جام کمال کے حکومت کو ختم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا، سردار اخترمینگل

خاران :بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا مسلہ آج سے نہیں بلکہ 2003 سے ارہا ہے اس کو آسٹریلین کمپنی کو لیز پر دیا گیا تھا جام یوسف کے پہلے دور حکومت میں سیندک کا معاہدہ کیا گیا تھا ان خیالات کا اظہار انھوں نے خاران میں مختصرا دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا اس موقع پر پارٹی کے دیگر رائنما بھی موجود تھے انھوں نیکہا کہ جام کمال خان کے دور حکومت میں بلوچستان کو ریکوڈک میں 10 فیصد شئیر رکھا گیا تھا اب جبکہ بلوچستان میں قدوس بزنجو کے حکومت نے 10 فیصد کے بجائے 25 فیصد شئیر رکھنے کر آمادہ ہیں لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی کو 50 فیصد شئیر سے کم کسی بھی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ بلوچستان ہمارا،وطن اور سرزمین ہیں بلوچستان کے عوام آج بھی کسمپرسی کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پورے صوبے میں عوام زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں کئی کئی علاقوں میں صحت۔تعلیم۔پانی اور سڑک تک نہیں ہیں خاران بھی بلوچستان کا حصہ ہے اس میں کوئی شک نہیں گزشتہ کئی ادوار سے اس علاقے سے منتخب ہونے والے نمائندوں چائے وزیر یا مشیر رہے ہیں جو کسی نہ کسی طرح سے حکومت کا حصہ دار رہے ہیں بلوچستان بلکہ خاران کے عوام کا مشکور ہیں جنھوں نے جنرل الیکشن کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کرایا لیکن آج بھی پرانے نمائندوں کے اثرات ابھی بھی موجود ہیں سابق صوبائی حکومت نے خاران سے منتخب ہونے والے نمائندے نہیں بلکہ بلوچستان سے منتخب عوامی نمائندوں کے فنڈز روکے ہوئے تھے بدقسمتی سے سابق صوبائی حکومت نے منتخب نمائندوں کے بجائے غیر منتخب لوگوں کے تجویز پر فنڈز جاری کئے تھے اس بنا پر ہم مجبور ہوکر جام کمال خان کے حکومت کو ختم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا انھوں نیکہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سے یہی امید رکھا ہے کہ وہ منتخب عوامی نمائندوں کے تجاویز پر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرے تاکہ صوبے کے پسماندگی کے خاتمے میں مدد مل سکے گزشتہ تین سال سے پی ایس ڈی پی میں غیر منتخب لوگوں کو فنڈز دئیے گیے تھے غیر منتخب لوگوں کو 40 کروڑ جبکہ منتخب عوامی نمائندوں کو صرف 13 کروڑ روپے ریلیز کئیے تھے وہ بھی منتخب عوامی نمائندوں کو بمشکل 6 کروڑ روپے ریلیز کئیے گئے جو کہ ظلم اور ناانصافی کے مترادف تھے اگر سابق صوبائی حکومت منتخب عوامی نمائندوں کو فنڈز دئیے جاتے تو صوبے کے عوام کی تقدیر بدل سکتی انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی پارٹی میں اختلافات جمہوری حق ہے جس کا ایک فورم ہوتا ہے اپنے اختلافات اس فورم میں اٹھایا جاسکتا ہیں جس کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہیں اگر اختلافات فورم کے بجائے میڈیا میں دئیے گئے تو ہر پارٹی کا اپنا پالیسی ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں