ڈی سی گوادر علماء کے خلاف مقدمات واپس لیں، سراج الحق

کوئٹہ:امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹرسراج الحق نے گوادر میں ڈی سی کی جانب سے صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ ودیگر علمائے کرام کے خلاف بار بار ایف آئی آردرج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کے مفاد میں انتظامیہ وحکومت سے تعاون کیا ہے باجماعت نماز ادائیگی پر ہدایت الرحمان بلوچ وعلمائے کرام کے خلاف مقدمات درج کرنا نامناسب ہے وزیراعلیٰ بلوچستان بلاجوازمقدمات کا فوری نوٹس لیں۔مقدمات درج کرنے سے اشتعال پیدا ہوگا جو حالات خراب کرنے کے مترادف ہے ضلعی انتظامیہ،علمائے کرام اور آئمہ کرام ملکر ضلع میں اتحاد ویکجہتی اور اتحاد کی فضابنالیں۔ڈی سی ایف آئی آرواپس لیکر علمائے کرام وآئمہ کرام سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔ڈی سی کو جماعت اسلامی کی دعوت وخدمت کی راہ میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیے علمائے کرام وآئمہ کرام اورضلعی انتظامیہ ملکر مساجد،مدارس کے مسائل وعبادات ودیگر معاملات کومل بیٹھ کر حل کریں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولاناعبدالحق ہاشمی سے فون پر گفتگومیں کیا مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہاکہ بدقسمتی سے ڈی سی وضلعی انتظامیہ معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کے بجائے دھونس دھمکی اورحکم دیکر عوام،علمائے کرام میں اشتعال پید اکررہے ہیں جس سے گوادر کے حالات خراب ہورہے ہیں باجماعت نماز سے لوگوں کو کوئی نہیں رکھواسکتا تاہم موجودہ صورتحال میں بات چیت ومذاکرات سے کشیدہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں مگر ڈی سی اس موڈ میں نہیں۔ڈی سی کے رویہ سے گوادرم کشیدگی،ہٹ دھرمی وپریشانی پیدا ہوئی ہے انتظامی آفیسرزعوام کے خادم کے بجائے عوام کو غلام سمجھ کر حکم چلارہے ہیں قبائلے علاقے میں فرعونیت وچوہدراہٹ،دھونس دھمکی سے مسائل حل کے بجائے بگڑ جاتے ہیں اور عوام وانتظامیہ کے درمیان دوریاں وخلیج پیدا ہوتی ہے جوعلاقے میں امن کے حوالے سے ٹھیک نہیں۔ڈی سی نے علاقے میں الگ ریاست بنارکھی ہے جو مناسب نہیں ملک بھر میں علمائے کرام سے مذاکرات کرکے مسائل حل کیے جاتے ہیں لیکن گوادرمیں علماء کودھکی دیکر باجماعت نماز سے رکھوایا جارہاہے جس کی وجہ سے کشیدگی میں روزبروزاضافہ ہورہے صوبائی حکومت نے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ گوادر ڈی سی کے خوف وہراس کی وجہ سے علاقے کی صورتحال روزبروزخراب ہورہی ہے اگر حالات بے قابو ہوگیے تو اس کی ذمہ داری براہ راست ڈی سی گوادر پر عائد ہوگی اس لیے حالات خراب ہونے سے پہلے ڈی سی کو ہدایت الرحمان بلوچ ودیگر علمائے کرام کے خلاف فی لفور مقدمات واپس لینے چاہیے تاکہ تمام مسائل افہام وتفہیم سے حل ہوجائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


