی کے گیٹ پر اور اسمبلی کے اندر جومناظر دیکھے گئے وہاں ”دیوار کے پار دیکھنے والا“ باصلاحیت سیاستدان نظر نہیں آیا، صرف لمحہئ موجود تک محدود بصارت والے عام آدمی نظر آئے۔جمہوری نظام کی اصل اور بنیادی کمزوری ہے کہ جسے عام آدمی اپنا نمائندہ منتخب کر کے ایوان میں بھیجتا ہے وہ ”سیاست دان“ نہیں ہوتا بلکہ محض عام آدمی نکلتا ہے۔جس روز عام آدمی نے دوسرے طبقات کے افراد کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجنے کی بجائے خود اسمبلی میں میں اپنی نمائندگی کا فیصلہ کر لیا،یہ خامی دور ہو جائے گی۔عام آدمی کھیت مزدور ہے، مل مزدور ہے، کسان ہے، چھوٹا تاجر ہے،کاروبار ی آدمی ہے۔کسان کی عادت ہے کہ بیج کو تناور درخت بننے تک اس کی حفاظت کرے، پرورش کرے۔مل مزدور اپنی مصنوعات کو ہر خامی سے پاک رکھے اور دیدہ زیب حالت میں گاہک کے ہاتھوں تک پہنچانے کے عمل کو یقینی بنائے۔ موجودہ جمہوریت اپنی بنیادی خامی کو دور کرے تاکہ اس کی ساخت میں پایا جانے والا یہ تضاد دور ہو سکے جو بار بار پورے سسٹم کو ڈانواڈول کر دیتا ہے۔اس کمزوری کے نقصانات کم کرنے کادوسرا راستہ سماجی
دانشوروں نے بلدیاتی اداروں کی شکل میں متعارف کرایاتھا، یورپی ممالک میں مستقل موجود رہتے ہیں، عام آدمی کے سارے کام محلے یا دیہات کی سطح پر حل کر دیئے جاتے ہیں،صوبائی اور قومی اسمبلی اس کے لئے کبھی اہم نہیں ہوتی۔ پاکستان میں بلدیاتی ادارے صرف مارشل لاء کے نفاذ کے بعد قائم کئے جاتے ہیں۔اور مارشل لاء کے ہٹتے ہی ختم ہو جاتے ہیں سپریم کورٹ کی یاددہانی کے باوجود صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ نالے وفاق کو صاف کرنے پڑتے ہیں۔بلدیاتی ادارے مستقل بنیادوں پرقائم ہونے کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے، کی جائے۔بلدیاتی فنڈز کھانے کی اجازت وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کو نہ دی جائے۔دونوں پر نگاہ رکھی جائے، عام آدمی سکھ کی زندگی گزارے۔اسمبلی کے گیٹ پر تالے لگانے کا سلسلہ بند ہو جائے گا،کوئی دھرنا نظر نہیں آئے گا۔


