اپوزیشن عوام کی حمایت حاصل کرے
پاکستان دنیا کا اکلوتا ملک نہیں جہاں جمہوری نظام نافذ ہے۔ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک بھارت میں بھی جمہوری نظام روزاول سے نافذ ہے۔وہاں اپوزیشن پارٹیاں ٹکٹکی باندھے اپنے آرمی چیف کے دروازے کی طرف سارا سال نہیں دیکھتیں۔ان کے کان بوٹوں کی چاپ سننے کے لئے بیقرار نہیں ہوتے۔الیکشن کے نتائج کبھی ہارنے والی سیاسی پارٹی نے مسترد نہیں کئے۔یہ سارا تماشہ صرف اور صرف پاکستان میں کیوں دیکھا جاتا ہے؟اس سوال کا جواب بھی اپوزیشن کو تلاش کرنا اور عوام کو سمجھانا ہوگا۔عوام کی لاتعلقی سے یہی سمجھا جانا چاہیئے کہ اب عوام یہ راز جان گئے ہیں کہ آج وہ ماضی کے جھوٹے نعروں اور غلط بیانی کی سزا بھگت رہے ہیں۔فیس بک، ٹوئیٹر، یو ٹیوب وغیرہ پرمفاد پرستوں کی جانب سے اپ لوڈ کئے گئے ڈھیروں جھوٹ کی موجودگی میں بھی سچ کو پہچان لیتے ہیں۔ورنہ جیسے ہی گلی میں کوئی آواز لگاتا:”کتا کان لے گیا!“،ہزاروں لوگ ننگے پیرہائے ہائے کرتے گھروں سے نکل آتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب لوگ ہاتھ لگا کر اپنے کان کی موجودگی محسوس کرلیتے ہیں، گھروں سے نہیں نکلتے۔حالانکہ خبردار کرنے والے نگر نگر تنہا گھوم رہے ہیں،مایوس ہوکر بار بار 90 کی دہائی میں لوٹ جاتے ہیں۔بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ سکھوں کے مقدس مقام ”کرتار پور“کی تعمیر کا سہرا بھی اپنے خاندان کے سر باندھنے لگے ہیں۔انہیں ماضی قریب کی”جپھیاں“ بھی یاد نہیں رہیں۔اتنے کمزور حافظہ والے سیاست دان شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں دکھائی دیں۔ جاپان اور جرمنی کی مشترکہ سرحدیں بیان کرنے والے بھی اسی ملک کے سپوت ہیں۔تاہم یہ مفروضہ قائم کرنا بھی درست نہیں ہوگا کہ سارے بھول بھلکڑ پاکستان میں جمع ہو گئے ہیں۔بروقت فیصلے نہ کرنے والے حکمران ہمارے گردونواح میں بھی دستیاب ہیں۔امریکہ بھی ان میں شامل ہے۔ اس نے افغانستان کی غلطی کو سمجھنے میں 20سال لگا دیئے،جبکہ یہی کام روس نے 10سال میں کر لیا تھا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔پرانی نسل خود کو عقل کل سمجھنے کی ضد چھوڑ دے تو پاکستان کے حالات چند برسوں میں بہتر ہو سکتے ہیں۔لیکن جو لوگ چند ہفتوں میں سدھارنے کے دعویدار ہیں انہیں اپنی سوچ میں جدت لانی ہوگی۔بنگلہ دیش کو دیکھیں اس نے راتوں رات اپنے عوام کی قسمت نہیں بدلی۔2013سے 2018تک کی برآمدات کا موازنہ کرلیا جائے اس دوران پاکستان میں نون لیگ کی حکومت تھی۔پاکستان کی برآمدات176.72ارب ڈالر تھی جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 214.76ارب ڈالر رہیں۔بنگلہ دیش کی برآمدات پاکستان کے مقابلے میں 38.04 ارب ڈالر زیادہ تھیں۔نون لیگی قیادت ان حقائق کو جھٹلا نہیں سکتی،دونوں ملکوں کے مالیاتی اداروں نے اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کئے ہوئے ہیں۔ہر شخص تصدیق کر سکتا ہے۔لیکن عمر رسیدہ قیادت نہ جانے کیوں یہ یقین کئے بیٹھی ہے کہ آج بھی پاکستان کے عوام اتنے ہی بے خبر ہیں جتنے وہ90کی دہائی میں تھے۔یہ رائے قائم کرتے وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ ان دنوں پاکستان میں ایک سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا جو دن رات حکومتی سرگرمیاں دکھاتا تھااورلوگ اس دن کابیچینی سے انتظار کیا کرتے تھے جب ڈرامہ دکھایا جاتا تھا۔بلکہ ہمارے بعض ڈرامے بھارت میں بھی اتنے ہی مقبول تھے جتنی مقبولیت انہیں پاکستان میں حاصل تھی۔جب لوگ سیاسی خبرنامے سے نفرت کی حد تک لاتعلقی اختیار کر لیں اور ڈراموں میں ان کی دلچسپی بڑھ جائے تو سیاست دانوں کو چوکنا ہوجانا چاہئے کہ سیاست سے وہ بیدخل ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔عوام کی باڈی لینگویج اور رویہ معاشرے کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے:”زبانِ خلق کو نقارہئ خدا سمجھو!“۔۔۔ ادھر سے آنکھیں بند کر لی جائیں تو نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔اور پاکستان میں نتائج کا انبار لگا ہوا ہے۔تاریخ کے دوسرے تیسرے صفحے پر ایک یادوسرانتیجہ مل جاتا ہے۔نتیجے پر بحث ہتی ہے، اسباب و علل پر ایک لفظ سننے کو نہیں ملتا۔جیسے نتیجہ بے سبب تھا!اسباب سرے سے موجود نہ تھے۔خواہ مخواہ ہی رات گئے کسی نے ”ہیلو مائی کنٹری مین!“ کہہ کر نیند اچاٹ کردی۔ابھی تک جی ایچ کیو کا طواف ختم نہیں کیا۔ طواف کرنے والے اپنے غیر سیاسی، غیر اخلاقی اور عوام دشمن اقدامات پر نادم ہونے کی بجائے میڈیا کو جواب دیتے ہیں:۔۔۔”اس بے چارے میجر جنرل(ڈی جی آئی ایس پی آر) کوکیا معلوم کہ مذاکرات کتنی بلند سطح پر ہو رہے ہیں؟ایسی باتیں چھوٹے افسروں کے علم میں نہیں ہوا کرتیں“۔۔۔ یہ جواب پاکستان کے سیاسی مزاج کی باطنی حرکات و سکنات اور برقیات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔عوام جان لیتے ہیں کہ کون کہاں کھڑا ہے؟ٹیکنالوجی کے جدید ترین دور میں عوام صرف ”آڈیو“پر اعتبار نہیں کرتے، صرف الفاظ نہیں سنتے آواز کے ساتھ تصویر کا تقاضہ کرتے ہیں،دعویدار سے ”ویڈیوز“ مانگتے ہیں۔کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں، کچھ لائن میں لگی ہیں، جلد یا بدیر سب دیکھ رہے ہوں گے۔لیکن عوام کو یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔اپنے بیوی بچوں کاخیال بھی نہیں رکھتے، اپنے کالے کرتوتوں سے انہیں بھی معاشرے میں رسوا کرتے ہیں۔ جب سیاست اس قدر غلیظ ہوجائے کہ اولاد بھی منہ چھپانے لگے تو عوام ایسی سیاست کو بچانے کے لئے اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے۔عوام کی حمایت اسے ملے گی جو عوام دوست سوچ کے حامل ہوں، عوام کی بھلائی کے لئے کام کرتے نظر آئیں۔چوری کھانے والے مجنوں نہ ہوں بوقت ضرورت بھوکی پیاسی لیلیٰ کا خیال بھی دل میں رکھتے ہوں۔اپوزیشن مانے یا نہ مانے تاحال وہ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔عوام اس کی کال پر گھروں سے نہیں نکلتے۔اتنی تعدادتو علاقے کے کونسلر کے بلانے پر بھی جمع ہو جاتی ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر دیکھی جاتی ہے۔اپوزیشن میں ملک کی سینئر ترین سیاسی قیادت بیٹھی ہے۔ایک سے زائد بار وزارت عظمیٰ بھی سنبھال چکے ہیں۔ تجربہ کار ہیں، فہم و فراست کے مالک ہیں،تمام نشیب وفراز سے گزرکر اس مقام تک پہنچے ہیں۔ انہیں اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے۔یہ محاسبہ معروضی (objective)ہونا چاہیے۔ذاتی یا خاندانی خواہشات کے تابع (subjective)ہر گز نہ ہو۔دو اور دو کو صرف اور صف چار مانا جائے۔پونے چار یا سوا چار کی ضد نہ کی جائے۔غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تاکہ بند گلی سے نکلنے کی کوئی تدبیر سامنے آئے۔فرسودہ نعرے ساڑھے تین سال کچھ نہیں دے سکے،یقین کر لیں فرسودہ نعرے آئندہ ڈیڑھ برس بھی کچھ نہیں دیں گے۔


