تاجر دشمن پالیسیوں کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج کا آغاز شروع کیا جائیگا، عبدالرحیم کاکڑ
کوئٹ یمرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ حضرت علی اچکزئی سید عبدالقیوم آغا میر یاسین مینگل سعداللہ اچکزئی حاجی ہاشم کاکڑ عبدالخالق آغا حاجی ظفر کاکڑ حاجی حمداللہ ترین دوست محمد آغا حاجی خدائیددوست خرم اختر حاجی ودان علی کاکڑ عطامحمد کاکڑ ظہور آغا نعمت آغا حاجی محمد یونس عبدالعلی ڈمر ودیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت اور ایف بی آر کی تاجر دشمن ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج کا آغاز شروع کیا جائے گا پورے ملک کے تاجر چیخ رہے ہیں حکومت اور ایف بی آر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں بے حس محکمہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ڈیوائس لگانے کا جو فیصلہ کیا وہ کسی صور قبول نہیں کریں گے۔ ایف بی آر کی جبری ٹیکس وصولی کا طریقہ قابل مذمت ہے تاجروں نے ہمیشہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کا ساتھ دیا ایف بی آر سمیت مختلف محکموں کے ٹیکس ادا کئے ہیں اور کرانا چاہتے ہیں مگر ایف بی آر کی غنڈہ ٹیکس جبری ٹیکس زور زبردستی ٹیکس پالیسیاں بنانا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تاجر ایف بی آر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں یہ تحریک ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی تحریک ہے یہ تحریک ٹیکس نہ دینے کیلئے نہیں بلکہ جائز ٹیکس دینے کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پورا ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے غریب غریب تر ہوچکا ہے بے روزگاری کی انتہا ہوچکی ہے۔ مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں یہ سب ایف بی آر کی ناکارہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو جو سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے وہ دھوکہ ہے وزیراعظم کو ایف بی آر نے غلط اعداد و شمار بتائے اور پاکستان کی معیشت پر شب خون مارا گیا ہم اپنے حقوق کیلئے نہیں ملک کی معیشت کے حق کے لئے نکلے ہیں حکومت مارے جائز مطالبات پورے کرے بصورت دیگر ہماری احتجاجی تحریک شروع ہوچکی ہے اور حقوق کے حصول تک جاری رہے گی حکومت اور ایف بی آر نے نوشتہ دیوار کو نہ پڑھا تو پھر 29ستمبر کو اسلام آباد میں ایف بی آر کے ہیڈکوارٹر کے سامنے ملک بھر کے تاجر جمع ہوکر تاریخی دھرنا دینگے اور اپنے جائز مطالبات تسلیم کروائیں گے۔


