مکران کوسٹل ہائی وے پر تین روز سے جاری دھرنا اختتام پذیر ہو گیا

گوادر :مکران کوسٹل ہائی وے پر تین روزسے جاری دھرنااختتام پذیر ہوگیا،صوبائی مزیرفشریز حاجی اکبرآسکانی،کوارڈینیٹروزیراعلی میرعبدالرؤف رند اور دھرنا شرکا کے مابین مذکرات کامیاب ہوگئے،مظاہرین کی تمام شرائط مان لیئے گئے،تین دن سے کھڑی مسافر گاڑیاں اپنے منزل مقصودکی طرف روانہ ہوگئے گوادر کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا تھا جو مکران کوسٹل ہائی وے پر دی گئی تھی ایک اندازے کے مطابق دھرنا میں پانچ سو کے قریب لوگ شامل تھے جو جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں دھرنا دیئے ہوئے تھے دھرنا کے پہلے دن تحصیلدار سربندن نے مذاکرات کئے جو ناکام رہا جبکہ دوسرے دن ڈپٹی کمشنر گوادر سمیت دیگر سیاسی عمائدین نے مذاکرات کی کوشش کی لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکے اور ہفتے کے روز مشیرفشریز حاجی اکبر آسکانی اور وزیراعلی بلوچستان کے کوارڈینیٹر میرعبدالروف رند نے مذاکرات کی یہ مزاکرات کامیاب رہا جس پر مظاہرین اپنادھرنا ختم کردینے کا اعلان کردیا دھرنا ختم ہونے کے بعد کوسٹل ہائی وے کو عام ٹریفک کے لیئے کھول دیاگیا جہاں سینکڑوں گاڑیاں تین روز بعد اپنے منزل مقصود کی جانب روانہ ہوگئیں مذاکرات کے دوران سیکریٹری فشریز بلوچستان نے کہاکہ کشتیوں کی لائسنس فیس کو کم کرکے ماہی گیر پرانے فیس کے حساب سے پیسے جمع کریں انہوں نے کہاکہ فشریز کے ہیڈ کوارٹر کو کوئٹہ سے اوتھل کے مقام پرمنتقل کردینے کا فیصلہ کیاگیا ہے تاکہ ماہی گیرباآسانی اپنے مسائل کے حل کے لیئے اوتھل جاسکیں کیونکہ کوئٹہ ماہی گیروں کے لیئے دور پڑتاہے اس موقع پر وزیراعلی کے کوارڈینیٹر میرعبدالروف رند نے سیکریٹری فشریز بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ براہ راست ماہی گیر نمائندوں سے رابطے میں رہے۔دھرنا کے شرکا نے مشیرفشریز حاجی اکبر آسکانی کو بتایا کہ غیرقانونی ٹرالنگ کی وجہ سے وہ دووقت کی روٹی کا محتاج ہوکر رہ گئے ہیں لہذا غیرقانونی ٹرالنگ پر فوری طور پر قابو پایا جائے جس پر مشیرفشریز نے ڈائریکٹرفشریز گوادر کو فوری طور پر ہدایت جاری کردی کہ ضلع گوادر کے سمندر کو غیرقانونی ٹرالنگ سے پاک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں