شہباز کے بلاول، فضلالرحمن، اختر مینگل اور مالک بلوچ سے رابطے، ملکر چلنے کا عزم
اسلام آباد(نمائندہ انتخاب)مسلم لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے نیب کے کالے قانون کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر چیلنج کرنے کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی اور بدترین مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور ردعمل دینے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔جمعہ کو نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری سمیت اپوزیشن رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابط کیا۔شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری،پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان،بلوچستان نیشنل پارٹی کے چیئرمین سردار اختر جان مینگل، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان، انس نورانی اور نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر مالک بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اورپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی مشترکہ حکمت عملی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے مشاورت کی۔اپوزیشن رہنماؤں نے نیب کے کالے قانون کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر چیلنج کرنے کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔اپوزیشن رہنماؤں نے بدترین مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور ردعمل دینے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔اپوزیشن رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ عوام مہنگائی اور اس حکومت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف سے مکالمہ کیا کہ ریلیف کا لالی پاپ دے کر عمران خان نے عوام کو تکلیف میں مبتلا کردیا،سلیکٹڈ حکومت کا ہر گزرتا دن عوام کے مسائل میں اضافہ کررہا ہے،مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔تربت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ پیڑولیم مصنوعات میں اضافہ فوری واپس لیا جائے،مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف پی ڈی ایم کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں گے،پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ قبول نہیں، مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے،مہنگائی بے روزگاری اور اقرباء پروری نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے،ناتجربہ کار ٹیم نے ملک کو بازیچہ اطفال بنادیاہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ قابل قبول نہیں، مہنگائی کے حوالے سے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر آخری حد تک جائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت جو ٹیم برسر اقتدار ہے ان میں نہ کوئی تجربہ کار ماہر معاشیات اور نہ ہی کوئی تجربہ کار سیاستدان ہے، غیرمنطقی الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ ملک کو بازیچہ اطفال بناکر عوام کو نان شبینہ کا محتاج بناکر خودکشیوں پہ مجبور کر دیاہے، اس وقت ملک کم آمدنی اور زیادہ مہنگائی میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے، دوائیاں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں چلے جائیں مگر اپنا علاج نہ کراسکیں،دوسری جانب بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ لاکھوں نوجوان ڈگریاں لیکر بے روزگاری کے ہاتھوں نفسیاتی مریض بن رہے ہیں بیروزگاری نے ہمارے سماج کو جھنجوڑ کر رکھ دیاہے، ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف بھرپور تحریک چلاہے گی اور سلیکٹڈ حکومت کو مجبور کردیا جائے گا کہ پٹرولیم قیمتوں سمیت دوائیوں اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں فی الفور اور واضح کمی کرے۔


