سی پیک کے تحت گوادر میں اہم میگا پراجیکٹس رواں سال مکمل ہوں گے

اسلام آباد :چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کئی میگا پراجیکٹس رواں سال مکمل ہو ں گے، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے رواں سال اپریل، 300 بستروں پر مشتمل پاک چین دوستی ہسپتال رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا، گوادر شہر کے اندر پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کا کام بھی رواں سال مکمل ہونے کی امید ہے۔گوادر پرو کے مطابق گوادر میں متعدد میگا پراجیکٹس جاری ہیں جن میں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کئی میگا پراجیکٹس رواں سال مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس سال مکمل ہونے والے کچھ میگا پراجیکٹس میں 300 بستروں پر مشتمل پاک چین دوستی ہسپتال شامل ہے۔ ہسپتال پر کام رواں سال دسمبر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ دوسرا منصوبہ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے ہے جو گوادر پورٹ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے جوڑے گا۔ چھ رویا ایکسپریس وے رواں سال اپریل تک مکمل ہو جائے گا۔گوادر پرو کے مطابق تیسرا اہم منصوبہ شہر کی مستقبل کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے قریبی ڈیموں سے گوادر شہر کو پانی کی فراہمی ہے۔ اس مقصد کے لیے سواد ڈیم سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ 67 کلومیٹر طویل پائپ لائن روزانہ 5 ملین گیلن پانی فراہم کرے گی۔ گوادر شہر کے اندر پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کا کام بھی رواں سال مکمل ہونے کی امید ہے۔ انقرہ کور ڈیم پر بھی 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جو یومیہ 2.7 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا۔ شادی ڈیم پر بھی زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ جلد ہی بندرگاہی شہر کو تقریباً 2.5 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ مجموعی طور پر یہ تینوں ڈیم روزانہ تقریباً 10 ملین گیلن پانی فراہم کریں گے۔ سیکرٹری پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ سپیشل انیشیٹوز عبدالعزیز عقیلی اور چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ینگ شی اونگ کی مشترکہ صدارت میں گوادر پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے 6ویں اجلاس کے مطابق حکومت پاکستان گوادر میں تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون سے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ ان منصوبوں میں گوادر کو بجلی کے قومی گرڈ سے منسلک کرنا،گوادر شہر کو قریبی ڈیموں سے پانی کی فراہمی، گوادر یونیورسٹی کا قیام اور گوادر سیف سٹی پراجیکٹ اور سماجی و اقتصادی ڈومین میں کچھ دوسرے منصوبے شامل ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گوادر فری زون فیز ون نامی منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جبکہ 2221 ایکڑ رقبے پر محیط بڑے فیز II پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری سے گوادر ایک اعلیٰ ترین ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ گوادر پورٹ اور فری زون میں تمام ترتیب دیئے گئے اور جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبے 2025 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں