سچ کو فروغ دینے کاوقت آ گیاہے
شنید ہے کہ پاکستان میں بھی 66اشیاء کے معیاری ہونے کا پتہ چلانے کے لئے ریسرچ لیب قائم کی جائیں گی۔اس کا فائدہ صارف کوپہنچے گا۔مصنوعات کے معیار کے مطابق تیار ہونا شروع ہو جائیں گی۔اگر یہ لیب صرف دکھاوے یا عالمی شرائط کی کاغذی خانہ پری نہیں ہوگی بلکہ اسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگا اور متعلقہ عدالتیں پہلی یادوسری پیشی میں غیر معیاری مصنوعات مارکیٹ لانے والوں کو سزا سنانا شروع کردے گی‘ مقدمات کی سماعت برسوں جاری نہیں رہے گی تو لیب کی افادیت سے صارفین مستفید ہو سکیں گے۔بصورت دیگر پرنالہ وہیں گرتا رہے گا۔بچوں اور صارفین کو پانی ملا‘ یا زہریلے کیمیکلز سے تیار کردہ دودھ ہی ملے گا۔جعلی ادویات بکتی رہیں گی۔مریض مرتے رہیں گے۔ ابھی تو تھانہ کلچر بھی تبدیل نہیں ہوسکا۔ عمارتیں تبدیل ہوئی ہیں۔دو نمبر مال ہو یا اسمگل کردہ اشیاء ہوں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ابھی تو حکومت کی ساری توجہ ٹیکس وصولی پر مرکوز ہے۔تاجر حسب سابق اسلام آباد میں احتجاج کی تیاری میں مصروف ہیں۔البتہ ٹریس اینڈ ٹریک مشینوں کی ملوں اور کارخانوں میں تنصیب کی اطلاعات ملنا شروع ہوگئی ہیں۔کہا جارہا ہے آٹے اور چینی کی ہر بوری اور سگریٹ کے ہر پیکٹ پر مشین کی تصدیقی مہر نہ ہونے پر مال بحقِ سرکار ضبط کر لیا جائے گا۔فیکٹری اور مل سے مال کہاں گیا‘کا اندراج کیا جائے گا۔دنیا میں یہ کام مدتوں سے جاری ہے۔پاکستان دنیا کا حصہ ہے، قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔اگر بھارت اور امریکہ پاکستان کو پریشان کرنے کی نیت سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل نہ کراتے تو آج بھی منی لانڈرنگ کا سلسلہ آزادانہ طور پر جاری رہتا۔فالودے اور پاپڑوالوں کے جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے با اثر دولت مندوں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو رہے ہوتے۔ایف اے ٹی ایف کا بھلا ہو عملدرآمد ہوتا دیکھے بغیر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے پر راضی نہیں۔26کی تکمیل پر شاباشی کے باوجود27واں مطالبہ منوانے پر تلا ہوا ہے۔اور ضمنی شرائط میں سے باقی ماندہ چار پر پیشرفت کے لئے تقاضہ کر رہا ہے۔لوٹ مار کی تمام حدیں پارکی جا چکی ہیں۔پہلے صرف جائز پینشن ہڑپ کی جاتی تھی اب پینشن کے جعلی بینک اکاؤنٹس بناکر سرکاری خزانے سے اربوں روپے لوٹے جا رہے ہیں۔گواہان کی تعداد سینکڑوں میں، مقدمات کی طوالت کا ایک سبب یہ بھی ہے۔فرد جرم عائد ہونے کی تاریخ پر نئی درخواستیں دائر کر کے تاخیر کا نیا راستہ کھولا جاتا ہے۔م،یڈیا کے روبرو دعویٰ کرتے ہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔انتقامی کارروائی کی جارہی ہے۔کوئی نہیں پوچھتاکہ آپ سماعر سے فرار کیوں اختیار کرتے ہیں؟پوچھا جائے تو اپنی پارسائی کی لمبی چوڑی داستانیں سنانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں لگام ڈالنے کیلئے ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے کی مداخلت ضروری ہو گئی تھی۔اپریل تک نئے اقدامات کر لئے گئے تو لوٹ مار کی آزادی میں کمی آنے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ ڈالرکی اونچی اڑان میں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ٹیکس نادہندگان کے چہروں پر سراسیمگی کے آثار بلاوجہ نہیں۔وہ سمجھ گئے ہیں اب چوری کی پرانی سہولت نہیں مل سکے گی۔حکومتی دعووں کے مطابق ایف بی آر کے کام میں انسانی مداخلت کم ہو گئی ہے اور مشینی کام بڑھا دیا گیا ہے۔ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم سے تو یہی لگتا ہے۔ پرانی کہاوت ہے:”کچھ عرصے بعدکچرے کے دن بھی بدیل ہوجاتے ہیں“۔اب دوسرے ملکوں میں کچرے سے بجلی پیدا جا رہی ہے۔پاکستان میں حکمران کہہ رہے ہیں یہی کام یہاں بھی شروع کیا جائے گا۔فی الحال سپریم کورٹ آنکھیں نہ دکھائے تو گندے نالے بھی صاف نہیں کئے جاتے۔نالوں پر 15منزلہ ٹاور تعمیر ہیں، حکومت ہتھوڑے اور چھینی جیسے قدیم اوزاروں سے گرانے کا کام کر رہی ہے۔ اب عدالت عظمیٰ کے حکم پر بارود سے گرانے تجربہ کیا جائے گا۔امریکہ میں کئی دہائیوں سے کثیر المنزلہ عمارتیں منٹوں میں گرائی جارہی ہیں۔عدلیہ پوچھ رہی ہے حکومتقبض مافیا کے ساتھ کیوں کھڑی ہے؟اس سوال کی لہریں دیگر صوبوں تک بھی پہنچ رہی ہیں، یہ ففتھ جنریشن کا دور ہے، سیکنڈوں میں بات دنیا کے ہر کونے تک پھیل جاتی ہے۔معاشرے جرائم سے نجات چاہتے ہیں۔عوام پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں،کوئی مقدس گائے نہیں۔ جنہیں اپنی تقدیس اور ان ٹچ ایبل ہونے کا یقین تھا،وہ بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ تفصیلی فیصلہ کیسے لکھیں؟ ماضی حال میں بدل چکا ہے اور حال مستقبل بننے جا رہا ہے۔وقت کو پر لگ گئے ہیں۔پہلے دن، ہفتے اورمہینے گزارنا مشکل تھا اب سوا تین سال گزرگئے ہیں، بعض لوگ حیران ہیں پل بھر میں یہ کیسے گزر گئے؟وہ سمجھ رہے تھے وقت ان کے ساتھ ٹھہر جائے گا،وہ چلیں گے تو وقت چلے گا۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔ہوتا ماضی میں وہی کچھ تھا جو اس بار ہوا ہے مگر سفر دائروں پر تھا، گھوم کر نقطہئ آغاز پر جا پہنچتے اور سمجھتے کہ وقت ٹھہر گیاتھا۔اس بار نقطہئ آغاز قدموں سے اٹھنے والے گردوغبار میں کہیں اوجھل ہو گیا ہے، جب گردو غبار کے بادل چھٹیں گے تب علم ہوگا کہاں جانا تھا اور کہاں پہنچ گئے ہیں؟تاریخ کا سفر اپنی سمت خود طے کرتاہے،قافلہ اپنی قوت سے قدم بڑھاتا ہے۔سمت اور قدموں میں ربط قائم نہ رہے،منزل آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔سمت سے غفلت برتی جائے توقدموں کے نشان مدھم ہوکر معدوم ہوجاتے ہیں۔بھٹکنے والوں کو راستہ سجھائی نہیں دیتا۔نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سب کوساتھ لے کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سردار عبدالرحمٰن کیتھران 65کے ایوان کو ایک پیج پر دیکھ رہے ہیں انہیں امید ہے کوئی رکن ناراض نہیں ہوگا، کسی کو منانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔خواہشات نیک ہیں، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ مگر سیاست دل سے نہیں
دماغ سے سوچتی ہے۔کبھی دو او دو کا جواب چار ہوتا ہے اور کبھی دو اور دو کو”چار“ کہنے والے پاگل نظر آنے لگتے ہیں۔حسنِ کرشمہ ساز کے اپنے تقاضے ہیں،جنوں اور خرد میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں۔سیاست کی بھول بھلیوں میں الجھ کر واپسی کا راستہ پہچاننا آسان نہیں رہتا۔ سب راستے ایک جیسے نظر آتے ہیں۔عام آدمی نئی حکومت کا خیر خواہ ہے،اس کے لئے دعا گو ہے۔ اس کی دلی خواہش ہے اسے جانے والی حکومت جیسا منظر نہ دیکھنا پڑے۔ابھی پارٹی نہیں ٹوٹی لیکن دوسری بار کوئی ناراض ہوا تو پارٹی ٹوٹ سکتی ہے۔کندھوں پر آنے والی ذمہ داری وزنی بھی ہے اور نازک بھی۔میرغوث بخش بزنجو ملکی سیاست کے رازداں تھے،ان کا کہنا تھا اگر اراکین کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ ہیرے جواہرات بہت نازک ہیں، بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔


