بلوچستان میں صحت کے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں،بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ:بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں بلوچستان کے واحد ٹراما سینٹر سول ہسپتال کوئٹہ میں سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ٹراما سینٹر میں لائے گئے ایمرجنسی حادثات کے مریضوں کو بجائے طبی امداد علاج کے ان کو نجی ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے بیان میں کہا کہ گزشتہ دنوں سبی کے وکیل سانول خان مری اور سید نوید شاہ کا دشت کے قریب حادثہ ہوا تھا جسے تشویش ناک حالات میں ٹراما سینٹر لایا گیا لیکن وہاں پر موجود ہسپتال کے عملہ نے انتہائی تشویش ناک حالات میں زخمی وکیل سانول خان مری کو ٹراما سینٹر سے باہر پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرنے کا کہا اور کہا گیا کہ ٹراما سینٹر میں وینٹی لیٹر کی سہولت موجود نہ ہے جسکی وجہ شدید زخمی حالت میں وکیل کو نجی اسپتال میں داخل کرانا پڑا بیان میں کہا کہ ٹراما سینٹر کو فعال بنانے کیلئے حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کئے لیکن آج بھی ٹراما سنٹر میں وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہے اور نہ ہی ڈاکٹر اور اسٹاف موجود ہیں جس کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوجاتے ہیں بیان میں کہا کہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کا یہی حال ہے تو بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا بیان میں کہا کہ بلوچستان میں صحت کے سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز اموات ہوتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر میں داخل زخمی وکیل کو ٹراما سینٹر سے نکالنے کا تحقیقات کرایا جائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائے بصورت دیگر بلوچستان بار کونسل قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں