ایٹمی جنگ نہ کرنے کا معاہدہ
پانچ عالمی ایٹمی طاقتوں امریکہ، روس،برطانیہ، چین اور فرانس نے جو ویٹو پاور بھی رکھتی ہیں، اتفاق کیا ہے کہ ایٹمی جنگ کبھی نہیں جیتی جا سکتی، اس کے دور رس (اور تباہ کن)نتائج نکلتے ہیں۔لہٰذا رکن ممالک ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی جنگ نہیں لڑیں گے۔یاد رہے دنیا میں صرف ایک ملک جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر 1945میں ایٹم بم گرائے گئے تھے اور ان کے بھیانک نتائج برآمد ہوئے تھے۔انسانو ں اور جانداروں کی بہت بڑی تعدادفوراً ہلاک ہو گئی تھی اور جو ہلاک ہونے سے بچ گئے تھے وہ اذیت ناک بیماریوں کا شکار ہوئے اورانہوں نے انتہائی تکلیف دہ زندگی بسر کی۔تابکاری اثرات کے باعث درخت بھی جھلس کر تباہ ہو گئے اور زمین بھی طویل عرصے تک اگانے کے قابل نہیں رہی۔اس وقت امریکہ تنہا ایٹمی طاقت تھا اس لئے اسے جوابی ایٹمی حملے کا خوف نہیں تھا۔آج صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔معاہدہ کرنے والے پانچ ممالک کے علاوہ بھارت، پاکستان اور شمالی کوریابھی ایٹمی طاقت ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں عمومی تأثر ہے کہ اس نے امریکی مدد سے غیر اعلانیہ ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ایران کو ایٹمی صلاحیت سے روکنے کے لئے امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اپنی ایٹمی صلاحیت برقراررکھتے ہوئے پانچ ملک کیسے دوسروں کوایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روک سکتے ہیں؟ جس اصول یا قانون کے تحت یہ پانچ ملک اپنی ایٹمی صلاحیت ختم نہیں کرنا چاہتے اسی اصول کے تحت دوسرے ملکوں کو بھی یہ حق دیا جانا چاہیئے،دفاع کاحق ہر ملک کو حاصل ہے، یہ حق چند ملک اپنی عسکری قوت کے بل پر نہیں چھین سکتے۔اس کا حل یہ ہے کہ دنیا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے متفقہ طور پر طے کرے کہ کسی ملک کے پاس ایٹم بم نہ ہو۔جو ملک ایٹم بم بنا چکے ہیں ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے ایٹم بم خود ہی تباہ کر دیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ پانچ ملک یہ تباہ کن اسلحہ بناتے رہیں، اور باقی 188ملکوں کویہ اسلحہ بنانے کی اجازت نہ ہو،یہ پانچ ملک جب چاہیں انہیں دبوچ لیں۔جیسا کہ ماضی قریب میں امریکہ نے اپنے اتحادی نیٹو افواج کے ساتھ مل کرخلیجی ریاستوں کو تباہ و برباد کردیااوران کے معدنی وسائل انتہائی بیدردی سے لوٹ لئے۔افغانستان میں 20سال جنگ لڑی۔افغانستان کے ہمسایہ ملکوں سے پوچھا:”ہمارے دوست ہو یا دشمن؟“پاکستان سمیت سب نے بلند آواز سے دوست ہونے کا اعلان کیا۔بھارت نے فرنٹ لائن اتحادی بننے کی پیشکش کی۔20سال تک لگاتار اقتصادی اور جانی نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان نے اس ”دوستی“ کوجاری رکھنے سے انکار کیا،توامریکہ ناراض ہوگیا، اور جس ملک سے امریکہ ناراض ہو اسے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا کرنا پڑتاہے، پاکستان سامنا کر رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کی 95فیصد شرائط پر عملدرآمد کے بعد بھی اس کا نام گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا۔مقصد صرف ایک ہے؛ امریکہ کومطلوب ہوائی اڈاہ فراہم کیا جائے تاکہ خطے کے دیگر ممالک پر نظر رکھ سکے۔انہیں مرعوب کر سکے۔اور ایک بار پھر ہمسایہ ملکوں کے عتاب کا نشانہ بنے۔ واضح رہے پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔علاوہ ازیں امریکہ نے بیک وقت روس اور چین سے مخاصمت مول لے رکھی ہے۔پاکستان گزرے برسوں میں سی پیک کا حصہ بن چکا ہے۔اپنی معیشت اس خطے کے ممالک سے جوڑ لی ہے۔ ایران اور افغانستان بھی روس اور چین کے قریب آگئے ہیں۔یہ قربت امریکی اقدامات کا منطقی نتیجہ ہے۔ایران اور افغانساتن گزشتہ چاردہائیوں میں جن حالات اور مشکلات سے دو چار رہے وہ امریکہ کے پیداکردہ ہیں۔چالیس سال انسانی عمر کا بڑا حصہ ہے۔امریکی بمباری دیکھنے والی دو نسلیں جوان ہو جاتی ہیں۔انہیں امریکہ مخالف جذبات رکھنے کی بجائے امریکہ کو مسیحا ماننے کے لئے آمادہ کرنا ممکن نہیں۔وہ خود امریکی دشمنی کے عینی شاہد ہیں۔مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے معصوم بچوں کی لساشیں اٹھائی ہیں۔ جنازوں پر بم گرتے دیکھے ہیں۔اپنے پیاروں کی خون میں لت پت لاشیں اٹھاکر قبر میں تدفین کے لئے لیجانے کا دکھ آسانی سے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے جوانوں کے تابوت اور زخمیوں کو درد سے کراہتے ہوئے دیکھ کر جنگ بندی پر مجبور ہوگئے تھے، حالانکہ مرنے اور زخمی ہونے والے امریکیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔واضح رہے افغان اور پاکستانی متأثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔30لاکھ سے زائد افغان پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔ایران اوریورپی ممالک میں بھی ان کی تعدادلاکھوں میں ہے۔اتنی بڑی تعداد میں انسانی نقل مکانی ایک المیہ سے کم نہیں۔اپنے ہنستے بستے گھروں سے بیدخل ہو کر در بدر مارے مارے پھرناآسان نہیں،یہ سب غصے میں ہیں، امریکی اقدامات کی تعریف نہیں کرتے ہیں۔ اپنے ان حکمرانوں کو بھی کوستے ہیں، جن کی عاقبت نااندیشی نے انہیں یہ برے دن دکھائے ہیں۔ پانچوں ویٹوپاورزدنیا سے بدامنی ختم کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچیں۔جنگوں کی سرپرستی سے باز آئیں۔دنیا امن، ترقی اور خوش حالی کی متمنی ہے۔ اس پر جنگ مسلط نہ کی جائے۔امریکہ کو اس ضمن میں زیادہ دانشمندی سے کام لیناہوگا۔ یہ آگ اسی کی بڑھکائی ہوئی ہے۔امریکی تھنک ٹینک تسلیم کریں کہ بم برسا کر وہ دنیا کو اپنا غلام نہیں بنا سکے۔یہ پالیسی انہوں نے 1945میں بنائی تھی۔عارضی کامیابیوں کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔اس کا آغاز جاپان کے دوشہروں پرایٹم بم گرا کرکیا گیا تھا۔ آج دیگر یار ایٹمی طاقتوں کے ساتھ مل کر معاہدے کرنے کی مجبوری لاحق ہے کہ ہم میں سے کوئی ایٹم بم گرانے میں پہل نہیں کرے گا۔ کاش امریکی تھنک ٹینک جاپان پر ایٹم بم گرانے سے پہلے سوچ لیتے۔دنیا ایسے ہولناک مناظر دیکھنے سے بچ جاتی۔امریکہ یہ نہ بھولے کہ آگ کے شعلوں سے امریکہ خود بھی زیادہ دیر نہیں محفوظ رہ سکتا۔امریکی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کا حملہ اس جانب ایک پیغام ہے۔ دہشت گردی کی ابتداء ایسے حملوں سے ہوتی ہے۔اگر یہ حملے دوسرے ملکوں میں کرائے جا سکتے ہیں تو امریکہ میں کیوں نہیں ہو سکتے؟بزرگ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں جیسابوؤگے، وہی کاٹوگے۔گندم بوؤگے، گندم کاٹو گے، جو بوؤگے، جو ہی کاٹوگے۔دنیامیں دہشت گردی کے منصوبے امریکی تھنک ٹینک بنائیں گے تو انہیں بھی ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنا چاہیئے کہ جواباً دنیا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گی۔میزائل کہیں سے پھینکا جا سکتا ہے۔کہیں بھی گر سکتا ہے۔ جہاں گرے گاتباہی مچائے گا۔لاشیں گریں گی، لوگ زخمی ہوں گے۔اچھا ہوا کہ پانچ عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا ہے ایٹمی جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوسکتی،لیکن صرف تسلیم کرنا کافی نہیں، اس سے بچنے کے لئے سنجیدہ حکمت عملی درکار ہے۔


