عطاء اللہ مینگل کی رحلت…… ایک عہد کا خاتمہ

بلوچ قومی تحریک کے رہبر سردار عطاء اللہ خان مینگل جمعرات کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے، ان کی عمر 91 سال تھی۔ سردار صاحب کی رحلت ایک قومی سانحہ ہے اور دنیا بھر میں جہاں بھی بلوچ آباد ہیں وہ رنج و الم محسوس کریں گے۔
سردار مینگل ایک ہمہ جہت شخصیت،بلند پایہ خطیب، شعلہ نوا مقرر اور عہد ساز رہنما تھے۔ انہوں نے جبر، غلامی اور ایک قوم کی دوسروں پر بالادستی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور ہمیشہ اس پر قائم رہے۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد اور مزاحمت سے عبارت ہے۔ جب وہ سن شعور کو پہنچے تو ان کا وطن قومی تشخص سے محروم تھا۔ عوام قرون اولیٰ کی نہایت پسماندگی اور حسرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ 1955 میں قبیلہ کا سردار بننے تک وہ سیاست سے دور تھے تاہم 1956 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا۔ میر غوث بخش بزنجو کے مطابق انہوں نے سردار صاحب کو قوم پرستی کی جانب مائل کیا، 1958 کو جب ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو سردار صاحب اس کے ناقدین میں شامل تھے۔ وڈھ میں آپریشن کے نتیجے میں مینگل قبائل کے لوگ پہاڑوں میں چلے گئے جس کے نتیجے میں ایک بھرپور مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا جو چند سال تک جاری رہا، اس دوران سردار صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ان کے دوران اسیری انہیں مارشل لاء حکومت نے معزول کرکے خان صاحب کرم خان کو قبیلہ کا نیا سردار مقررکردیا تاہم جلد قبائل نے انہیں قتل کردیا۔ رہائی کے بعد سردار صاحب نے 1962 کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مارشل لاء دور میں لیاری کی آبادی کی منتقلی کے خلاف بھی بھرپور تحریک چلائی اور ایوب خان کی سازش ناکام بنا دی۔
1970 میں انہوں نے نواب خیر بخش مری اور میر غوث بخش بزنجو کے ہمراہ صدر یحییٰ خان سے ملاقات کی اور بلوچستان کو صوبہ دینے کا مطالبہ کیا، یحییٰ خان نے یہ مطالبہ منظور کرلیا جس کے نتیجے میں پہلی بار بلوچستان کو صوبائی حیثیت ملی۔ ون یونٹ کے خاتمہ اور سیاسی جماعتوں کی بحالی کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں نواب مری اور میر بزنجو کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1970 کے عام انتخابات میں انہوں نے صوبائی نشست پر الیکشن لڑا اور ایم پی اے منتخب ہوگئے۔ یکم مئی 1972 کو انہوں نے بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا جبکہ میر غوث بخش گورنر بن گئے تاہم جلد مرکزی حکومت اور نیپ کی صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ چند ماہ کی محاذ آرائی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کردی جو 9ماہ کی تھی، صوبہ میں گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ سردار صاحب اور ساتھیوں نے بھٹو حکومت کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تاہم اگست 1973 کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں میر بزنجو اور نواب مری کے ساتھ پنجاب کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ 1975 کو پشاور یونیورسٹی میں بم دھماکہ اور گورنر حیات شیر پاؤ کی موت کے بعد مرکزی حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا کر خان عبدالولی خان سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار کرلیا اور حیدر آباد ٹریبونل میں ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ 1977 کو مارشل لاء کے نفاذ کے بعد جنرل ضیاء الحق نے یہ مقدمہ ختم کردیا اور 5جنوری 1978 کو تمام رہنماؤں کو رہا کردیا۔ اس سے قبل جنرل ضیاء الحق نے سردار صاحب کو دل کے بائی پاس آپریشن کے لئے امریکہ بھیجا۔ صحت یابی کے بعد وہ واپس آگئے تاہم ضیاء الحق سے دو مرتبہ کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد انہوں نے جلا وطنی کا فیصلہ کیا چنانچہ وہ لندن چلے گئے وہاں انہوں نے 18سال تک قیام کیا۔ لندن میں سردار صاحب نے پاپولر فرنٹ اور سندھی بلوچ پشتون فرنٹ نامی تنظیمیں قائم کیں، تاہم 1996 کو انہوں نے جلا وطنی ترک کریے واپس آگئے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ فروری 1997 کے انتخابات میں اس جماعت نے کامیابی حاصل کی جس کے نتیجے مین ان کے صاحبزادہ سردار اختر مینگل وزیراعلیٰ بن گئے۔ مرکز نے اس حکومت کو 18ماہ بعد ختم کردیا اس کے بعد سردار صاحب نے عملی سیاست ترک کردی۔
سردار صاحب بلوچستان کی تاریخ کے نابغہ روزگار شخصیت اعلیٰ درجہ کے سیاستان اورقومی تحریک کے سرخیل تھے۔ اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی میں پارلیمانی سیاست اور مزاحمت کو ساتھ ساتھ چلایا لیکن انہوں نے عمومی طور پر حکومتوں کا ساتھ نہ دیا ان کی جدوجہد سے بلوچ سیاست کو تقویت ملی اور قومی تشخص کے طور پر بلوچستان کو صوبائی درجہ ملا تاہم ان کا جو اصل خواب تھا وہ ادھورا رہا۔ 1996 کو اپنے ایک انٹرویو میں سردار صاحب نے کہا کہ ہم نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر نہ ملی۔ سردار مینگل اور ان کے سیاسی رفیق میر غوث بخش بزنجو عمر کے آخری حصہ میں سیاسی اعتبار سے الگ ہوگئے جبکہ نواب خیر بخش مری نے بھی الگ راہ اختیار کرلی۔ زندگی کے آخری حصہ میں ان کے دھوپ اور چھاؤں کے ساتھی نواب اکبر خان بگٹی نے بہت بڑی قربانی دے کرخود کو امر کردیا۔ بلوچ کی سیاسی تاریخ میں سردار عطاء اللہ خان مینگل کو ایک بلند مرتبہ حاصل ہے۔ ان کی شخصیت کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ وہ روایتی اور نستعلیق سیاست کے آخری نمائندہ تھے۔ ان کی رحلت سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ مدتوں تک پر نہیں ہوسکے گا۔ وہ بلوچ تاریخ کے ایک ناقابل فراموش باب کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی موت سے ایک پورے عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں