نوشکی میں لوڈشیڈنگ انتہائی زیادہ اور بجلی نہ ہونے کے برابر ہے،بابو رحیم مینگل

نوشکی : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کیرکن و ایم پی اے بابو میر محمد رحیم مینگل نے کہاہے کہ نوشکی کے دیہی علاقوں میں میں لوڈشیڈنگ انتہائی زیادہ اور بجلی نہ ہونے کے برابر ہے جس سے دیہی علاقوں کے لوگ پینے کے پانی کے حوالے سے کافی مشکلات کاسامنا کررہے ہیں اور لوگ پانی کیلئے سرگردان ہیں،واپڈا حکام کی غیرمناسب عمل کی وجہ موسم سرما میں بھی لوگ پینے کی پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔انھوں نے کہا نوشکی میں 90فیصد زرعی ٹیوب ویل دیہی ایریاز میں لگے ہوئے ہیں اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی کسانوں کوبھی کافی مشکلات درپیش ہیں کئی سالوں کے مسلسل قحط سالی نے کسانوں کاقمر تھوڑ کر رکھ دیا ہے مگررہی سہی کسر واپڈا حکام اپنے ظالمانہ روش سے پوری کررہیہیں اور کسان و زمیندار کو خودکشی کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی میں روزگار کے متبادل ذرائع نہیں ہیں،پہلے سے بے روزگاری انتہائی زیادہ جبکہ واپڈا حکام کی جانب سے دیہی ایریاز میں بجلی لوڈشیڈنگ سے کسانوں کو لاکھوں روپے کانقصان ہونے کیساتھ ساتھ مزید بیروزگاری عام ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہمسایہ ملک ایران سے سیکھنا چاہئیجو اپنے کسانوں کوہرقسم کا سہولیات دیرہاہے مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے دیگرسہولیات کسانوں کودینا دور کی بات واپڈا حکام کسانوں کو نان شبینہ کا محتاج کرکے خودکشی کرانے پر تلی ہوئی ہے۔انہوں نے کیسکو چیف بلوچستان ودیگرحکام سے اپیل کی ہے کہ نوشکی سٹی میں بجلی وولٹیج کودرست اور دیہی ایریاز میں فوری طور پر بجلی لوڈ شیڈنگ کم کیاجائے تاکہ دیہی علاقوں کیعوام کوپینے کا میسر ہو اور مقامی کسان بہتر انداز میں کھیتی باڑی کرسکیں تاکہ اپنے بال بچوں کاپیٹ پال سکے۔ انہوں نے کہااگرواپڈا حکام نے اپناروش نہ بدلا توعوام کیساتھ ملکر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترزمہ داری واپڈا حکام پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں