وفاقی حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے،عبدالقادر بلوچ

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے ملک میں فل الفور نئے انتخابات کروانے کی ضرورت ہے پوری حکومت غیر منتخب افراد کو ٹھیکے پر دے دی گئی ہے اگر یہی حکومت چلتی رہی تو ملک مسائل کے دلدل میں پھنس جائیگا، خان اعظم مشکل وقت میں ملکی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کی بجائے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر رہے ہیں،مودی کا ہندوستان میں کورونا وائرس مسلمانوں کی وجہ سے پھیلنے کا بیان اشتعال انگیز ہے جسے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں ہندوستا ن نے اگر کوئی شرارت کی تو اسے لوہے کے چنے چبانے پڑیں گے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو پارٹی کے صوبائی جنر ل سیکرٹری و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑکے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی سیکرٹری اطلاعات و سابق ڈٖپٹی میئر یونس بلوچ، صوبائی کوآرڈنیٹر میر گوہر خان مینگل، صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نصیر خان اچکزئی،سابق کونسلر نسیم الرحمن، کوآرڈنیشن سیکرٹری عبدالوہاب اٹل،پیٹرک ایم ایس سمیت دیگر بھی موجود تھے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ملک کو جس انداز میں چلایا جارہا ہے اس سے مستقبل روشن نہیں بلکہ ملک دلدل میں پھنستا ہوا نظر آرہا ہے اپوزیشن جماعتیں گاہے بگاہے حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے درست سمت دیکھانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ عوامی مسائل حل ہو سکیں لیکن حکومت نے اپنی سمت درست نہیں کی اور نہ ہی عوامی مسائل حل ہو رہے ہیں اس لئے ملک میں جمہوری طریقے سے حکومت کی تبدیلی ضروری ہوچکی ہے،جس پر طرح پی ٹی آئی ملکی معاملات کو چلا رہی ہے ایسے ملک چلانا مشکل ہوگیا ہے کابینہ کے اند ر ہر وزیر کا اپنا نظریہ اور نقطہ نظر ہے بقول حکومت کے اگر وہ عوامی مینڈیٹ لیکر آئی ہے تو وہ حکومتی نظام کو عوامی نمائندوں کے ذریعے چلائیں لیکن تمام اہم حکومتی کام ٹھیکے پر غیر منتخب افراد کو سونپ دئیے گئے ہیں حکومت کومعاونین خصوصی اور مشیروں کے ذریعے آؤٹ سورس کردیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم خان اعظم نے خود اپنی حکومت سے اعتماد ختم کردیا ہے اور حکومت ٹھیکے پر دے دی ہے جس حکومت پر اسکے سربراہ اور منتخب عوامی نمائندوں کا اختیار نہ ہو وہ نہیں چل سکتی مسلم لیگ(ن) حکومتی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اسی نتیجے پرپہنچی ہے کہ ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں اگر یہی حکمران حکمرانی کرتے رہے تو یہ ملک کو مصیبت میں ڈالیں گے اس وقت بھی مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ حکومت خود اسے روکنے میں ناکام ہے کورونا جیسی آفت کا مقابلہ ہم ایک ساتھ ہو کر کر سکتے تھے لیکن وزیراعظم اپوزیشن سے ہاتھ ملانا توہین سمجھتے ہیں وہ اپوزیشن کو چور، لٹیرے کہتے ہیں لیکن دو سال گزرنے کے باوجود وہ اپنے بغل بچہ نیب اور ایف آئی اے سے چور،لٹیروں کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کروا سکے اپوزیشن کو چور لٹیرے کہنے والے عمران خان خود بھی چور لٹیروں کے ساتھی ہیں آج ملک میں ہرطرف چینی اور گندم کے بحران کی رپورٹ کی بات چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کو اکھٹا کر نے کے لئے تیار نہیں ہیں شیخ رشید نے بھی کہہ دیا ہے وزیراعظم اپنی انا چھوڑ یں اور سب کو ساتھ لیکر چلیں انہوں نے کہا کہ قوم کو اللہ کے حضور معافی مانگنی چاہیے اور ملکر اس وباء سے بچاؤ کے لئے دعاگو ہونے کی ضرورت ہے اگر یہ وباء مزید بڑھی تو اسکے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہونگے جس کے لئے ہم کسی صورت بھی تیار نہیں ہیں


