عمران خان کل ازبکستان کا دو روزہ دورے پر روانہ ہونگے

اسلام آبا د:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان صدر شفقت مرزایوف کی دعوت پر 15 تا 16 جولائی 2021 کو ازبکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ایک اعلی سطحی وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا جس میں وزیر خارجہ اور کابینہ کے دیگر ارکان شامل ہیں۔ اس موقع پر پاکستانی نامور کاروباری شخصیات کا ایک بڑا گروپ بھی تاشقند کا دورہ کررہا ہے۔ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان وسیع امور پر بات چیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں پر محیط ہوگی جس میں خاص طورپر تجارت، معاشی تعاون اور رابطوں کی استواری پر گفتگو ہوگی۔ دونوں قائدین باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہراکرنے کے لئے متعدد معاہدات/ مفاہمت کی یاداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان ازبکستان بزنس فورم کے پہلے اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کی ممتاز کاروباری شخصیات فورم میں شرکت کریں گی جبکہ ’بزنس ٹو بزنس‘ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر دونوں اطراف تاشقند میں ’مشترکہ بین الحکومتی کمشن(جے آئی جی سی) کے چھٹے اجلاس اور ’مشترکہ بزنس کونسل‘ کے افتتاحی اجلاس کا بھی انعقاد کررہی ہیں۔ازبکستان کے صدر کی دعوت پر وزیراعظم بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے جو ”وسط وجنوبی ایشیاء کے علاقائی رابطوں کی استواری: مسائل اور امکانات“ کے موضوع پر منعقد ہورہی ہے۔ اس کانفرنس میں وسط اور جنوبی ایشیاء کے علاوہ دیگر اہم ممالک کے وزراء، اعلی نمائندے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں و تھنک ٹینکس کے اعلی عہدیدار اور سکالرز شرکت کریں گے۔ دورے کے دوران اپنی ملاقاتوں میں وزیراعظم ’نیا پاکستان‘، علاقائی اور عالمی سطح پر امن وسلامتی کے لئے پاکستان کی مثبت کاوشوں اور جیوپالیٹکس سے جیواکنامکس کی طرف تبدیلی کے اپنے وڑن کو اجاگر کریں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات استوار ہیں جو باہمی احترام اور مشترکہ ثقافت و ہم آہنگ روایات سے عبارت ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں خاطرخواہ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ قبل ازیں دونوں رہنماوں کی بیجنگ میں ’بی۔آر۔آئی‘ فورم اور بشکیک میں منعقدہ ’ایس۔سی۔او‘ سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے 14 اپریل 2021 کو ورچوئل دوطرفہ سربراہی اجلاس بھی منعقد کیاتھا۔ پاکستان نے ’وژن سینٹرل ایشیاء پالیسی کے تحت وسط ایشیاء کے ساتھ اپنے روابط کو گہرا کیا ہے جس میں سیاسی، تجارتی وسرمایہ کاری، توانائی اور رابطوں کی استواری، سلامتی ودفاع اور عوامی رابطوں کے پانچ کلیدی نکات پر توجہ مرکوزکی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں