احتجاجی عمل کو مزید سخت بنایا جائیگا، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن
کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے رہنماؤں نے او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر کا بائیکاٹ جاری رکھنے اور احتجاجی عمل کو مزید سخت بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہاہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، ایم ایس ڈی سے تاحال سرکاری ہسپتالوں کو ادوایات نہ ملنا سیکرٹریز صحت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، صوبے کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری کا سامان ہے نہ ہی معیاری ٹیسٹ کے نتائج، صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایم ار ائی مشین کا نہ ہونا ہیلتھ رفارم کا ڈونگ رچانے والی جام حکومت کے منہ پرزور دار تمانچہ ہے، ایس پی ایچ کا سی ٹی سکین مشین خراب، ایوننگ اور رات میں ایکس رے اور الٹراساونڈ کی سہولت نہ ہونا ہیلتھ میں انقلاب کے دعوے پر کالی ضرب ہے، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا میپ کا احتجاج اور مطالبات کی حمایت خوش آئند ہے،ینگگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے اپنے جاری ایک پریس رلیز میں بتایا ہے کہ سرکاری ہسپتال مسائل کا گھڑ بن گیا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا مکمل فقدان ہے، کہی مہینے گزنے کے باوجود بھی ایم ایس ڈی سے سرکاری ہسپتالوں کو ادوایات مہیا نہ ہونا سیکرٹریز صحت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سرکاری ہسپتالوں میں وارڈز میں کینولا ہے نہ ہی کوئی انجیکشن، مریض ایمرجنسی میں وارڈ لایا جاتا ہے مگر ایمرجنسی ادویات نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر مجبورا قیمتی ادوایات کیلئے مریض کے لواحقین کو پرائیویٹ سٹور سے ادوایات لانے کا بولتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے وارڈ کے تمام ڈاکٹرز ماہانہ کی بنیاد پر اپنی تنخواہ میں سے اچھی خاصی رقم وارڈ فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو غریب مریضوں کے علاج معالجہ میں خرچ کئیے جاتے ہیں، حکومتی سطح پر کوتاہی کا خمیازہ مریض اور ڈاکٹرز کو بگتا پڑتا ہے ترجمان نے بتایا کے سرکاری ہسپتالوں کے لیبارٹریز کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، لیبارٹری میں جہاں ایک طرف تو صرف چند ایک خون کے ٹیسٹس کئے جاتے ہیں وہاں دوسری طرف ان کم ٹیسٹس کیلے نہ تو اچھے کیمیکل ہے، نہ کوئی جدید مشنری اور نہ ہی ان ٹیسٹس کے نتائج معیاری ہے، سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹریز کا سامان کم ہونے اور محدود فنڈ ہونے کی وجہ سے لیبارٹری ایوننگ اور رات میں کارآمد نہیں ہوتی، ایسے میں غریب مریضوں کو ہزاروں کے تشخیصی ٹیسٹس باہر سے کروانا پڑتے ہیں،ترجمان نے مزید بتایا کہ سنڈیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ میں ایم ار ائی مشین کا نہ ہونا کسی حیرت سے کم نہیں، دوسرے صوبوں میں جہاں ٹرشری کیر ہسپتالوں میں 20 سے 30 ایم ار ائی مشین ہوتے ہیں وہاں ہمارے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایم ار ائی مشین نہ ہونا یہاں کے حکمرانوں کے کرپشن کی داستان اور عوام دشمن ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، سندیمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کا سی ٹی سکین مشین عرصہ دراز سے خراب پڑا ہے، نااہل سیکریٹریز کے پاس مشین کی خرابی دور کرنے کا وقت نہیں ہے، سرکاری ہسپتالوں میں ایکس رے اور الٹراساونڈ کی سہولت صرف صبح کے اوقات میں میسر ہونے کی وجہ سے ایوننگ اور رات میں ائے مریضوں کے مرض کی تشخیص میں دشواری کا سبب بنتا ہے، ترجمان نے بتایا کے نیشنل پارٹی اور پشتونخوا میپ کا ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے احتجاج اور مطالبات کے حق میں بیان دینا خوش آئند ہے اور عوام دوست پارٹیاں ہونے کا واضح ثبوت ہے،آخر میں ترجمان نے بتایا کہ ایک ملاقات میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی صدر ڈاکٹر احمد عباس بلوچ نے آل پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے نائب چیئرمین جمال شاہ کاکڑ کا حالیہ جاری او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر بائیکاٹ میں کردار کو سراہا اور دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کے مسائل حل اور مطالبات کے حق میں جاری حکومت مخالف او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر بائیکاٹ کو جاری رکھا جائیگا اور احتجاجی عمل کو مزید سخت بنانے کیلئے صوبے بھر میں سیکرٹریز صحت مخالف ریلیا نکالی اور دھرنے دئے جائینگے اور ائیندہ اجلاس میں کرونا ویکسنیشن سینٹرز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جائیگا جس کی تمام تر زمیداری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔


