معاشرے میں جدید اور قدیم کی کشمکش جاری ہے

دنیا بھر میں معاشرے جدید اور قدیم کی باہمی مخاصمت اور دونوں اپنی بقاء کی جنگ میں مصروف ہیں۔پاکستان دنیا حصہ ہے،اس لئے یہاں جدید اور قدیم کے درمیان ایک نادیدہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان سے جاری ہے۔لیکن اسے اصل پس منظر میں دیکھا جارہا۔قدیم سوچ اپنے آلات ِ پیداوار کی قدامت کے دفاع میں مصروف ہے جبکہ آلات پیداوار کی جدت کاراستہ روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔پاکستان کو قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک بھاری بھرکم وسائل اور عددی لحاظ بڑا ہمسایہ ورثے میں ملا۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ برطانوی راج کے خاتمے پر اسی کے بطن سے جنم لیا تھا۔اسے اپنے ہمسایہ سے علیحدگی کے دوران ہی نامنصفانہ تقسیم کی بناء پر جنگ لڑنی پڑی، جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔بھارتی نیتاؤں نے جن میں مسلم دانشور بھی شامل تھے پاکستان کے دیر پا قائم رہنے پر شکوک وشبہات کا اظار کیا تھا، اور پیشگوئی کی تھی کہ یہ 25برس سے زیادہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا،اور سوئے اتفاق ایسا ہی ہوا۔اپنے قیام کے 24ویں برس اقتدار کی کشمکش کی بناء پر دو لخت ہوگیا۔اسے بھارتی حکمرانوں نے دوقومی نظرئیے کی شکست کہا اور دعویٰ کیا کہ آج دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہوگیا۔اس سانحہ کے تین سال بعد ہی بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دیا۔ اسے پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی سلامتی کے لئے ایک خطرہ سمجھا اور اپنی کمزور معیشت کو خاطر میں لائے بغیر ایٹم بم بنانے کا بڑا اعلان کردیا۔اس اعلان نے پاکستان کے لئے نئی مشکلات پیدا کر دیں۔امریکہ کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا کہ پاکستان اپنا فیصلہ واپس لے۔نئے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اپنی سیاسی بصیرت اور بین الاقوامی امور سے واقفیت خارجہ صورت حال کا درست استعمال کرکے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لا چکے تھے۔ اس وقت تک پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکال لیا تھا۔اپنی سیاسی اور معاشی کامیابیوں کی بناء پر امریکی دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس انکار کے بعد پاکستان بظاہر امریکہ کے کیمپ میں رہا، روس مخالف دس سالہ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔سال میں دو مرتبہ امریکی صدر پاکستان کو سرٹیفکیٹ جاری کرتے رہے کہ پاکستان ایٹم بم نہیں بنا رہا۔فون کال پر امریکہ کو دوست ہونے کا یقین دلایا۔پاکستان نے اس دوستی کی پاداش میں بھاری قیمت ادا کی۔ہمارے (نون لیگی) وزیر اعظم دہشت گردوں کواپنے احسانات یا د دلا کر پنجاب میں امن قائم رکھنے کی اپیلیں کیا کرتے تھے۔ بلوچستان میں ہزارہ قبیلہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کا مذہبی/ مسلکی بنیادوں پر خاص نشانہ تھا۔سب سے زیادہ جانی نقصان انہیں اٹھانا پڑا۔خودآرمی چیف(جو اس وقت صدر مملکت اور چیف ایگزیکٹو پاکستان بھی تھے) متعدد بار دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔غیرملکی کرکٹ ٹیموں کو بھی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔آرمی پبلک اسکول، پشاور پر حملہ دہشت گردوں کے خلاف سرکاری مزاحمت کا سبب بنا۔اس سے پہلے سویلین حکومت آل پارٹیز کانفرنسز میں مشاورت کر رہی تھی۔ امریکہ افغانستان پر ڈرون حملوں کے لئے پاکستان کی ایئر بیس استعمال کرتا رہا۔مگر افغانیوں کی نفرت پاکستان نے سمیٹی۔حیران کن حقیقت یہ ہے کہاس دوران جادوئی انداز میں افغان طالبان کے ساتھ بھی ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا رہا۔امریکی خفیہ اداروں کو بھی کابل سے انخلاء کے وقت علم ہوا کہ پاکستان نے مدد نہ کی تو امریکیوں کو بحفاظت کابل سے نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔اب امریکہ Do moreنہیں کہتا، ایئر بیس نہ ملنے پراس نے ہلکی پھلکی ناراضگی کا اظہار کیا، امریکی صدر جو بائیڈن کی فون کال نہیں آئی، مگر ان کی کابینہ اور اعلیٰ عسکری افسران اسلام آباد اور جی ایچ کیو سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ امریکی حیران ہیں کہ انتہائی راز داری سے پاکستان جیسا فرماں بردار ملک چین کے کیمپ میں کیسے جا پہنچا؟مگر انہیں اپنی بدسلوکی یاد نہیں، طاقت کے نشے میں پاکستان کو اپنا غلام سمجھ رکھا تھا۔جبکہ تبدیل شدہ عالمی منظر میں یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے بھارت بھی زیادہ دیر امریکی کیمپ میں اس کے فرنٹ مین کا کردار ادا نہیں کر سکے گا۔اس کی بنیادی وجہ جدید اور قدیم کی ازلی مخاصمت ہے۔صنعتی انقلاب چرخہ اور کھڈی کو میوزیم میں پہنچانے کا سبب بنا۔ٹریکٹر کی تیز رفتار کارکردگی پر فریفتہ کسان بیلوں کی جوڑی لئے ہل جوتنے کے لئے علی الصبح کھیتوں کی طرف جانا بھول گیاہے۔جنریشن نے ایک سے پانچویں جنریشن تک کا سفرجس تیزی سے طے کیا ہے،ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔جدیدیت کے اس حیران کن ماحول میں اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو 90کی دہائی میں لے جانے کاخواب دکھا کر اپنا گرویدہ بنا لے گا تو اس پر سوائے ترس کھانے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بعض مٹھی بھر افرادتھکی ہوئی سوچ کا بے جان جسم اٹھائے آڈیو، ویڈیو کے ذریعے عدلیہ اور عسکری قوتوں کوڈرادھمکا کر اپنے مطالبات منوانے کی جس فرسودہ مشق میں ایک بار پھر مصروف ہیں،انہیں ہر منصوبہ فائدہ مند ہونے کی بجائے الٹا پورس کے ہاتھیوں جیسے نتائج دینے لگا ہے۔گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس لندن کے حلف نامہ کی تصدیق کے بعد منظر سے غائب ہو گئے ہیں، عدالتی سمن وصول کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ان کا وکیل بیٹا کل تک اپنے والد کو (جسٹس رفیق تارڑ کی طرح)صدر مملکت بنتا دیکھ رہا تھا، اچانک نہ جانے کیوں اس نے ٹی وی چینلز پرامید بھرے انکشافات کرنابند کر دیا ہے۔امریکہ سے فرانزک تصدیق شدہ ویڈیو بھی مطلوبہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہی۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر میڈیا سیل چلانے،اربوں روپے کے اشتہارات من پسند میڈیا گروپوں کو جاری کرنے اور ناراض چینلز کے اشتہارات روکنے کی ذمہ داری قبول کرنی پڑی۔ان ماضی کے مزاروں کو اب بھی ہوش نہیں آئی، کہ آنکھیں کھول کر فضاء،اورمشرق سے ابھرتے ہو ئے سورج کو دیکھ لیں۔ یا کسی پل پر سے بہتے ہوئے پانی کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کریں کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ کر سمندر میں جا چکا ہے۔جدید نے قدیم کی جگہ سنبھال لی ہے،اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے،احسان مند ی کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔نئے نعرے کو استعارہ بنا کر عاجزانہ انداز میں دھیرے دھیرے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے،Track and Trace Systm کی کاٹ سے بے خبری کی قیمت بہر حال چکانی پڑے گی۔کھاد،چینی اور آٹے کی ہر بوری پر لگی مہر ملز سے دکان تک کے پورے سفر کی داستان سنائے گی۔انسانی زبان خاموش رہے گی،اعضاء گواہی دیں گے اور یہ سب کچھ اسی پاکستان میں رونما ہوگا،سب دیکھیں گے۔ اس لئے کہ قدامت اور جدیدیت کی جنگ میں ہمیشہ قدامت ہارتی ہے اورجدیدیت فتحیاب ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں