ملک گیر اور مشترکہ مزدور پلیٹ فارم ہی محنت کشوں و ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکتا ہے،صوبائی کنوینئر خان زمان
کوئٹہ(سٹی رپورٹر) نیشنل لبیر کونسل بلوچستان کمیٹی چاروں صوبوں کی طرح وفاقی ٹرائی پاٹریٹ کمیٹی (سہ فریقی)میں چاروں صوبوں سے ایک ایک مزدور نمائدہ لینے اوربلوچستان سمیت ملک بھر قومی و منافع بخش اداروں واپڈا پی آئی اے اسٹیل مل مالیاتی اداروں اور برے صنعی یونٹوں کی نجکاری ترک کرتے ہوئے ملک میں مہنگائی بیروز گاری لاقانونیت کیخلاف فوری اقدامات اٹھائے ہوئے ملک کے غریب محنت کش طبقہ مزدور و ملازمین کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اپنانے کا مطالبہ کیا ہے عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے ذریعے ملک کے غریب عوام اور مزدوروں کو غلام بنانے کے حربوں کی ہر فورم پرمخالفت کی جائے گی ان خیالات کا اظہار لیبر قوانین نے نیشنل لیبر کونسل کے صوبائی کنوینئر اور بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان نے ملک گیر تنظیم کے قیام کیلئے بلوچستان کی بڑی مزدور فیڈریشنوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے صدر سلطان خان مائنز ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری عبدالستار بلوچستان ورکرز فیڈریشن کے صدر حسن بلوچ بی ایل ایف کے چیئر میں حاجی بشیر احمد ایپکو ایمپلائز یونین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالمعروف آزاد فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل قاسم خان محمد عمر جتک عابد بٹ دین محمد محمد حسنی حاجی عزیز شاہوانی ملک وحید کاسی فضل محمد غلام دستگیر خان عارف خان نچاری ظفر خان رند میر زیب شاہوانی سید منظور شاہ حاجی عبدالعزیز شاہوانی محمد اشرف اور عطاء الرحمن دیگر مزدور فیڈریشنز کے عہدیدار شریک تھے رہنما?ں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک گیر اور مشترکہ مزدور پلیٹ فارم ہی محنت کشوں و ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکتا ہے ہمیں ایک آواز ہوکر اپنے حقوق اور جائز مطالبات کیلئے آگے برھنا ہوگا اور حکومتوں کو مزدوروں و ملازم پالیسیوں سے روکنا ہوگا آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے صدرسلطان خان نے محنت کش طبقہ کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل ملک کے برے منافع بخش اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور حوالے وفاقی حکومت اور اسکے اداروں کے کردار پر بحث کی اور نیشنل لیبر کونسل کے قیام پرروشنی ڈالی اور کہاکہ ملک کی بڑی مزدور فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز اس بات پرمتفق ہیں کہ ایک ہی سپریم تنظیم مسائل کے حل کیلئے موضوع ہے،انہوں نے کہا کہ جس طرح چاروں صوبوں میں مزدوروں و ملازمین کیلئے قانون سازی کرنے اور اس پر عمل درآمد کیلئے سہہ فریقی کمیٹیاں ہیں اس طرح وفاقی میں قائم سہہ فریقی کمیٹی چاروں صوبوں سے ایک ایک نمائندہ لیا جائے تاکہ وفاقی سہہ فریقی کمیٹی میں بھی صوبوں کے مسائل سن کر ان کا موقت رکھا جائے اس موقع پر نیشنل لیبر کونسل کو صوبائی کنوینئر خان زمان نے بلوچستان اور صوبے میں وفاق کی بڑی تنظیموں کو این ایل سی کے سابق اجلاسوں اور فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا اور18 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے گا ہم ملک سمیت بلوچستان بھر کے محنت کش طبقہ مزدوروں و ملازمین کیلئے مشترکہ اور ٹھوس موقف اپنائیں گے خصوصا بلوچستان میں صوبائی اداروں اور اس سے وابسہ ورکرز اور ورک مین کو مشکلات درپیش ہیں ان بنیادی مسائل کے حل کیلئے بھر پور جدوجہدجاری رکھی جائے گی۔


