بروقت تشخیص سے ہی بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے، ثمینہ عارف علوی

کوئٹہ:خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر ایک خطرناک مرض ہے اور اس سے متعلق معاشرے میں خواتین کے لئے آگاہی بہت ضروری ہے بروقت تشخیص سے ہی بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے اور ہماری خواتین کو چاہئے کہ وہ پانچ منٹ خود اپنی صحت کو ضرور دیں اور اپنی صحت سے متعلق کسی بھی غیرمعمولی تبدیلی کی صورت میں لازمی اپنی فیملی کو آگاہ کریں۔ یہ بات انہوں نے منگل کو سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم، معذور افراد اور خواتین کو با اختیار بنانے کی ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویشناک ہیں جس کو ہم خاموش قاتل بھی کہہ سکتے ہیں جو بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث تیزی سے پھٖیلتا ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ ملک میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی اقدار کی وجہ سے بھی ہماری خواتین چھاتی کے کینسر کے متعلق بات نہیں کرپاتی یہ مرض صرف چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین میں ہی نہیں بلکہ آج کل کم عمر بچیاں بھی بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ Pink Ribbon تحریک کا مقصد صرف یہ دن منانا نہیں بلکہ آگاہی کا فروغ دینا ہے تاکہ خواتین اس موذی مرض کے نقصانات سے باخبر ہوں اور اس کے تدارک کے لئے لائحہ عمل تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین کو مزید مواقع دینے چاہئے تاکہ معاشرے میں خواتین کے حوالے سے سوچ کوتبدیل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین جو کسی بھی طرح سے معذوری کا شکار ہیں وہ بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں ۔ خاتون اول نے سیمینار میں معذور خواتین کی شرکت کو بے حدسراہا اور کہا کہ ہر انسان میں اللہ نے صلاحیتیں رکھی ہیں اور معذور ہونے کی صورت میں انہیں بھی کچھ خاص دیگر صلاحیتوں سے نوازا ہے جس کی مثال اس تقریب میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی پہلی اسٹیج پر بچنے کے چانس 98% ہیں۔ سیکنڈ سٹیج پر بچنے کے چانس کم ہوکر 88%،تھرڈ اسٹیج پر 52% فیصد جبکہ آخری سٹیج پر 16% فیصد رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیس سال کی عمر سے خواتین کو از خود اپنا جائزہ لینا چاہئے اور 20سے 39 سال کی عمر سے ہر تین سال میں Clinical Breast Examination ہونا چاہئے جبکہ چالیس سال کی عمر سے خواتین کے لئے سالانہ معائنہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر قابل علاج ہے بشرطیکہ اس کی روک تھام کے لئے ہم خواتین کی صحت کا سنجیدگی سے خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ ہیں اور معاشرے میں خواتین کا رول انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین آج بھی وراثت، شخصیت اور سماجی فرنٹ پر جدوجہد کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے خواتین کو کم مارک اپ پر قرضہ فراہم کیا جارہا ہے۔ ہماری خواتین نہ کسی سے کم ہیں اور نہ کمزور ہر شعبہ میں وہ ایک اہم رول ادا کرسکتی ہیں اورکررہی ہیں۔ صحت مند خاتون ہی صحت مند معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں آپ سب سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔ میرے پچھلے دورے کے دوران میں نے جو جوش اور جذبہ آپ سب میں محسوس کیا وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام تاثر جو بلوچستان کی فیمیل کمیونٹی کے بارے میں دیا جاتا ہے کہ وہ کم شعور یافتہ ہے، سوشل ایکٹیویٹی نہیں کرسکتی لیکن اس تاثر کی میں نفی کرتی ہوں میں نے یہاں کی خواتین اور بچیوں میں جو ولولہ دیکھا اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے اس مرتبہ بھی جب کوئٹہ دورے کا کہا گیا تو میں نے خصوصاً اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں وومن یونیورسٹی کی طالبات سے ضرور ملوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی اساتذہ اور طالبات بلوچستان کی خواتین کے لئے ایک مثال ہیں اور بلاشبہ آپ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالبات بہت کامیابی کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں۔ نئی نسل کی یہ بچیاں بہت ماحول شناس اور اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے وراثت کا حقوق اور معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی Loan قرضہ اسکیمیں شامل کی ہیں۔ چھوٹے اور بڑے قرضے دینے کی سہولیات فراہم کی گئی ہے۔ خواتین کو گھر بیٹھ کر کسی نہ کسی Skill ہنر کی مدد سے اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سب سے التجا کروں گی کہ ان تمام مواقع اور سہولیات سے استفادہ حاصل کریں اور ان خواتین تک پہنچائے جن کو اس کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ پہلا وومن بینک First Women Bank، بینک آف پنجاب اور دیگر تمام بینکوں میں خواتین کے لئے کم مارک اپ پر اور آسان اقساط میں قرضے دستیاب ہے اور آپ اس سے استفادہ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج جب آپ سب یہاں موجود ہیں میں آپ سب کو حوصلہ دوں گی کہ آپ کمزور نہیں ہے بلکہ یہ بات فخر سے کہہ سکتی ہیں کہ آپ ملک کی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ آپ لوگوں نے معاشرے میں ان خواتین کو آگاہ کرنا ہے جن کو یہاں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی آگاہی، علاج کے لئے ہمیں بہت تیزی سے کام کرنا ہے تاکہ اس موذی مرض کی روک تھام ہوسکے۔ آخر میں خاتون اول نے کہا کہ میں اس ایونٹ کے آرگنائزر کا خصوصاً شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کیونکہ آج یہ ایونٹ بریسٹ کینسر آگاہی مہم کی ایک کڑی ہے۔ میں ہر جگہ خود جاکر اپنی بہنوں اور بچیوں سے التجا کررہی ہوں کہ ہم نے اس مرض کو شکست دینی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اس کے علاوہ خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے سینار ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرحافظ خوش نصیب نے ہسپتال کی کارکردگی سے متعلق خاتون اول کو بریفنگ دی۔اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے 808 ملین کی لاگت سے قائم کردہ نئی Radiotherapy اور Mammography مشینری کا افتتاح بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں