جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار

جمہوریت کا لفظ زبان پر آتے ہی یہ جملہ خود بخود ذہن کی اسکرین پر جگمگانے لگتا ہے:ایسی حکومت جو عوام کے لئے ہو، عوام کی ہو اور عوام ہی اسے چلائیں۔یہ تینوں خصوصیات پاکستان کے عوام نے عملی سطح پربیک وقت فعال بوجوہ نہیں دیکھیں۔وجوہات کی طویل فہرست مبصرین وقتاً فوقتاً بیان کرتے رہتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کا نام پہلے نمبر پر نہیں رہا، دیگر نام زیر بحث آگئے۔اس کاایک سبب قیام پاکستان کے لئے چلائی جانے والی تحریک کے دوران دیئے گئے دلا ئل اور نعرے تھے۔یہ دلائل جاندار نہ ہوتے اور انہیں عوام میں پذیرائی نہ ملتی تو یقینا وہ جماعتیں عوام کو اپنا ہم نوا بنا لیتیں جو قیام پاکستان کے حق میں نہیں تھیں۔اور آج بھی اس مکتبہئ فکر کی جماعتوں کی زبان پر یہ جملہ آجاتاہے کہ قیام پاکستان کے لئے کی جانے والی جدوجہد میں ان کے اکابرین شامل نہیں تھے۔لیکن یاد رہے یہ نعرے قیام پاکستان سے بہت پہلے اس دور میں لگائے گئے تھے جب برصغیر میں سات سمندر پارکی بادشاہت قائم تھی۔چنانچہ اس دور کے حالات، نفسیات اور عوامی جذبات سے الگ کرکے دیکھنا درست نہیں۔آج اکابرین ہم میں موجود نہیں، وہ غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔آزادپاکستان میں پیدا ہونے والی پہلی نسل حکومت چلارہی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قیام پاکستان کے بعد پرانی سیاسی رنجشیں بھلا دی جاتیں۔نئے حقائق کی روشنی میں باہمی مشاورت سے ایک لائحہ عمل طے کر لیا جاتا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔طویل عرصے تک قائم رہنے والی غیر ملکی بادشاہت کے اثرات پلک جھپکتے ہی ذہنوں سے معدوم نہیں ہوا کرتے،دیر تک فکری طور پر مؤثر رہتے ہیں۔سماج زندہ انسانوں کی اجتماعی فکر کے زیر اثر ہوتا ہے،آلات پیداوار بھی اپنا اثر دکھاتے ہیں۔پتھر کے زمانے والے سماجی رشتے جاگیری نظام میں دوسری شکل میں ڈھل جاتے ہیں، صنعتی دور کے تقاضے انسان کو نئی سوچ سے آشنا کرتے ہیں۔صنعت کار کو مشینیں چلانے کے لئے مزدوردرکار ہوتے ہیں جو جاگیردار کی زمینوں پر کھیت مزدور یا زرعی غلام کی حیثیت میں چوبیس گھنٹے کے ملازم ہوتے ہیں اور جاگیردارفصل کی کٹائی کے موقع پراپنا حصہ ہی وصول نہیں کرتا بلکہ اپنے گھوڑوں اور مہمانوں کے اخراجات وصول کرنے کے بعد جو تھوڑا بہت اناج محنت کشوں کو دیتا ہے اس میں ان کے خاندان کی کفالت بھی ممکن نہیں ہوتی۔دوسری طرف صنعت کارہفتہ وار بنیادوں پر اجرت ادا کرتا ہے،اس اجرت سے صنعتی مزدور کی زندگی کھیت کے مزدورکی نسبت قدرے آسان ہو جاتی ہے۔چنانچہ وہ کھیتوں سے صنعتوں کا رخ کرتے ہیں۔صنعت کار اور جاگیردار کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ دو نظریاتی نعروں کو جنم دیتا ہے۔جاگیر دار کھیت مزدور کو سمجھاتا ہے:”زمین تمہاری پرورش ماں کی طرح کرتی ہے،تمہیں اپنی ماں کو چھوڑتے ہوئے شرم نہیں آتی؟“، صنعت کار نعرہ وضع کرتا:”انسان آزاد پیدا ہوتا ہے، کوئی اسے غلام نہیں بنا سکتا“۔لہٰذا وہ جہاں چاہے جائے، جو کام کرنا چاہے کرے،کوئی روک نہیں سکتا“۔یہ تاریخی پس منظر بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آج تحریکِ پاکستان کے حامیوں اور مخالفین کی تیسری نسل اقتدار میں آنے کے لئے پر تول رہی ہے۔اسے علم ہونا چاہیے کہ طبقاتی مفادات نعرے تخلیق کرتے ہیں۔نئی نسل محتاط رہے اور اپنا مفاد سامنے رکھے۔کسی مفاد پرست کے جھانسے میں نہ آئے۔ہمارے دانشور بھی نئی نسل کو تاریخ اور سماج کے ارتقاء کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کرتے رہیں۔درسی کتب میں اس پہلو کو اجاگر نہیں کیا جاتا،درسی نصاب میں اس موضوع پر سرسری بات کی جاتی ہے،سوالات کا اسے حصہ نہیں بنایا جاتا۔علاوہ ازیں آج نئی نسل کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ موبائل ہے، گوگل نے اس کی دلچسپی کے نئے باب کھول دیئے ہیں۔ٹک ٹاکر توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔منٹوں میں ٹک ٹاکر کی کال پر یا بن بلائے مینار پاکستان سینکڑوں لوگ پہنچ جاتے ہیں۔سیاسی قائدین کے بلانے پر یہ مستعدی نہیں دکھائی دیتی۔سیاست دان انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کواپنے گرد جمع کرنے کا فن جانتے ہیں اس لئے علمی بحث ان کے نزدیک کوئی کشش نہیں رکھتی۔ان کا اپناعلم بھی واجبی سا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جیساجہاں دیدہ شخص اپنی حکومت کی تین سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے بلوچستان کی حکومت کو اپنی اتحادی حکومت نہیں مانتا،یاد دلانے پر اس کا ذکر کرتا ہے۔جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ایک دوسرے کے ساتھ ملانے والی بات بھی زیادہ پرانی نہیں۔دانشور اپنی ذمہ داری نبھائیں، نوجوان نسل کو سیاست کی باریکیاں سمجھائیں۔مذہب کوبھی معاشرتی قوت کے طور پر سامنے رکھیں۔من مانی تاویلوں کے نقصانات سے بچنے کی ضرورت ہے۔28اپریل 2021 کو سعودی عرب حدیث کی جگہ قرآن کو دین کی مرکزی حیثیت دے چکا ہے۔افغانستان میں بھی سعودی اقدام کی اتباع کی جائے گی۔اگر ایران بھی فر قہ واریت کو نرم کر لے تودین کا خوف دنیا کے دل سے کافی حدتک دور ہو جائے گا۔پاکستان میں ”ایک ملک، ایک نصاب“کے نتیجے میں مدارس سے ”علماء“ کی بڑی کھیپ معاشرے کا حصہ بننارک جائے گا۔ اس کے معنے یہی لئے جا سکتے ہیں کہ یہاں بھی سعودی عرب جیسا راستہ اپنایا جائے گا۔یہ بھی یاد رہے کہ خطے میں رونما ہونے والے واقعات بھی اپنا اثر دکھاتے ہیں۔اپوزیشن گزشتہ برسوں میں روا رکھی گئی سیاسی حکمت عملی کے زیرِ اثر باریوں کی عادی ہو چکی ہے،اسے آج بھی امید ہے غیر سیاسی ادارہ ایک بار پھر مفاہمت کے لئے تیار ہو جائے گا۔ حالانکہ حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ یہ امید پوری ہونے امکانات نہ ہونے کی سطح تک کم ہو گئے ہیں۔ پاکستان امریکی کیمپ کا زبانی کلامی حصہ رہ گیا ہے۔عملاً اس کی ساری اٹھک بیٹھک ہمسایہ ممالک تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔وزیر خارجہ کے دورے یہی اشارا کرتے ہیں۔امریکہ کا بڑا ہتھیار معاشی پابندیاں تھا،چین نے اس محاذ پر جو پیشرفت کی ہے اسے نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن عوام میں جانے سے گریزاں ہے۔پی پی پی ماضی میں اہم سیاسی قوت تھی،آج کہاں کھڑی ہے اسے سوچنا ہوگا۔ملکی،علاقائی اورعالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھیں بند رکھی جائیں تو سیاست بند گلی میں پہنچ جاتی ہے۔حکومت کو فعال اپوزیشن کنٹرول کرتی ہے،حکومت بے لگام ہوجائے توجمہوریت کی تعریف دھندلانا شروع ہو جاتی ہے۔عوام سے دور اور خواص کے قریب ہوجاتی ہے۔گزشتہ چار دہائیوں کے جمہوری سفر پر نگاہ ڈالی جائے تومستقبل کے خدو خال کا اندازہ ہو جاتا ہے۔زمینی حقائق تسلیم کئے جائیں، حقائق کو جھٹلانا فائدہ مند نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں