کوئٹہ، منافع خور سرگرم، پرائس کنٹرول کمیٹی غیر فعال

کوئٹہ:صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پرائس کنٹرول کمیٹی بدستورغیرفعال ہے،متعلقہ حکام نے بھی عرصہ دراز سے خاموشی سادھ لی ہے،رمضان المبارک سے قبل مارکیٹ میں اشیا خوردونوش سمیت روزمرہ ضرورت کے دیگر چیزوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں،آٹا،چینی اوردالوں کے نرخ میں ہوشربااضافے سے متوسط طبقے کی قوت خرید جواب دے گئی ہے، لوگ مشکلات سے دوچارہیں،عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کے حکام سے اپیل کی کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرکے اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لائیں۔تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک سے قبل کوئٹہ شہر میں منافع خور مافیا سرگرم عمل ہوگیا ہے،مارکیٹ میں اشیا خوردونوش کی قیمتوں کو پرلگ گئے ہیں،100سے 150روپے اضافے کے بعدمارکیٹ میں 50کلوآٹے کاتھیلا 24سو روپے کاہوگیا،چائے کی پتی فی کلو 8سو روپے سے بڑھا کر 9سور وپے، 2سور روپے اضافے کے بعد25کلوچاول کاپارسل 22سوروپے جبکہ کھجور کی قیمت میں بھی فی کلو 40سے 50روپے کااضافہ کردیاگیا ہے،چھولے اورمختلف اقسام کے دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیاگیا۔ہوشربا مہنگائی کے باعث غریب اورمتوسط طبقے کی قوت خرید جواب دے گئی،لوگ شدیدمالی مشکلات سے دوچارہوگئے ہیں،عوامی حلقوں نے تشویش کااظہارکرتے کہا کہ صوبائی حکومت اورضلعی انتظامیہ کے حکام بالا محض بندوبانگ دعووں تک محدودہوگئے ہیں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد سے قبل ہی شہر میں منافع خور سرگرم ہوگیا ہے اوردوہاتھوں سے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں،انہوں نے بتایاکہ لاک ڈاؤن اور بیروزگاری سے پہلے ہی غریب افراد کی کمر ٹوٹ چکی ہے رہی سہی کسرمنافع خور مافیا نے پوری کردی جبکہ متعلقہ حکام نے مکمل خاموشی سادھ لی ہے۔انہوں نے وزیراعلی بلوچستان ودیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ ماہ مبارک کے دوران منافع خورمافیا کیخلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے سستے داموں اشیا خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


