پاکستان کے حکمرانوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے ضامن میں مذاکرات ہوں، ڈاکٹر حکیم لہڑی

بلوچستان کے بلوچ بزرگ سیاسی رہنما ڈاکٹر حکیم لہڑی نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے بیان پر ردِعمل میں کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ آج تک انہوں نے بلوچوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی۔
حکیم لہڑی کے بقول، رواں برس مارچ میں بھی لاپتا افراد کے لواحقین نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جن سے وزیرِ اعظم نے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی گئی مگر ابھی تک ان لوگوں کے پیاروں کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1948 کے بعد سے لے کر تاحال بلوچوں سے بات چیت کے دعوے کیے گئے، لیکن بلوچوں کو مبینہ طور پر دھوکے کے سوا کچھ نہیں ملا۔
حکیم لہڑی کےبقول "1948 میں آغا عبدالکریم خان کو دھوکہ دیا گیا، 1958 میں نواب نوروز خان کو دھوکہ دے کر ان کو تمام ساتھیوں سمیت پھانسی دی گئی، سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خان نے بھی بلوچوں کے ساتھ یہی کیا۔ اس کے بعد ضیا الحق کا دور حکومت آیا انہوں نے بھی بلوچوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔”
خیال رہے کہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کے رہنما وسائل میں مناسب حصہ نہ دینے پر گلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔ البتہ 2006 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد بلوچستان میں مسلح مزاحمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
حکیم لہڑی کا کہنا تھا کہ سابق وزرائے اعظم محمد نوازشریف اور بینظیر بھٹو نے بھی وہی کام کیے جو ماضی میں ہوتا رہا آخر میں سابق صدر (ر) جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان میں جو کچھ کیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ اس حکومت کے بعد سے آج تک بلوچستان میں فوجی آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔
حکیم لہڑی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے پاس بلوچ مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کا اختیار نہیں ہے۔ کیوں کہ اس فیصلے کی طاقت ان کے الفاظ میں صرف اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بلوچستان مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں ہے اس لیے بات آرمی چیف سے ہو گی اور آرمی چیف بھی اگر بات کریں گے تو ان کو گارنٹی دینا ہو گی۔ اس وقت بھی مکران سے ڈیرہ بگٹی تک فوجی آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔
اُنہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اگر کوئی بھی بات چیت ہو تو اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کو اس کا ضامن چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں