اشرف غنی حکومت؛ فیصلہ کرنے میں دیر کردی
حالت امن میں ’تیل دیکھو،تیل کی دھار دیکھو‘کا اصول آزمایا جائے توحکمتِ عملی کو نتائج آنے تک جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں،اس لئے کہ جلسے،جلوس، ریلیاں اور نعرے بازی سیاسی روایات کا حصہ ہیں۔ایک آدھ دن کی ہڑتال بھی نظر انداز کی جاسکتی ہے۔مگر افغانستان میں 20سال سے خونی جنگ لڑی جا رہی ہے۔جنگ کا (وسائل کے لحاظ سے)بڑا فریق امریکی فوج اور اس کی اتحادی نیٹو افواج تھیں،دوسرا فریق شلوار قمیض میں ملبوس اور سر پر روایتی پگڑی باندھے افغان طالبان تھا،حامد کرزئی اور ان کے جانشین اشرف غنی حملہ آور امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے بظاہر حکومت،مگردر حقیقت امریکہ کے فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہے تھے۔انہیں کامل یقین تھا کہ امریکہ اپنی عسکری قوت اور نیٹو افواج کی مدد سے افغان طالبان کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دے گا۔اس کے بعد وہ مرتے دم تک افغانستان کے (پٹھو)حکمران بنے رہیں گے۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اکلوتی عالمی طاقت اور اس کے ”طاقت ور“ نیٹو اتحادی رات کی تاریکی میں انتہائی رازداری اور خاموشی سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔اشرف غنی اور ان کی کابینہ کوامرئیکی افواج کے جانے کی اطلاع طلوعِ آفتاب کے بعد اس وقت ملی جب ناشتہ پہنچانے والوں نے بگرام ایئر بیس خالی دیکھی۔ اس کے بعد اشرف غنی حکومت کا امریکی اور نیٹو افواج کی میزبانی والا کردار ختم ہوگیا۔بدقسمتی یہ ہے کہ اشرف غنی(اور ان کی کابینہ) امریکی اور نیٹوافواج کی روانگی کے بعد بھی افغان طالبان سے معاملات طے کرنے میں ناکام رہے۔اشرف غنی اور ان کے حکومتی ساتھی یہ سادا سی سچائی ماننے کوتیار نہیں کہ جو جنگ وہ امریکی اور نیٹو افواج کے ساتھ مل کر20برسوں میں نہیں جیت سکے، وہی جنگ اب تنہا(اپنے افغان فوجیوں کے بل پر) لڑ کر کیسے جیت جائیں گے؟ امریکی اور نیٹو افواج کی افغانستان سے روانگی کا انداز (ناقابل شکست ہونے کے)سارے راز افشاء کرنے کے لئے کافی ہے۔اگر افغان حکومت سیاسی فہم و فراست سے کام لیتی اوراپنے دماغ سے سوچتی کہ امریکہ نے دوحہ معاہدہ کرتے وقت انہیں کلیتاً نظر انداز کیوں کیا تھا؟ جس لمحے افغان طالبان اور امریکی نمائندوں نے دوحہ میں دستخط کئے تھے،اسی لمحے باوقار سمجھوتہ کرنے کا وقت اشرف غنی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیاتھا۔امریکہ نے رازدارانہ انداز میں افغانستان سے امریکہ واپسی اختیارکر کے مستقبل کی پوری ”داستان“ بیان کر دی تھی، اشرف غنی حکومت اس ان کہی داستان کو سننے اور پڑھنے سے قاصر رہی،ورنہ وقت ضائع نہ کرتی۔طاقت کاتوازن فریقِ ثانی کومنتقل ہوتے ہی اپنا دست تعاون افغان طالبان کی جانب بڑھایا جاتا،اپنے کئے کی نرم الفاظ میں ”معذرت“ کرتے،اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوتے کہ وہ افغان طالبان کو جلد یا بدیر زیر کر لیں گے۔ایک سیاستدان کی حیثیت سے انہیں یاد ہونا چاہیئے تھا کہ سیاست وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا نام ہے۔ اس میں چوک ہو جائے تو بازی مات ہو جاتی ہے۔اب تو ’دیر‘ کا لفظ بھی یہاں موزوں نہیں لگتا۔دو صوبائی دارالحکومتوں پر افغان طالبان کے قبضے کو درست تناظر میں دیکھاجائے۔دنیا کو یہ پیغام دیا جا چکا ہے کہ افغانستان میں امریکی اتحادی حکومت کا کردار ختم ہو گیا ہے۔دنیانے رشیددوستم کے گڑھ پر افغان طالبان کے قبضے کو اشرف غنی حکومت سے مختلف انداز میں سمجھا ہے۔سچ یہ ہے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا۔ امریکہ میدان جنگ سے انتہائی خوفزدہ ہوکر بھاگا ہے۔سچ یہ ہے کہ امریکہ اگراشرف غنی حکومت کو کچھ دلوانے کی پوزیشن میں ہوتاتو دوحہ معاہدے میں دلوا دیتا۔لگتا ہے صدر اشرف غنی اور ان کی کابینہ نے ”دوحہ معاہدہ“ بھی غور سے نہیں پڑھا،ورنہ بگرام بیس خالی ہونے کے بعد وہ سمجھ جاتے کہ اب جو کچھ کرنا ہے، افغان طالبان سے براہِ راست مذاکرات کے ذریعے انہوں نے خود ہی کرناہے۔اب ان کی پوزیشن بہت کمزور ہو چکی ہے، کچھ کرنا چاہیں تب بھی ڈکٹیشن لینے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔بارگیننگ کے امکانات بظاہر دکھائی نہیں دے رہے۔مذاکرات کی میز پر اشرف غنی کی ٹیم کوئی حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے تو راستہ نکل سکتا ہے۔لیکن یہ کام بھی اعصاب کی مضبوطی کا متقاضی ہے۔میدان جنگ میں ٹال مٹول توقع سے کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہواکرتی ہے۔اشرف غنی حکومت کو امریکہ اور اس کے اتحادی میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگے ہیں، یہ رویہ بے حد شرمناک ہے، اتحادی ایسا نہیں کیا کرتے۔امریکی سورماؤں کے اعصاب 20برس تک مسلسل جنگ کے بے نتیجہ ہونے پر شل ہو چکے تھے،انہیں الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ افغان حکومت کو حقیقت سے کیسے آگاہ کریں؟ کہاں پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کے پر جلال اور پر شکوہ دعوے اور کہاں یہ بے بسی!!! بگرام بیس کا بچا کھچا اسباب کباڑیوں کی دکانوں پر کچرے کے طور پر بکتانظر آئے!!! اشرف غنی حکومت بھی ابھی صدمے میں ہوگی، لیکن اس کے باوجود انہیں ہمت سے کام لینا ہے ہے لیکن ہمت سے کام لینے کے یہ معنی نہ لئے جائیں کہ وہ جنگ جیت سکتے ہیں، جنگ بہت پہلے ہاری جا چکی ہے، جی ہاں، ”دوحہ معاہدہ“ پردستخط کئے جانے کی رسمی کارروائی سے بھی بہت پہلے!یہ معاہدہ اسی تسلیم شدہ شکست کی عکاسی کرتا ہے۔ اشرف غنی خود بھی ایک جہاں دیدہ شخص ہیں، دنیا کے کسی دوسرے شخص سے بہتر جانتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں انہیں کیا کرنا ہے؟ انہیں ادراک ہوگیا ہوگا کہ سارا بوجھ ان کے کندھوں پر آگیا ہے۔ کوشش کی جائے کہ موعودہ دوحہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایاجائے، قتل اورخون ریزی گزشتہ بیس برس سے جاری ہے، اب اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔اس حقیقت کو فراموش نہ کیا جائے کہ مذاکرات کی میز کے دونوں جانب افغان بیٹھے ہیں، اور دونوں جانب سے لڑی جانے والی جنگ بھی افغان خود لڑ رہے ہیں۔دونوں جانب سے افغان مارے جارہے ہیں۔ایک امریکی نہیں مر رہا،
ایک نیٹو فوجی نہیں مر رہا۔وہ ہار مان کر اپنے ملکوں کو جا چکے۔واضح رہے مذاکرات کے ذریعے معاہدہ اس قتل و خونریزی کو ختم کر سکتا ہے۔حالات فریقین کو اس مقام تک لے آئے ہیں کہ جنگ بندی کوایک بڑی کامیابی سمجھاجائے تو غلط نہ ہوگا۔سوچیں، فضائیہ کے جنگی طیارے سے بم برسانے والا افغان ہے، جن لوگوں پر بم گرائے جا رہے ہیں، وہ بھی افغان ہیں۔کیا دونو ں اسی سرزمین کے سپوت نہیں؟کیادونو ں کوئی جائز جنگ لٖڑہے ہیں؟ یقیناان میں سے ایک امریکی مفادات کی جنگ لڑرہا ہے۔اگر امریکہ چین کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تواسے چاہیے کہ اس ”عظیم مقصد“ کے لئے اپنے امریکی فوجی اور امریکی سویلین بموں کے سامنے لائے، افغانوں کی مزیدلاشیں نہ گرائے۔


