اسپیکرعبدالقدوس بزنجو پر اتحادی جماعتوں کے اعترازات پر باپ پارٹی کا مشاورتی اجلاس طلب ،جام کمال خان
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والے پر اسپیکر اور بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اتحادیوں کے اعتراضات پر بلوچستان عوامی پارٹی اپنی مشاورتی نشست رکھے گی، باور کرواتاہوں کہ بلوچستان عوامی پارٹی سوجھ بوجھ کریگی اور چیزوں کو دیکھیں گے اور انہیں مزید سنجیدہ کیا جائیگا اگر پہلے حکومت اور اپوزیشن کو بلا کر بات چیت کی جاتی تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور نمائندوں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، قبل ازیں وزیراعلیٰ جام کمال خان سے پی ٹی آئی کے رکن و ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، بی این پی (عوامی) کے پارلیمانی لیڈرمیر اسد اللہ بلوچ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی لیڈرعبدالخالق ہزارہ، جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈرنوابزادہ گہرام بگٹی،صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی بلیدی، میر سلیم کھوسہ، میر ضیاء اللہ لانگو، وزیراعلیٰ کے میشر محمد خان لہڑی نے ملاقات کی اور بجٹ اجلاس میں پیش آنے والے واقعہ پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلیٰ جام کمال خان نے ملاقات کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہی بلوچستان حکومت کے پارلیمانی لیڈران کی نشست ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ 18جون کو جو سانحہ پیش آیا اور جو کچھ ہوا یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی اپوزیشن نے پارٹی کے اراکین اسمبلی اور اپنے لوگوں کے ساتھ آکر اسمبلی کے ارکان کو روکا،گیٹ بند کئے اور پھر جب کہیں نہ کہیں سے حکومتی اور دیگر ارکان آگئے تو انہوں نے گھیراؤ،پتھراؤ،لڑائی اور ہلہ گلہ کیا ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے سب سے پہلے اسمبلی کا تقدس ہے جو ہمارا فخر ہے انہوں نے کہاکہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈران کا مشاورتی اجلاس بلایا تھا اس اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے جانے سے انکار کیا ہے اجلاس سے متعلق حکومتی اتحادیوں پی ٹی آئی، بی این پی (عوامی) جمہوری وطن پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی لیڈران اور نمائندوں نے نشست کی انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے سیکرٹریٹ اور ایوان کے کسٹوڈین کی طرف سے جو کردار اور کمزوریاں پیش آئی ہیں اگر وہ ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے ادا کی جاتیں تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا اب چونکہ بلوچستان عوامی پارٹی حکومت میں اکثریت میں ہے اور تمام اتحادیوں کی مشاورت اور ووٹ سے اسپیکر بلوچستان عوامی پارٹی سے منتخب ہوئے تھے تو اتحادی اپنا اعتراض اور تحفظات لیکر میرے پاس آئے ہیں ہم نے بڑی سنجیدیگی سے ان چیزوں پر غور کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے اسمبلی میں ایسا واقعہ ہونا باعث تشویش ہے اگر یہ واقعہ اسمبلی سے باہر ہوتا تو کم از کم ایوان کا تقدس پامال نہ ہوتا اسمبلی میں ہر رکن احترام سے اس لئے جاتا ہے کیونکہ اس ایوان کی بہت عزت ہے اگر اسمبلی سیکرٹریٹ کے لوگ اور وہاں کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نہیں نبھا رہے اوراسکی وجہ سے آج ہمیں شرمندگی ہوئی ہے تو ایسے ذمہ دار لوگوں کے حوالے سے سوالات بنتے ہیں جن پر بات کی جائے اتحادی اپنے خدشات لیکر ہمارے پاس آئے ہیں جس پر ہم نے بات چیت کی ہے انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مناسب نہیں ہے کہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی جائے اتحادیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کیا یہ بہترنہ ہوتا کہ پانچ دن پہلے یہ اجلاس بلایا جاتا؟ اسمبلی کے باہر دھرنا تھا ا ور اگر پہلے حکومت اور اپوزیشن کو بلا کر بات چیت کی جاتی تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے تمام جماعتوں
کے خدشات سنے ہیں اس حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی آپس میں بیٹھ کر مشاورت کریگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں یہ واقعہ یاد رکھا جائیگا چاہے اسکی دلیل اپوزیشن کے لوگ کچھ بھی دیں اسمبلی کی حدود کے باہر جو بھی نقصان ہوتا یہ مختلف معاملہ ہوتا اسمبلی کو نقصان پہنچانا اور ارکان کو اندر نہ جانے دینا پاکستا ن اوربلوچستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا ہم نے اس حملے کی مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کو باور کرواتاہوں کہ بلوچستان عوامی پارٹی سوجھ بوجھ کریگی اور چیزوں کو دیکھیں گے اور انہیں مزید سنجیدہ کیا جائیگا


