پاک ایران بارڈربندش سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے،میر ہاشم نوتیزئی

دالبندین (آئی این پی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر ایم این اے رخشان ڈویژن حاجی میر محمد ہاشم نوتیزئی نے پاک ایران بارڈر پر واقع تفتان راہداری گیٹ زیروپوائنٹ اور بازار چہ پوائنٹ کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی شہر تفتان میں ہمسایہ ملک ایران سے تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنے سے چاغی سمیت پورے بلوچستان میں بیروزگاری کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے چاغی میں ویسے بھی پہلے سے بیروزگاری کا راج ہے دوسری جانب ملکی برآمدات کی ترسیل میں بھی رکاوٹیں پیش آرہی ہیں جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے انہوں نے کہا کہ سرحدی شہر تفتان جو کہ چند سال قبل پورے ملک کا اہم ترین تجارتی مرکز کہلاتا تھا جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ بر سر روزگار تھے مگر کاروباری و تجارتی سرگرمیاں محدود ہونے سے تجارتی شہر تفتان ویرانے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں پر کاروبار سے وابستہ لوگوں کے کروڑوں بلکہ اربوں روپے ڈوبنے لگے ہیں علاوہ ازیں بڑی تعداد میں مزدوروں نے روزگار نہ ملنے سے واپس اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جو کہ بیروزگاری کی انتہا ہے انہوں نے کہا کہ سرحدی شہر تفتان سے سالانہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ایف بی آر کو اربوں روپے ٹیکس کی مد میں جمع ہوتے تھے جو کہ ملکی زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بنتے تھے مگر اب نہ صرف سرحدی شہر تفتان کی رونقیں ماند پڑ گئیں بلکہ بیروزگاری میں اضافہ اور علاقے کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچے گا اس لیے وفاقی حکومت سرحدی شہر تفتان میں تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تاکہ تاجر برادری سمیت مزدور سکھ کا سانس لے سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں