بلوچستان اسمبلی اجلاس، قدیر خلیل کی روح اس ایوان سے انصاف مانگ رہی ہے، میر اسداللہ بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس، قدیر خلیل کی روح اس ایوان سے انصاف مانگ رہی ہے، اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ 2اگست کو پنجگور میں انسانیت سوز واقعے میں چار سالہ بچے عبدالقدیر کو اغواء اور پھر کچھ ہی دیر بعد سرپر وار کرکے قتل کردیاگیا آج قدیر کی روح اس ایوان سے انصاف مانگ رہی ہے اور پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ ایوان اس کی ماں کے آنسو پونچھ سکتا ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ پنجگور میں گزشتہ کچھ عرصے میں عالم دین سمیت سات افراد شہید ہوئے ہیں میں نے آئی جی کو درخواست کی تھی کہ ڈی پی او علاقے کا امن قائم کرنے میں ناکام ہے انہیں تبدیل کیا جائے کہا یہ جاتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر ایک ایس ایچ او بھی تعینات نہیں کیا جائے گا اگر منتخب ارکان اسمبلی کوئی ناجائز مطالبہ کرے تو اس پر کسی صورت عمل نہیں ہونا چاہئے مگر بیورو کریسی کو جائز باتوں پر عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے میں نے 21ہزار ووٹ لئے مگر ایک آفیسر کو تبدیل نہیں کیا جارہا اور کوشش کی جارہی ہے کہ میر اسداللہ بلوچ اور بی این پی عوامی کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا جائے لیکن یہ مینڈیٹ میری چالیس سال کی سیاست کا نتیجہ ہے میں عوام کے مفادکا آخری سانس تک دفاع کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈی پی او پنجگور اتنے قابل افسر ہیں تو آئی جی پولیس انہیں اپنے آبائی علاقے بہاولپور لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پنجگور کا امن خراب ہورہا ہے آج معصوم بچے کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو کل ایسے اور واقعات ہوں گے کیا سماج میں غریب کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔ اسمبلی میں ہر دوسرے دن قاتلوں کی گرفتاری کی قرار دادیں پیش ہورہی ہیں بلوچستان کو امن کی ضرورت ہے سیاسی جماعتوں کی حیثیت کو ختم کیا جارہا ہے سیاسی جماعتیں اپنے اتحاد سے سرزمین اور مفادات کا تحفظ کریں۔


