سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی بل منظور کر لیا گیا، اپوزیشن کا احتجاج، نامنظور کے نعرے
کراچی:سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور بل نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔بل وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے پیش کیا۔سندھ اسمبلی کی جانب سے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے اعتراضات مسترد کیے گئے۔ اسپیکر نے بل متفقہ منظور کرنے کی رولنگ دے دی،بلدیاتی ترمیمی بل منظور ہونے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپس میں الجھ پڑے جبکہ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے رہے۔ پی ٹی آئی رہنما اور پیپلزپارٹی کے اویس قادر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اپوزیشن کی جانب سے بل کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔بل سے متعلق وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے ہیں جبکہ اپوزیشن کی تجاویز بل میں شامل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں میئر کو شریک چیئرمین کیا گیا ہے جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں میئر کو چیئرمین رکھا گیا ہے۔ اسی طرح، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ کا میئر بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا چیئرمین ہوگا۔وزیر بلدیات نے کہا کہ گورنر سندھ کے اعتراضات بلدیاتی بل پر نہیں تھے بلکہ تعمیرات سے متعلق آرڈیننس پر تھے۔صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بل سندھ کے عوام کے عین امنگوں کے مطابق ہے لیکن یقیناً بل میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس جو پہلے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن جمع کیا کرتی تھی اور دیتی کوکل کونس کو ہی تھی، ہم نے وہ ٹیکس جمع کرنے کا اختیار بھی براہ راست ٹاؤنز کو ہی دے دیا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ شور شرابہ کرنے کے بجائے ترمیمی بل کو پڑھنا چاہیئے تھا، ترمیم شور شرابہ کرکے شامل نہیں کی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کا حصہ سمجھو، وہ حالات پیدا نہ کرو کہ لوگ کچھ اور سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔انہوں نے اپوزیشن کو یہ بھی کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور تم ہمیشہ اقلیت میں رہو گے، سندھ کے فیصلے ہمیشہ ہم ہی کرتے رہیں گے۔


