صدام حسین اور عبدالغنی کو جعلی مقابلوں میں نشانہ بنایا گیا، لواحقین

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گزشتہ دنوں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مقابلے میں مارے گئے افراد کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے پیارے پہلے سے لاپتہ افراد تھے جنہیں جعلی مقابلوں میں نشانہ بناکر قتل کر دیا گیا۔
صدام حیسن کی بہن ایمنہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ شناخت کے بعد صدام حسین اور عبد الغنی کی لاشوں کو ضلع کیچ لایا گیا جہاں دونوں کی ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کی گئی۔انھوں نے دونوں افراد کے کسی تنظیم سے تعلق اور مقابلے میں مارے جانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں افراد پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق ضلع کیچ میں دشت کھڈان سے ہے جبکہ عبدالغنی کا تعلق دشت ہی میں بل نگور سے تھا۔ایمنہ نے بتایا کہ ان کے بھائی صدام 1992 میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ چونکہ علاقے میں کوئی کام اورروزگار نہیں تھا جس کے باعث صدام کو والد نے دبئی بھیجا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اندازاً چار سال بعد 2018 میں صدام دبئی سے کراچی پہنچے تھے اور ان کو وہاں سے گھر آنا تھا لیکن ایک مبینہ چھاپے کے دوران کراچی میں ملیر کے علاقے سے27 اپریل 2018 کو انھیں اٹھایا گیا تھا۔
ایمنہ کے مطابق اسی طرح عبدالغنی کو بھی کراچی سے اپنے آبائی علاقے میں آتے ہوئے زیرو پوائنٹ گوادر سے 20 اکتوبر 2017 کو اٹھایا گیا تھا۔ایمنہ نے بتایا ان کا بھائی صدام دبئی میں زیادہ خوش نہیں تھا اور گھر سے چار سال دور رہنے کے باعث وہ فون کر کے گھر آنے کے لیے اصرار کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ والد نے ان کو اجازت دی تو وہ دبئی سے کراچی پہنچے اور وہاں ملیر میں ہمارے رشتہ داروں کے گھر گئے جہاں سے ان کو گھر آنا تھا مگر وہ ایک چھاپے کے دوران اٹھائے گئے۔انھوں نے بتایا کہ والد انتظار میں تھے کہ بیٹا بیرون ملک سے گھر آ رہا ہے لیکن ہم نے والد کو یہ نہیں بتایا کہ ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ والد جب پوچھتے تھے تو ہم ان کو تین سال چار ماہ یہ بتاتے رہے کہ بھائی ابھی تک دبئی سے نہیں آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب والد پوچھتے تھے کہ پھر بھائی کا دبئی سے فون کیوں نہیں آ رہا ہے تو ہم ان کو بتاتے تھے کہ وہ دبئی کے ان صحرائی علاقوں میں کام کرتا ہے جہاں بدو ہیں اور وہاں موبائل فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے والد بوڑھے تھے ہم انھیں بھائی کی جبری گمشدگی کا بتا کر ان کو کسی صدمے سے دوچار نہیں کرنا چاہتے تھے۔بھائی بے گناہ تھا اس لیے ہمیں امید تھی کہ وہ جب چھوٹ کر آجائے گا یا ان کو منظرعام پر لایا جائے گا تو ہم والد کو بتا دیں گے لیکن اب بوڑھے والد کو اس سے بڑا صدمہ مل گیا جب بیٹے کی لاش اچانک ان کے سامنے آ گئی۔ایمنہ کا کہنا تھا کہ جوان بیٹے کی اچانک لاش سامنے آنے پر والد کی حالت غیر ہو گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ عبدالغنی بھی جوان تھا اور وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا بھائی اورعبدالغنی بے گناہ تھے، اگر انھوں نے کوئی گناہ یا جرم کیا تھا تو ان کو عدالتوں میں پیش کر کے سزا دلوائی جاتی۔
ایمنہ نے کہا کہ بھائی کی لاش کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ عبد الغنی کی لاش کو تو نہیں دیکھ سکے تاہم ان کے بھائی کی لاش کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان کے جسم پر گولیوں کے بہت
زیادہ نشانات تھے وہاں ان کے پیٹ کو بھی چاک کیا گیا تھاہم حیران ہیں کہ ان کے پیٹ کو کیوں چاک کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں