بلوچستان میں فرانزک لیب کا قیام قانون سازی سے مشروط ہے،ربابہ بلیدی
کوئٹہ:پارلیمانی سیکرٹری صحت و چیئرپرسن وویمن پارلیمنٹرین کاکس فورم ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فرانزک لیب کا قیام قانون سازی سے مشروط ہے اس لئے ہماری کوشش ہے کہ اس متعلق مسودہ قانون کو حتمی شکل دے کر جلد از جلد ایوان میں پیش کیا جائے پاکستان میں لاہور اور اسلام آباد کے بعد سندھ میں بھی فرانزک لیب قائم ہوچکی ہے جبکہ ایکٹ کی منظوری کے بعد کوئٹہ میں بھی اس کے قیام سے متعلق پیش رفت کو تیز کیا جائیگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں شرکت گاہ کے زیر اہتمام سول سوسائٹی، اراکین قانون ساز اسمبلی، وویمن پارلیمنٹرین کاکس فورم، وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مشاورتی نشست کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا یہ تقریب خواتین کے حقوق کی ترویج و تحفظ کے ضمن میں منعقد کی گئی تھی، جس میں پارلیمانی سیکرٹری وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ماہ جبین شیران اراکین صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ، فریدہ رند، شکیلہ نوید قاضی، قادر نائل نے بھی شرکت کی جبکہ تقریب کے اختتامی کلمات وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے ادا کئے میزبان تنظیم شرکت گاہ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریدہ شہید نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اس موقع پر شرکت گاہ کی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر امینہ رحمان، پروگرام آفیسر سیمہ بتول، اور ایڈمنسٹریشن افسر انور بلوچ بھی موجود تھے افتتاحی کلمات سے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے موجودہ صوبائی اسمبلی کا کردار ماضی کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا حامل ہے وویمن پارلیمنٹرین کاکس نے پانچ پرو وویمن بلز پر عمل درآمد اور اس کے ثمرات کا جائزہ لینے کے لئے ایمپلیمنٹیشن، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیشن پر کام کیا، ارلی ایج میرج اور خواتین و بچوں سے متعلق دیگر اہم قانون سازی جاری ہے اور توقع ہے کہ رواں اسمبلی ان تمام بلز کو منظور کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرے گی، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صحت سے متعلق وضح کردہ پالیسوں میں خواتین اور معاشرے کے پسماندہ و نظر انداز طبقات کو خصوصی اہمیت دی جاررہی ہے اور جہاں ضروری سمجھا جاررہا ہے وہاں قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم تجویز کی جاررہی ہیں اس سے قبل بلوچستان میں صحت سے متعلق بعض قوانین 1926، 1946 اور 19 نویں صدی کے اوائل کے تھے مینٹل ہیلتھ ایکٹ میں خواتین سے متعلق کچھ موجود نہیں تھا ہم نے بلوچستان کے لئے ازسر نو قوانین ڈرافٹ کئے جبکہ بعض ریوائزڈ بھی کئے بلوچستان میں پہلی مرتبہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے متعلق پہلی ہیلتھ پالیسی لائے ہیں انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قید خواتین کو صحت کی معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے جیلوں میں لیڈی ڈاکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جاررہی ہے جبکہ خواتین قیدیوں کے ہمراہ موجود بچوں کی روٹین ایمیونائزیشن کے لئے ای پی آئی کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے اس کے علاوہ ان بچوں کی طبی دیکھ بھال کے لئے ہر ہفتے چائلڈ اسپیشلسٹ کے جیل وزٹ کا بھی اہتمام کیا جاررہا ہے انہوں نے کہا کہ جیلوں میں تدارک ہیپاٹائٹس ویکسین کے علاوہ نفسیاتی کونسلنگ اور علاج کے لئے ٹیلی میڈیسن کلینک قائم کی جاررہی ہیں اس حوالے سے بلوچستان وہ پہلا صوبہ ہوگا جہاں قیدیوں کو ٹیلی میڈیسن کی سروسز حاصل ہونگی اس کے علاوہ سائیکاٹری ٹیلی میڈیسن کے ذریعے عوام الناس کے علاج کے لئے صوبے کے تین اضلاع سریاب کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ اور پشین میں سیٹلائٹ ٹیلی میڈیسن کلینکس قائم کی گئی ہیں جو بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری سے منسلک ہیں ان کلینکس کی کامیابی کے بعد بلوچستان کے مزید 9 اضلاع میں ایسی سیٹیلائٹ سائیکاٹری مراکز قائم کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ صوبے میں یونین کونسل اور ضلعی سطح پر کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تربیت یافتہ افرادی قوت کو یوٹیلائز کرنے کی ضرورت ہے ان کی خدمات بچہ و بچہ کی مخصوص سروسز کے ساتھ کثیر الجہتی طبی سروسز کے لئے حاصل کی جائیں تو دوران زچگی موت کے منہ میں جانے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بروقت طبی ریلیف مل سکتی ہے اور اس طرح دوران زچگی شرح اموات میں کمی واقع ہوسکتی ہے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ درست سمت میں ایسے اجتماعی اقدامات اٹھائے جائیں گے جس کے ثمرات سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کرسکیں تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ صحت جبکہ پارلیمانی سیکرٹری وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ماہ جبین شیران نے محکمہ ترقی نسواں میں جاری اور آئندہ کے منصوبوں سے متعلق اقدامات پر روشنی ڈالی۔


