چوکنا رہیں، خوفزدہ نہ ہوں
مغربی ہمسایہ ملک افغانستان میں رونما ہونے والی غیر متوقع تبدیلی کے اثرات بارے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں بیچینی پائی جاتی ہے جبکہ عسکری حلقوں کی جانب سے حالات قابو میں رہنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔اطمینان کی بڑی وجہ افغانستان سے مہاجرین کا نہ آنا ہے۔اگر ہمسایہ ملک میں یہی رجحان برقرار رہا تو خطے میں دہشت گردی سمیت دیگر معاشی و سماجی مسائل پیدا ہونے کے خطرات انتہائی کم ہو جائیں گے۔31اگست کی شب امریکی افواج کا پرمن انخلاء اور افغان طالبان کا حکومت سنبھال لینادوررس نتائج کا حامل ایسا واقعہ ہے جسے مثبت انداز میں سمجھا جائے تو افغان عوام کے علاوہ اس خطے میں ترقی اور خوشحالی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔وسط ایشائی ممالک سے تجات کا بدامنی کی وجہ سے بنددروازہ کھل جائے گا۔ایران سے کئے گئے 9سال پرانے گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد ممکن ہو جائے گا۔دیگر شعبوں میں بھی تجارتی روابط کو فروغ ملے گا۔پاکستان کے عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ امریکی انخلاء کے بعد اس خطے کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہوگی اس کا اندازہ آئندہ چند ہفتوں میں ہوگا، فی الحال امریکہ بہت بڑے نفسیاتی صدمے سے دوچار ہے۔امریکی صدر تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ رات امریکی ڈرون دہلی کی طرف جاتے دیکھے گئے ہیں۔اس سے یہی نظر آتا ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر اس خطے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گا۔کابل سے روانگی کے یہ معنی نہیں کہ امریکہ اس خطے سے بوریا بستر سمیٹ کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا ہے۔اس خطے میں اس کی بھاری انویسٹمنٹ موجود ہے۔اعدادوشمار کے مطابق امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں میں بھارت 66.1ارب ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر،اور پاکستان44ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔اس تناظر میں امریکہ بھارت میں مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے قیام کر سکتا ہے۔لیکن شاید وہ اپنے ارادوں میں اس مرتبہ ماضی جیسی کامیابی نہ سمیٹ سکے۔آج افغان طالبان 20سال پہلے والے مقام سے اٹھ کر ایک بلند مقام پر بیٹھے ہیں۔بیس سال پہلے صرف پاکستان میں ان کا سفارت خانہ تھا، باقی دنیا انہیں دہشت گرد سمجھتی تھی۔آج امریکہ نے افغان طالبان سے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے دی ہوئی تاریخ پر انخلاء مکمل کیا ہے۔خود بھی سفارتی روابط قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔اس کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی آخر کار مشروط ہی سہی مگر سفارتی تعلقات قائم کر لیں گے۔جرمنی سمیت جن ملکوں کے شہریوں کو کابل سے نکالنے میں مدد کی ہے،سب پاکستان کا شکریہ اداکر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی خوش سلوکی کے بھی معترف ہیں۔یہ اطلاعات بھی تواتر کے ساتھ میڈیا نشر کر رہا ہے کہ افغانستان میں تین ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر دریافت ہو گئے ہیں۔یہ کام بلاوجہ نہیں ہو رہا۔ اس کے ذریعے دنیا کو بتایا جارہاہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع دستیاب ہیں۔پہلے ا ٓیئے، پہلے پایئے۔پاکستان افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔وزراء کے بیانات سے یہی تأثر ملتا ہے۔اگر پوری صورت حال کا اجمالی جائزہ لیا جائے تواس خطے میں امن وامان کے امکانات زیادہ دکھائیں دے رہے ہیں۔چالیس سال تک حالتِ جنگ میں رہنے والے افغان عوام جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس کا واضح اشارہ پنجشیر کی جنگ کا ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود ہونا ہے۔کسی دوسرے صوبے میں تصادم یا مزاحمت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔عوام کی اکثریت کا ملک سے باہر نہ جانابھی اس حوالے سے ایک خوش آئنداشارہ ہے۔بدری313نے جس انداز میں کابل ایئر پورٹ کا انتظام سنبھالا ہے اسے دیکھ کر دنیا جان گئی ہے کہ آج کے افغان طالبان 20سال پہلے والے نہیں، ذہنی اور فکری اعتبار سے مکمل تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے چھوڑے ہوئے ہیلی کاپٹر اڑا سکتے ہیں، جدید اسلحہ چلانے میں ماہر ہیں۔وہ لسی لڑائی میں پہل نہیں کریں گے لیکن کسی ملک نے ان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ امریکہ کو اس شکست کے صدمے سے نکلنے میں وقت درکار ہوگا۔انخلاء کے دوران دیکھی جانے والی افراتفری سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نئی منصوبہ بندی فی الفور ممکن نہیں۔جب تک امریکہ منصوبہ بندی کرے گا،دیر ہو چکی ہوگی۔ افغانستان میں دلچسپی رکھنے والے ممالک دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے اپنے قدم جما لیں گے۔پنجشیر میں جاری مزاحمت کے حوالے سے جو حلقے امریکی کامیابی کے امکانات دیکھ رہے ہیں انہیں شاید ایک بار پھر مایوسی دیکھنے کو ملے۔عوام کی بڑی تعداد کا پنجشیر جنگجوؤں کے ساتھ کھڑا نہ ہوناامریکی عزائم کے برعکس ہے۔ویسے بھی جس محاذسے فرار ہوئے ابھی چند گھنٹے گزرے ہیں وہاں مفرور فریق کی فتح کی نشانیاں تلاش کرناایک فضول مشق کے سوا کچھ نہیں۔جوکام بھڑکتے شعلے نہ کر سکے کیسے ممکن ہے وہی کام راکھ کا ڈھیر کرے گا،اسے وہم سمجھیں،فہم نہ کہیں۔ یہ بھی فراموش نہ کیا جائے کہ دنیا میں سامراجی فکر کو ایسی شکست پہلی بار نہیں، امریکی تاریخ میں اسے دوسری شکست لکھا جائے گا۔ویتنام کی شکست کوامریکی صدر جو بائیڈن موجودہ شکست سے بدتر سمجھتے ہیں۔ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں:”کابل میں ہمیں سفارتی عملہ ہیلی کاپٹر سے ایئر پورٹ نہیں پہنچانا پڑا“۔امریکی حکمرانوں کو اس صدمے سے نکلنے کے لئے کم از کم 25سال درکار ہوں گے۔معاشی نقصان سے نمٹنے کے لئے اب پہلے جیسی وسیع مارکیٹ بھی
دستیاب نہیں ہوگی۔عوامی غصہ بے قابو ہوگا تو داخلی محاذ پر بھی نئے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ نسلی منافرت سنجیدہ، دیرینہ اور سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ کسی پولیس افسر کا درشت رویہ ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔پارلیمنٹ پر حملہ حالیہ تاریخ کا چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ امریکیوں کو یاد ہوگا۔الغرض امریکہ بھی دیگر ملکوں کی طرح مسائل میں جکڑا ہواایک ملک ہے۔اسے پریوں کا دیس نہ سمجھا جائے۔صنعتی انقلاب کے فوراً بعدکولمبس نے اسے دنیا کا حصہ بنا دیاتھا۔اس کے اصل باشندے ”ریڈ انڈین“ کہلاتے تھے،بے چاروں کا اپنا کوئی نام، اپنی کوئی شناخت نہیں تھی۔ آج بھی ساحلی جزیروں پر آباد لوگ ”ویسٹ انڈین“کہلاتے ہیں اور جزائر کانام”ویسٹ انڈیز“ ہے۔امریکہ کو ہوا نہ سمجھیں،حالات پر نظر رکھی جائے،چوکنّا رہیں، خوف زدہ نہ ہوں۔


