زمینی حقائق یا افغان طالبان کی حمایت؟

کیا یہ سچ نہیں کہ کابل سے امریکہ نواز افغان حکومت کے سربراہ ”صدر“ اشرف غنی کابل کے دفاع میں بغیر ایک گولی چلائے کابل ایئر پورٹ سے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے قبل الوداعی ہاتھ لہراتے ہوئے کسی نامعلوم منزل کی طرف روانہ نہیں ہوئے؟ کیا یہ بھی سچ نہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت نے افغان طالبان کا والہانہ استقبال نہیں کیا؟کیا امریکہ نے اپنی بنائی ہوئی(اشرف غنی) حکومت سے کو اعتماد میں لئے بغیر بگرام ایئربیس رات کی تاریکی میں انتہائی رازدارانہ انداز میں خالی نہیں کی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ آج اپنے معاونین کو افغانستان میں غیر محفوظ سمجھتے ہوئے انہیں کم سے کم وقت میں کسی قریبی ملک میں منتقل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں مار رہا؟کیا امریکی صدر جو بائیڈن اپنے قومی خطاب میں اس شرمناک عسکری ناکامی کو 20سالہ طویل جنگ کا منطقی انجام کہہ کر صبر کرنے کی تلقین نہیں کررہے؟کیا امریکی صدر ویت نام کی طرح اپنے سفارت کاروں کو چھتوں سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ایئر پورٹ پہنچانے کی بجائے بائی روڈ ایئر پورٹ پہنچنے پر خوشی کا اظہار نہیں کر رہے؟ کیا امریکی میڈیا اپنے حکمرانوں سے ہزاروں ارب ڈالرخرچ کرنے کے بعد ذلت کا سامنا کرنے پر پوچھ گچھ نہیں کر رہا؟کیا امریکہ میں 29فروری2020کودوحہ میں اسلامی امارات افغانستان کے نمائندوں (ملاعبدالغنی برادر)اور دیگر کے ساتھ افغانستان سے مئی2021 تک فوجی انخلاء کا معاہدے پر دستخط نہیں کئے؟کیا معاہدے پر امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے دستخط نہیں کئے تھے؟ کیایہ واقعات عالمی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ نہیں؟ کیا یہ زمینی حقائق نہیں؟ کیا ان حقائق سے آنکھیں بند کرکے ملکی سیاست پر بات کی جا سکتی ہے؟ کیا ہم نے امریکی دوستی میں اپنے ہمسایہ روس کی ناراضگی مول نہیں لی؟کیا پاکستان نے بڈہ بیر کا ہوائی اڈہ امریکہ کے حوالے نہیں کیا تھا؟کیا یہ اڈاہ روس کی جاسوسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا؟ کیا پشاور کے گرد سرخ دائرہ کھینچنے کی روس نے دھمکی نہیں دی تھی؟ کیا پاکستان نے امریکی دوستی میں اپنا ناقابل برداشت جانی اورمالی نقصان نہیں کیا؟ہمارے سیاست دانوں اور سیاسی دانشوروں کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ آج کی نوجوان نسل کے سامنے مکمل دیانت داری کے ساتھ مذکورہ سوالات کا جواب رکھیں۔مکمل دیانت داری کے معنے ہیں کہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر سچ لکھیں۔ہمارے دانشوروں کی اکثریت عمر کے آخری حصے میں ہے، انہیں چاہیئے کہ تاریخی سچائیاں اپنے ساتھ قبر میں لے کر نہ جائیں۔بلا کم و کاست نوجوان نسل کو بتائیں۔تاکہ وہ اپنی نظریاتی سمت درست کر سکیں۔منزل کا تعین کرنے میں انہیں آسانی رہے۔ماسکو میں برفباری کی خبر سن کر پاکستان میں گرم کوٹ پہننے پراصرار نہ کریں۔ایک دوسرے کو”لیفٹ“ ہونے کے باوجود ”ترمیم پسند“ اور”جدید ترمیم پسند“ جیسی گالیوں سے نہ نوازیں۔”لال کتاب“پڑھنے والے خود کو سچا انقلابی اور لینن کا بیج لگانے والوں کوانقلاب دشمن نہ سمجھیں۔لینن کے مضامین کو کسانوں اور کھیت مزدوروں کے خلاف نہ کہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ جو جتنا علم رکھتا ہے بے خوف ہوکر معاشرے کے سامنے رکھے۔ سقوطِ کابل کے بعد خاموشی سنگین جرم ہے، عظیم گناہ ہے۔کون نہیں جانتا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے پلک جھپکتے صدیاں گزرگئیں، ایسے وقت ہم انجانے خوف سے خاموش رہیں اور اپنے بچوں کو یہ نہ بتائیں کہ ایسا کیوں ہوا؟یہ الاؤ کب سے ہمارے ہمسایہ ملک میں جل رہا تھا اور ہم اس کی مختلف تاویلیں بیان کر رہے تھے۔کوئی اسے سبز اور کوئی سرخ انقلاب باور کرانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔حالانکہ دونوں طرف کے مبلغین اس راز سے باخبر تھے کہ یہ مفادات کی جنگ ہے۔بیلوں کی لڑائی میں مینڈک کچلے جائیں گے۔ ہاتھی تو صرف دو مرتبہ میدان میں کودے۔پہلاہاتھی 1979 میں اچانک اور غیر متوقع طور پر، جبکہ دوسرا2001 میں میدان میں اپنے ہم نواؤں کے ساتھ بھرپور تیاری سے دھاڑتا ہوا آیا۔ دونوں کو علم نہیں تھا کہ ایک 1989میں اوردوسرا2021میں بے نیل و مرام واپس چلا جائے گا۔ تاریخ دونوں واقعات اپنے ریکارڈ کا حصہ بنائے گی۔مبلغین اپنی پسند کی تاویلیں بیان کرتے رہ جائیں گے۔اب تو تاریخ کی موٹی موٹی کتابیں کھنگالنے کی ضرورت نہیں رہی، گوگل پر سوال پوچھیں، اور سیکنڈوں میں جواب پڑھ لیں۔جو گوگل چھپائے اسے اپنی فہم و دانش سے کرید کر بے نقاب کر دیں۔ جنگ میں ہارنے والا جوفریق جتنا زور سے روئے سمجھ لیں اس کا اتنا ہی زیادہ نقصان ہوا ہے۔جو کم روئے وہ کم نقصان اٹھانے والا ہے۔ابھی نیٹو والے ہلکی آواز میں کراہ رہے ہیں،برطانیہ بھی تلملارہا ہے مگر کبھی روتا ہے، کبھی ہنستا ہے۔یعنی کچھ کھویا ہے تو کچھ پایا بھی ہے۔چین اورروس آج افغانستان کی تعمیر کے لئے فکر مند ہیں،تاکہ جو لگایا ہے مع منافع کل وصول کر سکیں۔یہاں خالص ثواب کے لئے سرمایہ کاری کاچلن ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ہر کوئی دو پیسے کا فائدہ چاہتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے برطانوی،فرانسیسی، ولندیزی اورامریکی سامراج نے اسلحے کے زور پر دنیا بھر کے کمزور ملکوں کو اپنا محکموم بنایا، ان کے وسائل کو بیدردی سے لوٹا،جہاں جہاں عوام نے جدوجہد کی،سامراجی قوتوں سے آزاد ہو گئے، جہاں کسی غیبی قوت کا انتظار کیا گیا محکوم رہے۔یہ حقیقت فراموش نہ کی جائے آزادی طشتری میں سجا کر پیش نہیں کی جاتی،جانی و مالی قربانیاں دے کر قوت بازو سے چھیننی پڑتی ہے۔ہمارے پڑوس میں یہ تاریخ طویل وقفے کے بعد دہرائی گئی ہے اس لئے بعض دانشور جوکبر سنی کے باعث اس طوفانی تبدیلی کے خدو خال نہیں سمجھ سکے، یہ بھی سچ ہے کہ بیشتر گھروں میں محصورریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ کبھی کبھار پرانی معلومات، پرانی اصطلاحات،پرانی یادوں کے سہارے جدید دور کے مسائل پر طنزکے کے نشتر برسا کر سمجھتے ہیں ان کا فرض ادا ہو گیا۔سامراج سے نجات کا کوئی راستہ تجویز نہیں کرتے۔ماضی میں ٹریڈ یونین سیاست کی نرسری ہوا کرتی تھی، چار دہائیاں پہلے ٹھیکیداری نظام نافذ کرکے اس کا گلا گھونٹ دیا گیا، جہاں تھوڑی بہت زندگی کی رمق ہے وہاں ٹریڈ یونین لیڈر اشرافیہ بن گئے یاحکومتی سرپرستی میں بنا دیئے گئے۔منافع بخش اداروں کا بیڑہ غرق ہوگیا، ملازمین کی تنخواہیں دینے کی سکت نہ رہی۔ پارلیمنٹ قانون سازی کی بجائے ہلڑ بازی میں مصروف ہے۔عوام مہنگائی کے ہاتھوں ادھ موئے ہوچکے ہیں۔نہ جانے کیسے سانس لے رہے ہیں! جب تک دانشور نیم خوابی سے باہر نہیں نکلیں گے،اپنے علم، تجربے اور ذہانت سے کام لے کر عوام کی درست سمت میں رہنمائی نہیں کریں گے،گومگو کی کیفیت ختم نہیں ہوگی۔آج زیرک،نڈراور بے لوث رہنمائی درکار ہے۔جو کچھ کر سکتے ہیں انہیں چاہیئے اپنا حصہ ڈالیں۔منزل کی نشاندہی کریں،۔ آج منشور، الفتح، لیل و نہار اور سنگت جیسے جریدوں کی کمی ہے۔موسیٰ سے مارکس تک لکھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔حالانکہ جدید ذرائع ابلاغ نے کئی آسانیاں پیداکر دی ہیں۔یو ٹیوب پر کام کرنے کی بہت گنجائش ہے۔رابطہ بڑھانے اورراستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ سوچیں!۔۔۔ رہنمائی کے بغیر عوام اپنا قبلہ کیسے درست کریں گے؟رہنمائی فراہم کرنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں