کوئٹہ میں طلباء کی گرفتاری آئی جی پولیس سینیٹ قائمہ کمیٹی میں طلب
اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اجلاس میں کمیٹی نے کوئٹہ میں پولیس کی جانب سے پاکستان میڈیکل کمیشن کے امتحانات کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کی گرفتاری پرایس پی لیگل کوئٹہ کی بریفنگ کو مسترد کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں آئی جی پولیس بلوچستان کو طلب کر لیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی طرف سے کوئٹہ میں میڈیکل کے طلبا وطالبات کی گرفتاریوں کے توجہ دلاؤ نوٹس پر ایس پی لیگل کوئٹہ نے کمیٹی کو بریفنگ دی جس پر کمیٹی ممبران نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی بلوچستان کدھر ہیں؟ بلوچستان پولیس کے نمائندے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی بلوچستان ایک فوتگی کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے جس پر کمیٹی ممبران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو تب تک موخر کیا جائے گا جب تک بلوچستان پولیس کے اعلی افسران اس کمیٹی میں پیش نہیں ہونگے۔ کمیٹی ارکان نے نوجوان طالب علموں کی گرفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے اور نوجوان طالب علم جن میں طالبات بھی شامل تھی کو غیر قانونی ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا اور ان کو رات بھر حوالات میں رکھا گیا۔ جس پرایس پی لیگل کوئٹہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان ریکارڈ کہتا ہے کہ بلوچستان میں طالب علموں کے احتجاج میں کسی بھی طالب علموں کو گرفتار نہیں کیا گیا اور اس میں کوئی صداقت نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ پچاس سے ساٹھ طالب علموں نے کوئٹہ میں احتجاج شروع کیا اور پھر بعد میں ان کی تعداد 300کے لگ بھگ کو پہنچ گئی جس سے آمدورفت میں مسئلہ پیدا ہوا اور بعد میں طالب علموں نے ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کی جس کے بعد ان کے خلاف ایکشن لیا گیا لیکن پولیس نے ان کے ساتھ کوئی سخت رویہ نہیں اپنایا. انھوں نے مزید کہا کہ جہاں پر احتجاج ہورہا تھا وہ جگہ بہت حساس ہے اور ان کی سیکیورٹی اور انتظام ایک مشکل کام ہے، اس لئے قانونی کاروائی کی گئی۔کمیٹی نے بلوچستان پولیس کے نمائندے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کے اعلی افسران کمیٹی میں پیش ہوکر پارلیمان کو مطمئن کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس کے اعلی افسران ان تین سوالات کے ساتھ کمیٹی میں پیش ہو کہ کتنے طالب علموں کو گرفتار کیا گیا تھا؟ یہ گرفتاری کس کے حکم پر کی گئی تھی؟ کیا طالب علموں میں خواتین طلبہ بھی موجود تھی یا نہیں؟


